Type to search

تجزیہ فيچرڈ

جسٹس کھوسہ کہتے ہیں جوڈیشل ریفارمز پارلیمان کی ترجیح نہیں۔ کیا انصاف واقعی ان کی ترجیح ہے؟

پاکستان کے ہر چیف جسٹس نے پاکستان کی عدلیہ اور سیاسی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ چیف جسٹس منیر کو تو قوم ہر وقت یاد کرتی ہے۔ دوسرے چیف جسٹسز نے بھی ایسے فیصلے دیے کہ پاکستانی ہمیشہ انہیں یاد رکھتے ہیں اور اکثر ان کا ذکر کرتے ہیں۔ بعض اعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے بھی بہت اہم فیصلہ دیے جنہیں قوم اچھے لفظوں میس یاد کرتی ہے مثلاً جسٹس کارنیلس کا مولوی تمیزالدین کیس میں جسٹس منیر کے فیصلے سے اختلاف ہمیشہ اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کی سب تعریف کرتے ہیں۔

اگر پاکستانی عدلیہ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایک بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ پاکستانی عدلیہ نے ہمیشہ ملک میں ماشل لا کو جائز قرار دیا۔

جسٹس ثاقب نثار نے اپنے دور میں ایسے انداز میں ایسے فیصلے دیے کہ قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔ خاص کر ان کا 184(3) کا بے پناہ استعمال۔

بہرحال چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو اپنی پہلی ہی تقریر میں یہ کہنا پڑا کہ وہ آئین کی شق 184(3) کا استعمال بہت احتیاط سے کریں گے۔ اب تک انہوں نہ صرف بریگیڈیر اسد منیر کی خود کشی کا نوٹس لیا ہے۔

ہر پاکستانی خاص کر پیشہ وکالت سے تعلق رکھنے والے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ چیف جسٹس کھوسہ کو نہ صرف قانون کا علم ہے، کئی کتابوں کے مصنف ہیں، وہ باریک بین ہیں، بہت ہی شارپ ذہن رکھتے ہیں اور انہیں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ انصاف میں تاخیر سے لوگوں کو کتنا نقصان ہوتا ہے۔ وہ ہائی کورٹ کے فیصلوں پر کھلے عام تنقید کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جلد انصاف کی فراہمی کو اپنا نصب العین بنا لیا ہے اور اس کے لئے ماڈل کورٹ بھی متعارف کروا دیے ہیں جنہوں نے چند ہفتوں میں بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور حال ہی میں ہونے والی ایک کانفرنس National Conference Expeditious Justice Initiative میں چیف نے ان جج صاحبان کو اپنا ہیرو قرار دیا۔

چیف جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھی جج ان کو ’جنونی‘ کہتے تھے۔ پہلے چیف جسٹس صاحبان کی پتہ نہیں کیا ترجیحات تھیں مگر موجودہ چیف جسٹس نظام انصاف میں بہتری یعنی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے اندراج مقدمہ کے متعلق درخواستیں سننے کا اختیار دوبارہ ڈسڑک پولیس کمپلینٹ سیل کو دے دیا ہے۔ تھانے کی سطح پر ایف آئی آر درج نہ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف اپیل بھی پولیس کے اندر ہی اعلیٰ سطح (ڈسڑک کمپلینٹ اتھارٹی) پر کی جائے گی۔

ان کے اس فیصلے کو وکلا برادری نے اچھی نظر سے نہیں دیکھا ان کا خیال ہے کہ اس سے ان سے ایک لحاظ سے روزی چھین لی گئی ہے۔

ہوا یہ کہ 2002 کی پولیس ریفارمز میں 22۔A، 22۔B کا اختیار یعنی جسٹس آف پیس جو کہ پہلے ہائی کورٹ کے پاس ہوتا تھا وہ ڈسڑک ججز کو بھی دے دیا گیا۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پولیس کے پاس جانا اور ایف آئی آر درج کروانا بہت ہی مشکل اور جان جوکھوں کا کام ہے۔ عام آدمی اور خاص کر غریب کے لئے یہ کام تقریباً ناممکن ہے لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنی فریاد لے کر مارے مارے پھرتے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔
جب سے 22۔A، 22۔B کا اختیار یعنی ایف آئی آر درج کروانے کے لئے حکم دینا ڈسڑکٹ جج صاحبان کے پاس آیا تھا لوگوں کو قدرے کچھ آسانی ہوئی تھی مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اوقات پولیس والے خود کہتے تھے کہ اس معاملے میں ایف آئی آر نہیں بنتی مگر اگر آپ ڈسڑک جج سے حکم لے آئیں تو ہمیں ایف آئی آر درج کرنے میں آسانی ہوگی۔

اب اس نئے حکم کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو تو یہ ہے کہ وکلا برادری کے روزگار کا ایک سلسلہ ختم ہو جائے گا یعنی ان کی آمدنی پر زد پڑے گی مگر اس کا ایک اور بہت ہی اہم تاریخی پہلو بھی ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ پولیس میں سب ہی لوگ کرپٹ ہیں مگر یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ پولیس کا عوام میں امیج کوئی اچھا نہیں ہے۔ آج بھی لوگ پولیس سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے خوف کھاتے اور ڈرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی طور پر گوروں نے ہندوستان میں پولیس کو لوگوں کو دبانے اور قابو کرنے کے لئے بنائی تھی۔ ہندوستان کی پولیس نے آزادی کی جنگ اور جدوجہد کرنے والوں کے خلاف بہت بڑے بڑے (گھناؤنے) کارنامے بھی انجام دیے تھے۔ انگریز کے دور میں جاسوسی کا محکمہ بھی پولیس کے تحت ہوتا تھا۔ آئی ایس آئی اور فوج کے جاسوسی کے محکموں کے بارے میں عوام کو علم نہیں تھا۔

پاکستان میں کچھ ایماندار پولیس افسران کا خیال ہے اور وہ اس کوشش میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح پولیس کا اچھا امیج بنایا جائے۔ اس سلسلے میں کئی پولیس ریفارمز کمیشن بھی بنائے گئے۔ جن میں سب سے اہم قدم جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں اٹھایا گیا مگر بعد میں اس نے خود ہی اس کی نفی کر دی۔

یہاں یہ بات بھی دہرانا ضروری ہے کہ پاکستان میں بھی پولیس کا سیاسی استعمال بے انتہا کیا گیا اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بعض اوقات تو پولیس سیاسی جماعت کا آلہ کار بھی بن گئی۔

اگر پولیس کی کاکردگی پر بات کی جائے تو اس کے لئے کئی کتابیں لکھنے کی ضرورت ہے۔ صرف اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ باوجود پولیس کے امیج کو بہتر بنانے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کرنے اور ایسے نعرے ایجاد کرنے ’پولیس کا فرض ہے مدد آپ کی‘ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔  پولیس کے امیج میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ پولیس کو بہت قیمتی گاڑیاں دینے اور بہترین اسلحہ دینے کے باوجود لوگوں کو اپنی حفاظت کے لئے ذاتی گارڈ رکھنے پڑتے ہیں۔

پھر ساہیوال جیسے واقعات پولیس کا رہا سہا امیج بھی خراب کر دیتے ہیں۔ پولیس آج بھی تفتیش میں ایذا رسانی یعنی ٹاچر کا پرانا طریقہ استعمال کرتی ہے۔ آج بھی پولیس میں رشوت تو عام سی بات ہے، ہر غیر قانونی کام کی سرپرستی کرتی ہے۔

میں ذاتی طور پر پولیس ریفارمز کا زبردست حامی ہوں مگر موجودہ حالات میں یہ ایک جہد مسلسل ہے اور اگر یہ کام آج باقاعدگی سے شروع کیا جائے تو شائد آئندہ نسلیں اس کا پھل کھا سکیں۔

بہرحال بات یہ ہے کہ چیف جسٹس صاحب کے 22۔A، 22۔B کے بارے میں حکم پر وکلا نے منفیت کا اظہار کیا ہے اور ہر روز اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے اور ماڈل کورٹ کا بائیکاٹ کرنے کے لئے ہڑتال بھی کرتے ہیں جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک کانفرنس میں بہت پتے کی باتیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں سپریم کورٹ سال میں 80 اور برطانیہ میں 100 کیس نمٹاتا ہے مگر پچھلے سال میں عدالتوں نے 26 ہزار کیس نمٹائے۔ انہوں نے کورٹ فیس کا معاملہ، جانشنیی کا مسئلہ اور جائیداد کی تصدیق کا معاملہ بھی اٹھایا۔

NADRA یقیناً ایک اچھا ادارہ ہے جس کی شہرت بھی اچھی ہے مگر اگر آپ لوگوں سے پوچھیں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ نادرہ والے کیا کیا گھپلے کرتے ہیں اور جانشینی سرٹیفیکیٹ (فیملی ٹری) میں کیا کیا خرابیاں پیدا کرتے ہیں۔ میں آپ کو اپنی مثال دیتا ہوں کہ میرے فیملی ٹری میں میرے دو بچوں کا نام نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ماڈل کورٹ کے جج صاحبان کو اپنا ہیرو قرار دیا جنہوں نے چند دنوں میں بہت سارے کیسوں کا فیصلہ کیا ہے۔ ماڈل کورٹ میں تاریخ نہیں دی جاتی اور چند دنوں میں مسلسل کارروائی کے بعد فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔ ماڈل کورٹ کے ڈی جی سہیل ناصر کا کہنا ہے کہ ہر ضلع میں دو ماڈل کورٹ قائم کریں گے۔ ایک دیوانی مقدمات (فیملی، کرایہ داری) اور دوسرا فوجداری جو منشیات اور قتل کے مقدمات سنے گا۔

آخر میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ جلد اور فوری انصاف اچھی چیز ہے اور اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے مگر حیدر آباد دکن کے لا کالج کے وائس چانسلر نے مجھے کہا تھا کہ ’Justice Hurried is Justice Buried‘۔

ہم دعا گو ہیں کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اپنے نیک مقاصد میں کامیاب ہوں اور عوام کو سستا اور فوری انصاف ملنا شروع ہو۔ مگر نچلی سطح پر عدلیہ کی کارکردگی پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے تو بہتر ہوگا کیونکہ آج لوگ کہتے ہیں کہ ’وکیل کرنے کی بجائے جج کر لیا جائے تو بہتر ہے!‘
وکیلوں نے ہمیشہ انسانی حقوق کے لئے جدوجہد میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے خاص کر جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے لئے، مگر چوہدری صاحب نے وکیلوں کو مایوس کیا اور اس کے ساتھ وکیلوں کا ایک نیا کردار بھی سامنے آیا یعنی آئے دن ہڑتال۔

سو یہ بہتر ہوگا کہ چیف صاحب اپنے سینیئر جج صاحبان کو لے کر وکلا کے نمائندوں کے ساتھ مل بیٹھ کر کوئی حل نکالیں تاکہ عوام کو نقصان نہ پہنچے اور ان کو سستا، فوری اور بہتر انصاف ملنا شروع ہو جائے۔

سپریم کورٹ نے دہشت گردی کی تعریف کے بارے میں فیصلہ محفوظ کیا ہوا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر کوئی چھوٹے سے چھوٹے جرم (ذاتی دشمنی) میں بھی چاہتا ہے کہ دہشت گردی کی دفعہ ضرور لگائی جائے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ جنرل ضیا کے زمانے میں پولیس والے پوچھتے تھے کہ اسلامی دفعہ لگوانی ہے تو اس کے پیسے زیادہ ہیں۔

امید ہے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد دہشت گردی کی ایسی تعریف اور تشریح کی جائے گی جس سے اس کا بے جا اور وسیع پیمانے پر غلط استعمال رک جائے گا۔

امید کرنی چاہیے کہ موجودہ چیف جسٹس نے جو جوڈیشل ریفارمز کا جو کام شروع کیا ہے آنے والے چیف جسٹس اسے آگے بڑھائیں گے اور عوام کو واقعہ ہی سستا اور فوری انصاف ملنا شروع ہو جائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *