ملزمان نے علی گنڈاپور اور دیگر کی ایما پر جی ایچ کیو پر حملے کا اعتراف کیا، عدالت میں بیان

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے روبرو 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو پیش کیا گیا، اس موقع پر عمر ایوب، شبلی فراز، فواد چوہدری، کنول شوزب سمیت درجنوں ملزمان عدالت میں پیش ہوئے،2 گواہوں کے بیانات قلمبند، مجموعی طور پر 17 گواہوں کی شہادت ریکارڈ ہو چکی ہے

07:07 PM, 12 Feb, 2025

نیوز ڈیسک

جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دوران سب انسپکٹر نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے علی گنڈاپور اور دیگر کی ایما پر جی ایچ کیو پر حملے کا اعتراف کیا۔ عدالت میں 2 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ مقدمے میں مجموعی طور پر 17 گواہوں کی شہادت ریکارڈ ہو چکی ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے روبرو 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو پیش کیا گیا، اس موقع پر عمر ایوب، شبلی فراز، فواد چوہدری، کنول شوزب سمیت درجنوں ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت 2 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ اٹک جیل میں ملزمان کی شناخت کرنے والے مجسٹریٹ محمود عالم کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔مجسٹریٹ محمود عالم نے ساڑھے 300 صفحات پر مشتمل ملزمان کی شناخت پریڈ کی رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی ۔

راولپنڈی پولیس کے سب انسپکٹر احمد یار کا بیان بھی قلم بند کرلیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نے شہریار آفریدی اور علی امین گنڈا پور کی ایما پر جی ایچ کیو پر حملے کا اعتراف کیا۔گرفتار ملزمان نے بیان دیا کہ دونوں پی ٹی آئی رہنماؤں نے انہیں جی ایچ کیو جانے کا اشتعال دلایا اور اکسایا۔

 سب انسپکٹر احمد یار نے بیان میں کہا کہ 9 مئی کو علی امین گنڈاپور اور شہریار آفریدی فیض آباد کی جانب سے مظاہرین کو لیڈ کرتے ہوئے جی ایچ کیو کی جانب آئے، ملزمان نے اپنے زیر استعمال موبائل فون سے پارٹی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات سنے تھے۔

سماعت کے دوران ملزمان سے برآمد موبائل فون، پٹرول بم، ڈنڈے، جلے ہوئے ٹائر اور ان کی راکھ بھی بطور ثبوت عدالت پیش کی گئی جبکہ سب انسپکٹر احمد یار نے اپنی شہادت کے دوران 38 ریکوری میمو بھی عدالت میں پیش کیے۔

بعد ازاں عدالت نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت پر مقدمے کے مدعی سب انسپکٹر ریاض بطور گواہ عدالت پیش ہوں گے جبکہ مقدمے میں مجموعی طور پر 17 اگواہان کی شہادت ریکارڈ ہو چکی ہے۔

مزیدخبریں