Type to search

انصاف تجزیہ فيچرڈ معیشت

سزا کے بغیر 460 ارب روپے کی پیشکش کا قبول ہونا ریاستی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے

ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کی 460 ارب روپے قسطوں میں ادا کرنے کی پیشکش کا قبول ہونا ہمارے نظام کی طاقت ور لوگوں کو ٹھوس سزا دینے میں ناکامی اور کمزور عدالتی نظام کی طرف روز روشن کی طرح نشاندہی کر رہا ہے۔ اور یہ بھی ایک بار پھر عیاں ہو گیا ہے کہ بڑا جرم کرنے والے اپنا مفاد چند ہزار لوگوں کے معاشی مفاد سے جوڑ لیتے ہیں تا کہ جب ان کے گناہ سے پردہ اٹھے تو ان چند ہزار لوگوں کی معاشی بقا کی خاطر ریاست طاقت ور پر بھی ہاتھ نہ ڈال سکے۔

امید تو یہ تھی کہ جب اعلی ترین عدالتی ادارے کی سطح پر اس قدر سنجیدہ نوعیت کے معاشی اور ریئل اسٹیٹ گھپلے کی نشان دہی ہوئی تو معاشی محاسبے کے ساتھ ساتھ قانونی گرفت بھی ہوتی۔ دولت یا  ڈیل اتنا بڑا جرم کرنے کا جواز ہرگز نہیں ہو سکتی۔

وو ملک جہاں غربت گزشتہ سات دہایوں سے آسمان کو چھو رہی ہو، وہ ملک جہاں پٹرول کی قیمت میں ایک یا دو روپے اضافے سے لاکھوں گھرانوں کے چولہے بجھ جاتے ہوں، وو ملک جہاں آدھی آبادی آج بھی کچے گھروں میں رہنے پر مجبور ہو یا پھر بے گھر ہو اور وہ ملک جس کی صنعتیں اور کاروبار میں دولت کی ریل پیل اس لیے نہ ہو سکے کیوں کہ ساری دولت ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں جھونک دی گئی ہو، وہاں یہ جرم قابل معافی ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ڈیل جرم کے محاسبے کا نعم البدل ثابت ہو سکتی ہے۔

روشنیوں کے شہر کراچی میں دن کے اجالوں میں ہونے والا یہ تاریک جرم ہماری ریاست اور انصاف کے اداروں کے لیے کئی سبق رکھتا تھا لیکن افسوس یہ سارے سبق 460 ارب روپے کی دھول میں اڑ گئے۔

یہ غریب عوام کی زمین ہی تھی جس کی قیمت قسطوں میں واپس کرکے کوئی احسان نہیں کیا جائے گا لیکن جو عظیم جرم سرزد ہوا تھا، اس کا تدارک کرنے کے لیے کسی قانونی محاسبے کے عمل کا آغاز نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیں: تاریخ ثاقب نثار کو کن الفاظ میں یاد رکھے گی؟

اور اب معاشی جرم کرنے والے کم از کم اس تسلی کے ساتھ اپنی زندگیوں سے لطف اٹھا سکتے ہیں کہ کبھی شاذ و نادر پکڑ ہوئی بھی تو صرف رقم واپس کر کے باقی جگہوں سے لوٹی دولت پر زندگی سکون سے گزاری جا سکتی ہے اور کلین چٹ بھی مل جائے گی۔ اور صرف سائیکل چور، موبائل چور، چھوٹے قرضوں کی ادایئگی میں ناکامی یا محلے کی دکان سے چوری کرنے والے ہی جیلوں میں سڑیں گے۔

اور بڑے جرم کرنے والے نامور وکیلوں کے قندھوں پر بندوق رکھ کر ہمیشہ ریاست کا چہرہ چھلنی کرتے رہیں گے۔

Tags:
حسن نقوی

مصنف نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں صحافت کے طالب علم ہیں۔ وہ متعدد انگریزی اور اردو اخبارات اور جرائد میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں لال مسجد آپریشن پر ایک انویسٹی گیٹیو سٹوری کی ہے۔

  • 1

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *