Type to search

ادب فيچرڈ

اور کہاں تک جانا ہے؟

کراچی سے واپسی پر تین گدھے حیدر آباد رکے۔ یہی مضمون انگریزی میں باندھتا تو الیگزاندر دوماس کے ہاف سنجیدہ، فل رومانی، تاریخی و طولانی ایپک پرلمبی سی گاٹی ڈال کر تھری مسکٹیرز والی کوڑی لاتا اور اتراتا کہ آخر یہ کتاب مستطاب (مستطاب بر وزن اصطرلاب، پتہ نہیں کیا بلا ہوتی ہو گی، ہو نہ ہو یہی وہ ہماری عظیم روایت ہو گی جس کا احترام ہم سب پر از بس واجب ہے اور جس سے روگردانی کی سزا، سر تن سے جدا) اول اول کی محبوب و مرغوب ناولوں میں سے ہے، جانے کہاں گئے وہ دن۔ خیر، حیدر آباد پہنچنے کی دیر تھی کہ ہم تین گدھے، تہذیب حافی سے دو چار ہوئے۔

گدھوں والی پہیلی کسی کے پلے نہ پڑ رہی ہو تو اس میں کسی اصلی یا نقلی الو کا کوئی قصور نہیں۔ یہ عدنان بشیرکی ایک نظم تھی جس میں تین مضافاتی سے گدھوں کے اساطیری سیروسفر کا بیان تھا، دوست دشمن کے لئے مروت و مدارات کا سامان تھا۔

پریس کلب اور سی ویو سے تنویر انجم اور عذرا عباس کے دولت کدوں تک، یہ نظم ہر جگہ جس معصومیت سے سنائی گئی، اسی مرعوبیت سے ُسنی گئی۔ پھر ایک روز ایسا ہُوا۔۔۔ اچانک خیال آیا کہ اس خرکار نظم کے وہ تینوں ہیرو کہیں ہمیں تو نہیں! تو یہ حیدر آباد تھا۔ ثروت حسین اور اجمل کمال اور سعید الدین کا حیدر آباد۔ ان میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہ تھا۔ اجمل کمال کو تو ہم کراچی ہی میں چھوڑ آئے تھے، سعید الدین سے ملاقات اگلے برس لاہور میں ہونی تھی، اور ثروت تو ایک زمانہ پہلے کسی ٹرین پرکہیں بہت دور نکل گئے تھے۔

تھکے ہوئے دریا اور ستے ہوئے قلعے کے درمیان واقع شہر کی اس گرد آلود سہ پہرمیں ہمیں لفت کروا رہے تھے عتیق جیلانی اورسلیم بیگ کہ اتنے میں انعام ندیم تشریف لے آئے۔ یوں اس نشست کی اہم بات ٹھہری، اکبرمعصوم سے ہمیں ملوانے کی انعامی یا ندیمی پیشکش جو انہوں نے برخواست سے تھوڑا پہلے کی۔ تاہم دو درمیانے گدھوں کی ہچرمچراس ملاقات کوغیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

میں اکبر معصوم سے کبھی نہیں مل پایا۔ لیکن آج ہی شام میں نے اکبر کی آواز اپنے کانوں سے سنی۔ یوں لگا جیسے وہ اپنا ایک شعر پڑھ رہا ہو۔ وہ شعر جو ظفر اقبال کے کالم میں چھپ کر سات سمندر پار پہنچا۔ ظفر صاحب کے کالموں نے اردو تنقید کے گنجلک مچلکوں میں کوئی اضافہ کیا ہو، نہ کیا ہو، فیس بک اور ٹویٹر کی سستی اور پھیکی یعنی کامیاب ایجادات سے پہلے، اردو دنیا کے قطبین پر واقع لکھنے پڑھنے والوں تک ایسے اور بہت سے یادگار اشعار ضرور پہنچائے۔

مجلس ترقی ادب کے لئے اردو غزل کے مہا انتخاب، رنگِ غزل کی توسیع پر کام کرتے ُہوئے، اکبرمعصوم سے رابطے کی ضرورت پڑی تو نمبر ڈاکٹر اشفاق ورک سے ملا۔ ڈاکٹر ورک کے مرتب کردہ جدید غزل کے انتخاب، غزل آباد میں سندھ کے اس کم معروف شاعر کو نمایاں مقام ملا تھا۔

پہلی بار فون پر بات ہُوئی تو شاعر کا خاندان سیلاب سے بچنے کے لئے نقل مکانی کررہا تھا۔ اس کی پہلی کتاب پر ظفراقبال نے لکھا تھا کہ اس تعداد میں اچھے شعر انہوں نے پہلے کسی نئی کتاب سے درج نہیں کیے۔ یار لوگوں نے اسے چیلینج سمجھا۔ بہتیرے مقامی وڈیرے، باہرلے لٹیرے اس بھاگ دوڑ میں جتے کہ حیلے بہانے سے وہ ریکارڈ توڑ ڈالیں جو ایک شاعر نے وہیل چئیر پہ بیٹھے ہوئے بنایا تھا۔ ایسے میں اکبر معصوم کے لئے ذوالفقار عادل کا خراجِ تحسین خود لائقِ تحسین ہے

وہیل چئیر پہ بیٹھ کر چڑھتا ہے کون سیڑھیاں
آ کے مجھے ملے جسے شک ہو میرے کمال میں

آخری گفتگو آصف علی واثق کے فون پر ہُوئی۔ بیت بازی کے تمام ممکنہ مقابلے جیتنے کے بعد زرعی یونیورسٹی کا یہ نوجوان ایک کے بعد ایک اپنے پسندیدہ شاعروں سے ملاقاتوں کی صورت میں گویا اپنا اصل انعام وصول کر رہا تھا۔ شاید کسی نے اسے اس اذیت کو کم کرنے کا یہ نسخہ بتایا ہو جس کا شکار حاضر سروس شیر پاکستان تک کو گدڑ کٹ چڑھانے والی دہشت گرد تنظیم کی کھلم کھلا بد معاشی اور انتظامیہ کی ڈھکی چھُپی بزدلی نے، اپنے ادارے کا نام روشن کرنے والے طلبہ کو پار سال میری آنکھوں کے سامنے بنایا تھا۔ اس دہشت گردی کا تذکرہ ڈیلی ٹائمزکو دیے گئے انٹرویو میں موجود ہے۔

شاعری کے ایک نئے دیوانے کو لاحق گہرے جذباتی صدمے کو سچے سُچے فنکاروں سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے؟ افضال سید نے آصف کو مان دیا، سلیم کوثر نے اسے عزیز رکھا۔ اکبر معصوم نے اسے معتبرجانا حتیٰ کہ اپنا تازہ مجموعہ اسی کے ہاتھ بھجوایا۔ بے ساختہ، جس کا ٹائٹل دیکھ کے شاہد ذکی کا مصرع ذہن میں آیا: وہی بھلا ہے جو بیساختہ بنا ہُوا ہے۔

واقعی، یہی بے ساختہ دلکشی اکبر معصوم کی شاعری کا جوہر ہے۔ اسی کارن اکبر کے متعدد اشعار بار بارلطف دیتے ہیں۔

کر رہا ہوں میں ایک پھول پہ کامر
وز اک پنکھڑی بناتا ہوں

اپنی طرف بھی دیکھ اگر دیکھتا ہے تُو
سُورج مُکھی کے پھُول کدھر دیکھتا ہے تُو

اڑا شاخ سے اور فلک ہو گیا
مجھے تو پرندے پہ شک ہو گیا

منظر دیکھنے والا ہو اور کوئی نہ دیکھنے والا ہو
کوئی نہ دیکھنے والا ہو اور دور تلک ویرانی ہو

گھر کے لوگوں کو جگاتا کیوں نہیں
مر چکا ہے تو بتاتا کیوں نہیں

جن کو خوابوں میں بناتے ہیں بنانے والے
ان گھروں کے در و دیوار کہاں ہوتے ہیں

نیند میں گنگنا رہا ہوں میں
خواب کی دھن بنا رہا ہوں میں

دن نکلتے ہی مرے خواب بکھر جاتے ہیں
روز گرتا ہے اسی فرش پہ گلدان مرا

دمکتی ہے باہر سے دنیا بہت
مگر اس نگینے کے اندر ہوں میں

کچھ دن پہلے فیس بک پر اکبر معصوم کی تشویشناک حالت بارے جانکاری ملی توجی پریشان ہوا۔ پھرکان لگا کر سنا تو دور کی بات دھیان مین آئی، کس کی آواز کان مین آئی، یوں لگا جیسے موت سے میچ کھیلتے ہوئے، نیند میں گنگنانے والا، خواب کی دھن بنانے والا شاعر زندگی کو مخاطب کر کے اپنا وہی شعر دہرا ہو جو دوستوں نے ایک دوسرے کو کتنی ہی مرتبہ سنایا ہوگا:

اب مجھ سے ترا بار اٹھایا نہیں جاتا
لیکن یہ میرا عجز ہے، انکار نہیں ہے

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *