Type to search

اردو کہانیاں فيچرڈ

چڑیا اور پنکھا

چھت پہ لٹکتے پنکھے کے پَر کے ساتھ چڑیا کا ایک پَر بھی لٹک رہا تھا۔ شاید گرمیوں کی دھوپ سے بچتی کوئی چڑیا ہمارے برآمدے میں آ گھسی اور چلتے پنکھے کے ہاتھوں مر گئی۔

ہم چار بہن بھائی تھے۔ دو بڑی بہنیں اور پھر میں اور چھوٹا بھائی۔ زمیندار لوگ تھے ہم۔ چونکہ ابا اکلوتے تھے تو دادا کی طرف سے ساری جائیداد اکیلے ابا کو ملی سو ہمارا گزارا باقی رشتے داروں سے بہت بہتر ہوتا تھا۔

باجی نورین سب سے بڑی تھیں ہم میں اور وہ ہمارا خیال ماں سے بھی زیادہ رکھتی تھیں۔ باجی اتنی پتلی تھیں کہ ہم انہیں باجی چڑیا کہا کرتے تھے۔ پانچویں تک ہی پڑھی تھیں، چھٹی جماعت کے لئے گاؤں سے دس کلومیٹر دور قصبے میں جانا پڑتا تھا اور ابا کو یہ پسند نہیں تھا کہ باجی لڑکوں کے ساتھ ویگن میں سفر کریں سو ابا نے چوراسی ماڈل ٹویوٹا کرولا خریدی اور ڈرائیور کے طور پہ اپنے بھتیجے کو ذمہ داری سونپ دی۔ مگر چھ ہی ماہ میں ابا کو لگنے لگا کہ وہ بھتیجا بھی باقی لڑکوں کی طرح کا ہی ہے سو گاڑی بیچ دی اور باجی نورین کا سکول ختم ہو گیا۔

مجھے غیر نصابی کتب کی طرف اور موسیقی کی ایک الگ ہی دنیا میں لے جانے کی وجہ بھی باجی نورین ہی تھیں۔ ٹوٹی پھوٹی شاعری وہ خود بھی کرتی تھیں۔

میں ساتویں میں تھا جب باجی نورین کی شادی، ابا کے تایا زاد بھائی کے بیٹے سے ہوئی۔ ہنسی خوشی شادی ہوئی اور روتے روتے رخصتی۔ شاید یہ رخصتی کے وقت رونے کی نحوست تھی کہ باجی نورین دو سال بعد ہی طلاق لے کے واپس گھر آ گئیں۔

طلاق کی وجوہات میں اول تو ابا کا باجی نورین کے سسرال کی طرف سے جائیداد میں باجی کا حصہ مانگنے پہ، نہ دینے کا فیصلہ تھا، ابا بضد تھے کہ جہیز کے نام پہ جتنا کچھ دے دیا گیا ہے وہی نورین کا حصہ ہے، زمین میرے دونوں بیٹوں کی ہی ہے۔ دوسری وجہ شادی کے ڈیڑھ سال بعد بیٹی کا پیدا ہونا تھا جبکہ باجی کے سسرال بیٹے کے طلب گار تھے۔

ابا نہ زمینوں میں حصہ دینے پہ راضی تھے نہ باجی کے طلاق لینے کے حق میں۔ سو باجی معصوم بچی کو لیے واپس گھر تو آ گئیں مگر ابا نہ ان دونوں کی طرف دیکھتے تھے، نہ بلاتے تھے۔

باجی کو ہر روز مرتے دیکھ رہا تھا میں۔ وہ گھر میں رہ کے بھی گھر کی نہیں تھیں۔ کمرے سے کچن اور کچن سے کمرہ۔ بس۔ ننھی عالیہ کو ساتھ چمٹائے رکھتیں جیسے کوئی چھین لے گا۔

اور پھر ایک رشتہ آیا اور ابا نے بنا دیکھے سنے ہاں کر دی۔ نکاح ہوا اور ماتمی سی رخصتی تھی، اماں گھر بسنے کی دعائیں کم اور تلقین زیادہ کر رہی تھیں اور ابا کہیں آس پاس بھی نہیں تھے۔

بہنوئی بجلی کا کام کرتے تھے اور ایک بچی کے باپ بھی تھے۔ پہلی بیوی گھر چھوڑ کے کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی تھی (جو ہمیں بتایا گیا)۔ باجی دو بچیوں کی ماں بن گئیں اور سال بھر بعد تیسری بچی نے بھی دنیا میں آنکھیں کھولیں۔

باجی پچھلے تین سال میں ایک بار ملنےگھر آئی تھیں، ابا نے انہیں دیکھتے ہی اماں کو چیخ کے کہا تھا کہ یہ کُتیا میرے گھر میں پھر آ گئی ہے اور باجی انہی قدموں سے واپس پلٹ گئیں۔

تین بچیوں کا باپ، بجلی کا کام کبھی ملا کبھی نہیں، سو باجی مسلسل بہنوئی کی مار پیٹ کا نشانہ بنتی رہیں۔ جب چوتھی بار بھی بیٹی پیدا ہوئی تو بہنوئی نے دائی کے سامنے باجی کے پیٹ میں ٹھڈے مارے تھے۔

ہسپتال میں ملنے گئے تو باجی یوں لیٹی تھی جیسے لاش پڑی ہو۔ وہ کتابوں کی شوقین، وہ موسیقی کی دلدادہ کہیں نہیں تھی۔ باجی نے اماں سے دو لاکھ روپے مانگے جو بہنوئی کی فرمائش تھی۔ اماں نے ابا کو ڈرتے ڈرتے بتایا تو ابا کے یہ الفاظ میرے سینے میں آج بھی خنجر کی طرح پیوستہ ہیں "کون نورین، ہیں؟”۔ اور اماں کچھ بھی نہ بول سکیں۔

پھر اس دن باجی کے پڑوسیوں کا فون آیا اور اماں نے مجھے ساتھ لیا اور ویگن پکڑنے بھاگ نکلیں۔ میرے بار بار پوچھنے پہ بھی اماں قبر کی طرح خاموش تھیں۔

باجی نورین کے گھر کے آگے بھیڑ تھی، صحن میں پہنچا تو سامنے برآمدے کے فرش پہ چاروں بچیاں رو رہی تھیں اور اوپر چھت پہ لٹکتے پنکھے کے ساتھ باجی نورین کی لاش لٹک رہی تھی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *