Type to search

انسانی حقوق فيچرڈ

کنول اور کیچڑ

وہ معصوم، تازہ کلی جیسی، میرے پہلو میں تھی اور سامنے ساس پوتا نہ ہونے کی وجہ سے کچھ روکھی اور روٹھی ہوئی بیٹھی تھیں۔ اعجاز، میں جانتی تھی اندر سے خوش ہیں مگر ماں کے سامنے اپنی بچی کی خوشی دبائے اِدھر اُدھر بلاوجہ مصروف دکھائی دینے کی کوشش میں تھے۔ مگر میں خوش تھی۔ میرے گھر کنول کھلا تھا۔ ہم نے اس کا نام کنول رکھا تھا۔

میں نے کوئی دنیا نہیں دیکھ رکھی۔ ایک کچے گھر سے دوسرے کچے گھر تک کا سفر، میری دنیا تھا۔ اس چھوٹی سی دنیا میں کنول سے خوبصورت کوئی شے دیکھی ہی نہیں تھی۔ شادی کے دس ماہ بعد کنول ہمارے گھر کھِلی تھی۔

ہم خوش تھے۔ اعجاز بہت پیار کرتے تھے کنول کو۔ دادی بھی آہستہ آہستہ پگھل سی رہی تھیں۔ کنول تھی ہی بہت خوبصورت۔ بہت کم روتی تھی، ہر وقت منہ سے اپنی ہی زبان میں بولتی رہتی، ہنستی بہت کھل کے تھی۔ ساس اکثر کہا کرتی تھیں کہ اس کی ہنسی میں ڈھول بجتے ہیں، اور میں جانتی تھی کہ ڈھول کی تھاپ میری ساس کو کتنی پسند تھی۔

وقت، مٹھی میں ریت جیسا نکلتا جاتا ہے۔ کنول اب پانچ سال کی ہو چکی تھی اور سکول جانا شروع کر چکی تھی۔ جب وہ دو چوٹیاں کیے اچھلتی کودتی سکول جاتی تو میری چھوٹی سی دنیا ناچنے لگتی۔

اب سارا دن اسی کے گرد گھومتا تھا۔ اسی کے ناشتے سے میرا دن شروع ہوتا اور اس کا ماتھا چوم کے لٹانے تک رات ہو جاتی۔

پھر اس دن دوپہر کے تین بج گئے مگر کنول گھر نہ آئی۔ میں خود محلے کا ہر وہ دروازہ کھٹکھٹا چکی تھی جہاں کنول کے سکول کے بچے تھے۔ سب گھر آ چکے تھے۔ بقول رابعہ کے، جو ہمارے گھر سے دو گلیاں دور ہی رہتی تھی، کنول گھر کی طرف ہی آئی تھی۔

میں سارے محلے میں روتی پھر رہی تھی، ساس مجھے تھامے گھر لے آئیں، اعجاز بھی آ چکے تھے، جھوٹی تسلیاں دے کے ڈھونڈنے نکلے۔ میں بھی ساتھ ہی نکل پڑی۔

ہر جگہ ڈھونڈا، سکول پہنچے۔ کسی جگہ نہیں تھی۔ سارا محلہ ڈھونڈ رہا۔ سارے گاؤں میں ڈھونڈ رہے تھے مگر کنول نہیں تھی۔ کنول نہیں مل رہی تھی۔ میری سانسیں میری دھڑکن سے نہیں مل رہی تھیں۔ میری چھوٹی سی دنیا زلزلوں کی زد میں تھی۔

تبھی چاچے رفیقے کا لڑکا دوڑتا آیا اور جانے اس نے اعجاز کے کان میں کیا کہا کہ اعجاز نے سَر پٹ گاؤں کے باہر قبرستان کی طرف دوڑ لگا دی۔ میں چیختی پیچھے دوڑ رہی تھی مگر اعجاز بجلی کی طرح دوڑ رہے تھے۔

قبرستان کے پاس ہی کوڑے کا ڈھیر تھا، جہاں سارے اپنے اپنے گھر کا کوڑا پھینکا کرتے تھے۔ میں دوڑتی وہاں پہنچی۔ سامنے کوڑے کے ڈھیر پہ میری کنول پڑی تھی۔ میں چیختی اس سے لپٹ گئی۔ میں اسے چومے جا رہی تھی۔ اس کے سکول یونیفارم کا نچلا حصہ خون سے بھرا تھا۔ وہ صرف چھے سال کی تھی۔ چھے سال کی معصوم بچی۔ ہوس مٹانے کے بعد گلا دبا کے مار دی گئی۔

کنول کی لاش کوڑے کے ڈھیر جیسے معاشرے پہ پڑی تھی۔

کنول جیسے پھولوں کی لاشیں اس گندگی کے بدبودار کیچڑ میں تیر رہی ہیں جسے ہم چھاتی پھلا کے "ہمارا معاشرہ” کہتے ہیں۔

(ادارتی نوٹ: فلاحی ادارے ’ساحل‘ کی اگست 2018 میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 12 واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔)

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *