Type to search

بڑی خبر خبریں فيچرڈ

سری لنکا میں چھ بم دھماکے، 137 افراد ہلاک

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں مختلف مقامات پر یکے بعد دیگرے ہونے والے چھ بم دھماکوں میں ابتدائی رپورٹوں کے مطابق 137 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔  ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکوں خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق، دھماکے مسیحی تہوار ایسٹر کی تقریبات کے موقع پر تین مختلف گرجا گھروں میں ہوئے جب کہ دہشت گردوں نے تین ہوٹلوں کو بھی نشانہ بنایا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کہا ہے کہ دارالحکومت کولمبو کے ایک گرجا گھر اور تین ہوٹلوں میں دھماکے ہوئے جب کہ مصافاتی علاقوں میں بھی دو مسیحی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام کی جانب سے دو مسیحی عبادت گاہوں پر ہونے والے بم دھماکوں کے خودکش ہونے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

کولمبو میں قائم گرجا گھر ’’سینٹ انتھونی‘‘ اور ہوٹلوں میں غیرملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد موجود رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں دہشت گردی کا دوسرا واقعہ، چمن میں دھماکے سے ایک شخص جاں بحق

دہشت گردی کی اس کارروائی میں جن عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے، ان میں شمالی علاقے ’’نیگومبو‘‘ اور مشرقی علاقے ’’باتیچالوا‘‘ میں قائم مسیحی عبادت گاہیں بھی شامل ہیں۔

نیگومبو میں قائم گرجا گھر کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر یہ پیغام جاری کیا گیا ہے کہ ’’ہمارے گرجا گھر میں بم دھماکہ ہوا ہے، اگر آپ کے اہلخانہ یہاں موجود ہیں تو ان کی مدد کے لیے ضرور آگے بڑھیں۔‘‘

دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں سری لنکا میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا، حکومت پاکستان اورعوام دہشت گردی کے اس سانحہ پر سری لنکا کی حکومت اور عوام کے شانہ بشانہ ہے۔

انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بھی ٹویٹر پیغام میں سری لنکا میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مکران کوسٹل ہائی وے پر بسوں سے اتار کر 14 مسافروں کا قتل

انہوں نےاپنے پیغام میں کہا ہے کہ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے عالمی سطح پر مضبوط حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ تین برس قبل لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹائون کے گلشن اقبال پارک میں ایسٹر کے موقع پر بم دھماکہ ہوا تھا جس میں ایک اندازے کے مطابق، 75 افراد ہلاک اور 340 زخمی ہو گئے تھے جن میں اکثریت مسیحی شہریوں کی تھی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *