ایک طرف حکومت چترال کے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ آج بھی دور دراز علاقوں کے لوگ بہتر سڑکوں، صحت کی سہولیات، صاف پینے کے پانی اور سیلاب سے تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے منتظر ہیں۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ دوسری طرف حکومت سے وابستہ بعض سیاسی شخصیات معدنیات اور ذاتی و تجارتی مفادات کے نام پر چترال کے نازک قدرتی ماحول کو مزید خطرات سے دوچار کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے موسمی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، اچانک سیلاب، طغیانی اور پہاڑوں سے زمین و پتھروں کے کھسکنے جیسے واقعات چترال کے عوام کے لیے مسلسل خطرہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ چترال کو قدرتی آفات سے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اور سنجیدہ اقدامات کرتی، لیکن اس کے برعکس معدنیات کے نام پر بڑے پیمانے پر کان کنی کے اجازت نامے جاری کیے جا رہے ہیں۔
یہ پالیسی عوامی تحفظ سے زیادہ حکومتی ترجیحات اور بعض بااثر مفادات پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ جب ایک حکومت اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات اور قدرتی آفات سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو، لیکن اسی دوران ایسے فیصلے کرے جو پہلے سے خطرات میں گھرے علاقے کو مزید غیر محفوظ بنا دیں، تو اسے ترقی نہیں بلکہ عوام کے مستقبل کے ساتھ کھیل کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
چترال کا قدرتی ماحول ایک نازک توازن پر قائم ہے۔ پہاڑوں میں بڑے پیمانے پر کھدائی، دھماکے اور بھاری مشینری کے استعمال سے زمین اور پہاڑوں کی قدرتی ساخت متاثر ہو سکتی ہے۔ بارود کے دھماکوں، مسلسل کھدائی اور بھاری مشینری کے استعمال سے پہاڑی ڈھلوانیں کمزور ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی زمین کھسکنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں، غیر محتاط سرگرمیاں مزید خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔
ایک طرف مقامی آبادی ان بنیادی ضروریات کے لیے آواز اٹھا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف معدنی وسائل کے استعمال اور کان کنی کے اجازت ناموں میں اضافہ عوامی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ معاشی ترقی اور معدنی وسائل کا استعمال یقیناً کسی بھی علاقے کی ترقی میں کردار ادا کر سکتا ہے، لیکن ایسی ترقی مقامی لوگوں کی زندگیوں، ان کی زمینوں، پانی کے ذرائع اور قدرتی ماحول کو خطرے میں ڈال کر حاصل نہیں کی جانی چاہیے۔
چترال میں آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک اور دیگر فلاحی و بین الاقوامی اداروں نے کئی دہائیوں سے قدرتی آفات سے نمٹنے، مقامی آبادی کو ہنگامی حالات کے لیے تیار کرنے اور ماحول کے تحفظ کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کیا ہے۔ ان کوششوں کا بنیادی مقصد لوگوں کو سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات سے محفوظ رکھنا اور علاقے میں دیرپا ترقی کو فروغ دینا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ حکومت کی پالیسیوں میں بھی انہی خطرات اور زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے۔ اگر ایک طرف علاقے کو قدرتی آفات سے محفوظ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر کام ہو رہا ہو اور دوسری طرف بغیر مکمل منصوبہ بندی کے ایسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے جو ماحول کو مزید خطرات سے دوچار کر سکتی ہوں، تو یہ ایک سنجیدہ تضاد ہوگا۔
چترال کو اس وقت اندھا دھند معدنیات نکالنے کے بجائے ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جو قدرتی وسائل کے استعمال اور ماحول کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھے۔ کسی بھی کان کنی کے منصوبے کو اجازت دینے سے پہلے اس کے ماحول، پانی، زمین، گلیشیئروں اور مقامی آبادی پر ممکنہ اثرات کا غیر جانبدار اور مکمل جائزہ لیا جائے۔
مقامی لوگوں، دیہی نمائندوں اور متعلقہ ماہرین کو فیصلوں میں شامل کیا جائے۔ جن لوگوں کی زمین، پانی اور مستقبل ان فیصلوں سے متاثر ہوگا، ان کی رائے کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ گلیشیئروں، ندی نالوں، پانی کے ذخائر اور رہائشی علاقوں کے قریب کان کنی کی سرگرمیوں کے بارے میں سخت اور واضح اصول بنائے جائیں۔ ایسے علاقوں کی نشاندہی ضروری ہے جہاں انسانی جانوں اور ماحول کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
چترال کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم قدرتی وسائل کے استعمال اور ماحول کے تحفظ کے درمیان کتنا دانشمندانہ توازن قائم کرتے ہیں۔ معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانا ضروری ہو سکتا ہے، لیکن انسانی جانوں، مقامی آبادی کے حقوق، پانی کے قدرتی ذرائع اور چترال کے نازک ماحول کی قیمت پر کوئی بھی ترقی قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری مالی فائدے کے بجائے چترال کے عوام کی حفاظت، مقامی آبادی کے حقوق اور اس خوبصورت خطے کے قدرتی ماحول کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔
چترال صرف معدنیات کا ذخیرہ نہیں، بلکہ لاکھوں انسانوں کا گھر، آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔