Type to search

حادثہ فيچرڈ

2 بوئنگ 737میکس طیارے تباہ کیوں ہوئے؟ کمپنی نے وجہ بتا دی

واشنگٹن: امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کا کہنا تھا کہ انکے سوفٹ وئیر میں مسئلہ تھا جو آگے جاکر حادثے کا سبب بن گیا۔ اس زمہ داری کو قبول کرنے کے پیچھے جو اہم وجہ سامنے آئی ہے، اس کے مطابق کمپنی کو دوبارہ سے طیارے اڑانے کی اجازت درکار ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد سافٹ ویئر میں موجود خرابی دور کر لیں گے۔ تاہم اس معاملے پر بھی سوالات جنم لیتے ہیں کہ ان مسائل کو طیارے کو پروازوں کی اجازت دینے سے قبل کیوں نہیں دیکھا گیا۔

امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے کہا ہے کہ کمپنی 737 میکس طیاروں کے آپریشن پر فی الحال لگی پابندی کے باوجود طیارہ سازی جاری رکھے گی لیکن نئے طیاروں کی فراہمی فی الحال نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ ایتھوپیا میں بوئنگ 737 میکس طیارہ گرنے سے تمام 157 مسافر ہلاک ہو گئے تھے جب کہ گزشتہ سال اکتوبر میں اسی ماڈل کا طیارہ انڈونیشیا میں حادثے کا شکار ہوا تھا جس میں 189 مسافر ہلاک ہوئے تھے۔

حادثے کے بعد جاری بیان میں بوئنگ نے کہا تھا کہ اسے اپنے 737 میکس کی سیفٹی پر پورا یقین ہے۔ مگر امریکی ہوابازی کے نگران ادارے ایف اے اے، امریکی ٹرانسپورٹ سیفٹی بورڈ اور ہوابازی کے حکام اور اپنے دنیا بھر میں پھیلے صارفین سے صلاح مشورے کے بعد بوئنگ اس نتیجے پر پہنچا کہ حفظِ ماتقدم کو مقدم رکھتے ہوئے اور فضائی سفر کرنے والی عوام کا اعتماد بحال کرنے کی غرض وہ ایف اے اے کو تجویز دیتا ہے کہ وہ عارضی طور پر دنیا بھر میں پرواز کرنے والے 371 بوئنگ 737 میکس طیاروں کو گراؤنڈ کر دے۔

یاد رہے کہ امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے جدید اور نئے طیارے بوئنگ 737 میکس کے دوسرے حادثے کے بعد ایک عالمی ردِ عمل سامنے آ رہا تھا جس میں ہر گزرتے لمحے شدت آتی گئی۔

بھارت اور چین سمیت دیگرممالک نے مذکورہ طیارہ گراؤنڈ کر دیاتھا۔ بوئنگ سیون تھری سیون میکس طیارہ گراؤنڈ کرنے والے دیگر ممالک میں انڈونیشیا، سنگاپور، جنوبی کوریا، منگولیا، آسٹریلیا، عمان، کویت، متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین کے چند ممالک شامل تھے۔ برازیل، ایتھوپیا، میکسیکو، جنوبی افریقہ اور ارجنٹینا کی ایئرلائنز نے مذکورہ طیارہ نہ اڑانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت سمیت کئی ممالک نے بوئنگ سیون تھری سیون میکس کیلئے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔

میکس 737 طیاروں کا آغاز کب ہوا؟

اگست 2011 میں بوئنگ نے اپنے اس مقبول طیارے کو نئے انجن اور نظام کے ساتھ لانچ کیا اور اسے میکس کا نام دیا۔ میکس سیریز میں چار ورژن فراہم کیے گئے جن میں میکس 7، میکس 8، میکس 9 اور میکس 10 شامل ہیں۔ جن میں زیادہ سے زیادہ 230 مسافر سوار ہو سکتے ہیں۔

یہ طیارے چھ ہزار سے سات ہزار کلومیٹر تک پرواز کر سکتا تھا جو بہت ساری چھوٹی اور درمیانے سائز کی ایئرلائنز کے لیے بہترین طیارہ ہے۔ جیسا کہ کوالالپمپور سے لاہور کی پرواز کے لیے مالنڈو ایئر اس طیارے کا استعمال کرتی ہے جبکہ چائنہ سدرن ایئر لائن اس طیارے کے ساتھ گوانگزو اور اورمچی سے لاہور اور اسلام آباد کی پروازیں چلا پاتی ہے۔

یہ طیارہ اتنا کامیاب تھا کہ اسے چند ہی مہینوں میں 100 سے زیادہ ایئرلائنز سے 5000 سے زیادہ آرڈر موصول ہوئے۔ اور اب تک دنیا بھر میں 350 طیارے پرواز کر رہے ہیں یا ان دنوں گراؤنڈ کر دیے گئے ہیں۔ اس کا سب سے پہلا طیارے انڈونیشیا کے ایئرلائن گروپ لائن ایئر کی کمپنی مالنڈو ایئر نے 6 مئی 2017 کو وصول کیا اور اس نے 22 مئی 2017 سے پروازیں شروع کیں۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *