Type to search

ثقافت فيچرڈ

‘ہمارے پاس کثیرالثقافتی پالیسی موجود ہے‘: سوزین اولسن کا اسلام اور سویڈن میں بسنے والے مسلمانوں کے بارے میں نقطہ نظر

سوزین اولسن ساڈرٹن یونیورسٹی، سٹاک ہوم سویڈن کی شعبہ مذہب کے مطالعہ کی سربراہ، سینیئر لیکچرار اور تحقیق دان ہیں۔ اولسن مذاہب کی تاریخ دان ہیں اور ان کا محور اسلام کا مطالعہ ہے۔ انہوں نے اس مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری اوپسالا یونیورسٹی سویڈن سے حاصل کی۔ ان کی دلچسپی اسلام کی موجودہ تشریحات اور اس کا جدید دنیا اور مغربی دنیا میں مسلمانوں کے رسوم و رواج سے ناطہ ہے۔ وہ مذہبی تعلیمات اور طور طریقوں پر سوالات اٹھانے میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔ اولسن ایک تحقیقی منصوبے پر کام کر رہی ہیں جو ان نئے قسم کے مسلمان مبلغوں پر تحقیق کرتا ہے جو دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں تک اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اولسن نے دنیا بھر میں سفر کیا ہے اور مخلتف قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے۔ وہ ’’صوفی ازم اور پیس‘‘ کے نام سے منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں خاتون مقرر کے طور پر شریک ہوئیں۔ اس کانفرنس کا انعقاد اکادمی ادبیات پاکستان نے اسلام آباد میں مارچ 2010 میں کروایا تھا۔

زمان خان: ہمیں اپنے پس منظر اور تعلیم کے بارے میں بتائیے؟

اولسن: میں نے زیادہ تر تحقیق اسلام میں ’’متوی تحریکوں‘‘ پر کی ہے۔ میں مصری عالم اور شاعر عمیر خالد اور اس کے ٹیلی وژن پر دکھائے گئے پروگراموں پر بھی تحقیق کر چکی ہوں۔ میں نے اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مصری فلاسفر حسن حنافی پر لکھا تھا۔ وہ صوفی نہیں ہے لیکن ایک ذہین مسلمان لکھاری ہے جو اسلام اور اس کے نظریات کے متعلق لکھتا ہے اور مسلمانوں کیلئے ان طریقوں کو اپنانے پر تحریر کرتا ہے جن کی مدد سے وہ اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے دنیا میں کام کرتے ہوئے اپنی شناخت اور تشخص برقرار رکھ سکیں۔

زمان خان: آپ کو اسلام پر تحقیق کرنے کیلئے کس نے متاثر کیا؟

اولسن:  مجھے ہمیشہ ہی مذہب دلچسپ لگتا تھا۔ مذہبی لوگ مذہب سے حوصلہ پا کر کام کرتے ہیں۔ جب میں نے نوے کی دہائی کے اوائل میں یونیورسٹی میں تعلیم کا آغاز کیا تو وہ خلیجی جنگ (Gulf War) کے بعد کا زمانہ تھا۔ مجھے یہ جاننے میں بیحد دلچسپی تھی کہ اسلام کو سیاسی حالات اور تنازعات کے حالات میں ایک سیاسی طاقت کے طور پر کیسے استعمال کیا گیا۔ اگر کسی تنازعے کا کوئی خاص مقصد ہو تب بھی اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اسے مذہبی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اور میں نے اسے دلچسپی کا باعث پایا۔ جب میں ابتدا میں عربی شاعری کا مطالعہ کر رہی تھی تو مجھے ادراک ہوا کہ زیادہ تر شاعری مذہب سے متاثر تھی۔ میں نے قرآن کریم کی تلاوتیں بھی سنیں، مجھے یہ پسند آئیں اور میں نے عربی سیکھنے کا فیصلہ کر لیا۔

زمان خان: آپ عربی شاعری کی جانب کیسے راغب ہوئیں؟

اولسن: میں نے شام کے ایک شاعر نیزا قبانی کا کلام پڑھا تھا۔ اس نے محبت پر مبنی شاعری تحریر کی تھی جو مجھے بیحد پسند آئی۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ اس نے سیاست کے موضوع پر بھی شاعری کی تھی۔ پھر میں نے صوفیانہ شاعری کا مطالعہ شروع کر دیا جو مجھے بیحد پسند آئی۔ میں نے اسلامی ’’شریعت‘‘ بھی پڑھی تھی۔

زمان خان: کیا کچھ مذہبی اور صوفی شعرا کے کلاموں کا سویڈش زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے؟

اولسن: نہیں۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ ہمارے پاس مولانا رومی کے کلام کے چند ترجمے موجود ہیں۔ روایتی طور پر ہمیں انگریزی میں دیگر کلام پڑھنے پڑتے ہیں۔ سویڈن میں بعض شاعر پاکستانی شعرا کے کلاموں کا ترجمہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں سویڈن کا ایک نمائندہ موجود ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ سویڈش زبان میں ترجمے کیلئے چند نظمیں تلاش کر رہا ہے۔ بہت سے لوگ سویڈن میں ایسے ہیں جو انگریزی زبان میں شاعری نہیں پڑھنا چاہتے کیونکہ یہ ان کیلئے کافی مشکل ہے۔ ہمیں اس کی ضرورت سویڈش زبان میں ہے۔

زمان خان: اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے پر کچھ روشنی ڈالیے؟

اولسن: میں نے حنافی کی فلاسفی کا تجزیہ کیا ہے۔ اس کی فلاسفی اس کے بقول ’مقدمہ‘ پر بحث کرتی ہے۔ اس نے یورپین فلاسفی کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا تھا اور اس نے یہ دکھانے کی کوشش کی تھی کہ جو کچھ یورپین فلاسفی میں موجود ہے وہی کچھ اسلامی فلاسفی میں بھی موجود ہے۔ ایک طرح سے وہ یورپین فلاسفی کی مدد سے اسلام کی دینی روایات کی نئے طریقے سے تشریح کرنا چاہتا تھا۔ وہ یہ بتانا چاہتا تھا کہ اس کا طریقہ کار مستند اسلامی طریقہ کار تھا۔ وہ یہ دکھانا چاہتا تھا کہ مختلف ثقافتوں کے درمیان بہت سی مشترکہ اقدار موجود ہیں۔ وہ مذاہب، مخلتف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، مخلتف سیاسی نظاموں اور قومیتوں کے درمیان ایک مکالمے کو جنم دینا چاہتا تھا۔

زمان خان: کیا آپ کا مقالہ شائع ہوا؟

اولسن: جی ہاں اسے سویڈش زبان میں ایک سویڈش اشاعتی ادارے نے شائع کیا تھا۔ یہ 2006 میں انگریزی زبان میں بھی شائع ہوا تھا۔

زمان خان: ابھی آپ کن منصوبوں پر کام رہی ہیں؟

اولسن: میں این خالد کی تعلیمات پر ایک تصنیف مکمل کر رہی ہوں اور یہ ان کے نظریات کے بارے میں تجزیے پر مبنی ہے جیسے کہ صنف اور مغربی دنیا کے بارے میں خیالات۔

زمان خان: کچھ افراد کا کہنا ہے کہ اسلام کو افغانستان میں کمیونزم کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

اولسن: میرے خیال میں اگر آپ دنیا پر نگاہ دوڑائیں تو مذہب کو مختلف سیاسی معاشروں میں استعمال کیا گیا ہے۔ محض اسلام ہی کو اس مقصد کیلئے استعمال نہیں کیا گیا۔

زمان خان: نائن الیون کے بعد مغرب میں مسلمانوں کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

اولسن: میرے خیال میں نائن الیون کے بعد سے لوگ مسلمانوں سے خوفزدہ ہیں۔ یورپ اور امریکا کا ماحول مسلمانوں کیلئے بیحد مشکل ثابت ہوا ہے۔ ہر مسلمان کو اب ہر لمحے اسلام کا دفاع کرنے کی بھاری ذمہ داری اپنے سر لینی پڑتی ہے۔ میرے خیال میں سب کیلئے اس کا جواب دینا بہت مشکل ہے کہ ’آپ اسامہ بن لادن کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟‘ یورپ میں ہم نے گذشتہ دس برسوں میں اسلام کی نئی تشریحات دیکھی ہیں۔ وہ اس بات پر مرکوز ہیں کہ اسلام امن اور جمہوریت کا مذہب ہے اور سویڈن یا دوسرے یورپی ملک ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کیلئے وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جب یورپی ممالک کی حکومتیں مسلمانوں کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہیں تو وہ مسلمانوں کے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ دین اسلام کی یہ روشن خیال تشریحات یورپ میں بھی بیحد مضبوط ہو جائیں گی۔ سویڈن میں ہم لوگوں کے پاس جمہوری معاشرہ ہے۔ آپ سویڈن میں اپنی مذہب پسندی مختلف طریقوں سے بیان کر سکتے ہیں لیکن یہاں شناختی کارڈ پر مذہب کی شناخت ظاہر کرنا منع ہے۔ کسی کو کبھی یہ اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ یہ لکھ سکے کہ اس کا تعلق کس مذہب سے ہے کیونکہ مذہب ایک نجی معاملہ ہے اور لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ اسے اپنے تک محدود رکھیں۔

زمان خان: آپ نائن الیون کے بعد سویڈن میں مسلمانوں کی حالت کیسے دیکھتی ہیں؟

اولسن: میرے خیال میں ان کی حالت مشکل میں آ چکی ہے۔ ہمارے یہاں بائیں بازو کی مضبوط سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔ وہ نسل پرست ہیں اور ان کے ارکان اور ہمدردوں کی تعداد اب بڑھ چکی ہے۔ اگر آپ کا پس منظر ہجرت کر کے یہاں مقیم ہونے والا ہے تو آپ کیلئے اب سویڈن میں رہنا اور مشکل ہو چکا ہے۔ بہت سے لوگوں کو شکایت ہے کہ اس کے باعث نوکریوں کے حصول میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ گذشتہ دس برسوں سے یہ صورتحال بدترین ہوتی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ تمام مسائل کی وجہ اسلام ہے۔ جبکہ کچھ لوگ ہجرت کر کے سویڈن مقیم ہونے والوں کو مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

زمان خان: کیا آپ کو امید ہے کہ سویڈن اور مغرب واپس انہی معاشروں میں تبدیل ہو سکیں گے جیسے وہ نائن الیون سے قبل تھے؟

اولسن: مجھے امید ہے، مثال کے طور پر میرے ملک سویڈن میں جمہوری تحریک بہت مضبوط ہے اور ہم بائیں بازو کی جماعتوں کے خلاف سخت محنت کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس کثیرالثقافتی پالیسی بھی موجود ہے جو بہت روشن خیال ہے۔ اگر آپ سویڈن کے میڈیا پر نگاہ دوڑائیں مثال کے طور پر مرکزی اخبارات اور ٹی وی چینل، تو وہ آپ کو یہ پیش کرتے نظر آئیں گے کہ ہر مسلمان اسامہ بن لادن نہیں ہوتا ہے اور زیادہ تر مسلمان ایسے ہی ہیں جیسے کہ سویڈن میں بسنے والے سویڈش نژاد افراد۔ اس سال سویڈن میں انتخابات کا انعقاد بھی ہونا ہے۔ اس لئے بائیں بازو کی جماعتوں کے باعث کثیرالثقافتی مسئلے پر سیاسی بحث کا آغاز ہو چکا ہے ان جماعتوں کے خلاف ایک زبردست تحریک موجود ہے۔ ہمارے یہاں مسلمان سیاسی مباحث میں حصہ لے رہے ہیں جو کہ انتہائی خوش آئند امر ہے۔ میں پر امید ہوں۔ مجھے پرامید ہونا چاہیے۔

زمان خان: کیا مسلمانوں نے سویڈن میں خود کو الگ تھلگ کر لیا ہے یا نائن الیون کے بعد مسلمانوں اور سویڈش باشندوں میں بات چیت بڑھی ہے؟

اولسن: دونوں ہی باتیں موجود ہیں۔ سویڈن میں مسلمانوں کے کئی گروہ ہیں۔ ایک گروہ اپنے آپ کو ’امن کا داعی‘ کہتا ہے۔ یہ گروہ ان مسلمانوں پر مشتمل ہے جو امن کیلئے کام کر رہا ہے۔ ہمارے یہاں مسلمانوں کی بہت سی ایسی تنظیمیں بھی موجود ہیں جو معاشرے میں اسلام کے متعلق معلومات پھیلانے کی کوششیں کر رہی ہیں اور انہیں بیحد جگہ ملتی ہے، لوگ انہیں جانتے ہیں اور انہیں اخبارات میں بھی نمایاں جگہ ملتی رہتی ہے۔ یہ تنظیمیں میڈیا پر بھی آتی رہتی ہیں اوران کی کوشش ہے کہ مسلمان معاشرے میں ضم ہو جائیں، یہاں کی زبان سیکھیں اور کام کاج کریں۔ لیکن جداگانہ اور الگ تھلگ رہنے والے گروہ بھی موجود ہیں اور میرے خیال میں ان کی اسلام کہ تشریح قدامت پسندانہ ہے۔ لیکن وہ ایک بہت ہی چھوٹی اقلیت میں ہیں۔ بہت سے ہجرت کرنے والے افراد سویڈن کے دور دراز علاقوں میں بس جاتے ہیں اور پھر وہ معاشرے میں ضم نہیں ہو پاتے، وہ سویڈش زبان نہیں سیکھ پاتے۔ وہ صرف ان لوگوں سے میل جول رکھتے ہیں جو ان کی زبان بولتے ہیں اور ان کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، اور ایک جیسی مذہبی سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔ سیاستدانوں کو اسے سنجیدہ مسئلے کے طور پر لینا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے۔

ttps://www.youtube.com/watch?v=tLTznZMKV28

زمان خان: آپ اسے یورپین یونین سے کیسے منسلک کرتی ہیں؟

اولسن: یورپین یونین میں جب ہجرت کرنے والوں کے متعلق پالیسیوں کی بات آئے تو یہ مختلف ممالک میں مکمل طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ سویڈن میں ہماری پالیسی کثیر الثقافتی معاشرے کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے سے الگ نظر آنے والے، علیحدہ عقائد رکھنے اور برتاؤ برتنے والوں کو قبول کرتے ہیں۔ لیکن فرانس میں یہ قدرے مختلف ہے، وہ عوامی مقامات میں مذہبی نشانات یا لباس پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ وہاں بسنے والے افراد ان کی مانند نظر آئیں۔ فرانس سویڈن کے مقابلے میں بالکل مختلف قسم کا سیکیولر ملک ہے۔ یورپین یونین میں بھی صورتحال بالکل مختلف ہے۔ اور کچھ ممالک سوئٹزرلینڈ کی مانند ہیں۔ وہ میناروں پر پابندی عائد کرنا چاہتے تھے۔ فرانس میں اس بات پر بحث کی گئی کے برقعے پر پابندی عائد کی جائے۔ اس بات پر سویڈن میں بھی بحث کی گئی۔ لیکن یہ کبھی بھی سیاسی مسئلہ نہیں بنا کیونکہ میرے خیال میں سویڈن میں پردہ کرنے والی خواتین کی تعداد محض 200 کے لگ بھگ ہے۔ اس لئے سویڈن میں یہ مسئلہ نہیں ہے۔

زمان خان: سویڈن کی تعلیمی پالیسی کیا ہے؟ کیا مسلمان طلبہ اپنی تعلیم حاصل کرتے ہیں؟

اولسن: سویڈن کی تعلیمی پالیسی کمیونٹی سکولوں کی مانند ہے، یہاں سب کو ایک جیسے مضمون ہی پڑنے پڑتے ہیں۔ ہم مذہب کا مطالعہ تقابلی اور غیر تبلیغی حوالوں سے کرتے ہیں۔ ہم مفت سکولوں کو بھی کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ سویڈن میں ہمارے پاس 8 مفت اسلامی سکول موجود ہیں۔ ان مفت سکولوں کو بھی کمیونٹی سکولوں کا طرز اپنانا پڑتا ہے لیکن یہ اپنے اوقات کار میں اسلام اور عربی پڑھانے کیلئے چند گھنٹوں کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ استاد وہ ہو سکتا ہے جس نے اسلام کا مطالعہ کیا ہو اور اسلامی نقطہ نظر سمجھا سکے۔ سویڈن کی آبادی محض 90 لاکھ ہے۔ ہمیں مسلمانوں کی آبادی کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے کیونکہ یہ غیر قانونی طور پر آتے ہیں لیکن ہمارا اندازہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی یہاں ساڑھے تین سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے۔ اس لئے وہ تعداد میں بہت زیادہ نہیں ہیں۔


(یہ انٹرویو پہلے روزنامہ “دی نیوز” کے اتوار کے ایڈیشن میں شائع ہوا)

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *