عوام کو سمجھنا ہوگا کہ ملک کے بدعنوان افراد کی طرف سے چوری کی گئی ٹیکس کی رقم اچھے سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں، سڑکوں اور ہم غریبوں کی فلاح و بہبود کے بہت سے دوسرے منصوبوں کی نمائندگی کرتی ہے پاکستان میں ٹیکس اصلاحات: تاریخی اور تنقیدی منظرایک ظالم حکومت میں، حکمران بدعنوان ہو جاتا ہے اور اپنی طاقت کا استعمال عام بھلائی کے لیے کام کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کرتا ہے ۔ ارسطو، ایتھنائی آئینتباہی تب آتی ہے جب تاجر جس کا دل دولت اور لالچ سے بھرا ہو حکمران بن جاتا ہے ،افلاطون، دی ریپبلک تمام عوامی طاقت ایک مقدس امانت ہے، جسے منصفانہ، انصاف کے ساتھ، دیانتداری سے اور قانون کے مطابق استعمال کیا جانا ہے ۔ ورکرز پارٹی پاکستان اور دیگر بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان اور دیگر (PLD 2012 سپریم کورٹ آف پاکستان 681)۔
بلاشبہ پاکستان اپنے قیام سے لے کر اب تک کثیر جہتی سیاسی و اقتصادی بحرانوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔ بے رحم فوجی حکومتوں سے لے کر نااہل سویلین (واقعی؟) حکمرانوں تک، پاکستانی عوام نے 1958کے مارشل لاء سے لے کر آج تک بے پناہ مصائب برداشت کیے ہیں اور اپنے حقوق اور جمہوریت کی بحالی کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے وہ قیام پاکستان کے 77سال بعد بھی ہنوز’’ حقیقی آزادی‘‘ کی تلاش میں ہیں، جو آج تک اسلامی جمہوریہ(واقعی؟) میں ایک موہوم تصور ہے ۔ عوام کی حکمرانی، جیسا کہ آئینی جمہوریت کا تقاضا ہے، پاکستانیوں کے لئے ابّ تک فقط ایک خواب ہے۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک کے اہم وسائل پر قابض غیر جمہوری قوتوں کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر اور رویہ سفاک سے سفاک ترین ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال الیکٹرانک جرائم کی روک تھام (ترمیمی) ایکٹ، 2025 (2025 کا ایکٹ نمبر II) کی پارلیمان سے آقاؤں کی خوشنودی کی خاطر منظوری ہے۔ اس کالے قانون کا اصل مقصد ’’جعلی خبروں‘‘ کا مقابلہ کرنے کے نام پر اختلافی آوازوں کو دبانا ہے۔ یہ منتخب (واقعی؟) پارلیمان کی مکمل اسیری، بلکہ بد ترین محکومی، پر مہر تصدیق ہے۔ 21 اکتوبر 2024 کو نام نہاد خودمختار پارلیمان کی جانب سے آئینی (چھبیسویں ترمیم) ایکٹ، 2024 کی جلد بازی میں منظوری کا جو نا پسندیدہ اور غیر جمہوری عمل شروع ہوا ، وہ اب ایک منتخب حکومت (واقعی؟) کے لبادے میں ایک مکمل فاشسٹ ریاست کی طرف سفر کا آغاز ہے۔
جب کہ ملکی سیاسی کلچر مزید عدم برداشت اور بے حسی کا شکار ہوتا جا رہا ہے، مالیاتی انتظام (fiscal management)، نااہلی کے سبب ، تیزی سے بگڑ رہا ہے۔ ڈالر کے سنگین بحران سے لے کر قرضوں کے بھاری بوجھ تک، بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے سے لے کر نا قابل برداشت سود کی ادائیگی تک، بیرونی ادائیگیوں کے محاذ پر مشکلات سے لے کر غیر دانشمندانہ درآمدی پابندیوں تک، بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے مزید غربت تک ، اور ترقی کی نمو میں کمی اور رکاوٹووں سے لے کر اشرافیہ کی عیاشیوں تک ، تمام تشویشناک اشارے بہتر مالیاتی انتظام اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کی فوری ضرورت کے طلب گار ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر بیرونی قرض دہندگان کی ہم پر اپنی پالیسیوں اور حکم نامے مسلط کرنے کے مہلک عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے یہ اقدامات ضروری ہیں۔عوام کی فلاح و بہبود اسکے بغیر ہر گز ممکن نہیں ہے۔
برسوں سے، پاکستان عطیہ دہندگان اور قرض دہندگان کی طرف سے، خاص طور پر امیروں اور طاقتوروں سے واجب الادا ٹیکس وصول نہ کرنے پر اندرون اور بیرون ملک شدید تنقید کا نشانہ بن رہاہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مرکز اور صوبے دونوں معاشرے کے طاقتور طبقوں سے مستعدی سے ٹیکس وصول نہیں کر رہے ہیں ۔ مجموعی قومی ٹیکس وصولی میں صوبوں کا حصہ انتہائی کم ہے۔ مالی سال (2023-24) میں یہ کل قومی ٹیکس وصولی کا 7.67 فیصد اور جی ڈی پی کا محض 0.72 فیصد تھا۔
رواں مالی سال (2024-25) کے پہلے سات ماہ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 468 ارب روپے کے بھاری شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سینیٹ کی ریونیو اور فنانس کی قائمہ کمیٹی کے روبرو، چیئرمین ایف بی آر کے اپنے اعتراف کے مطابق فروری 2025 کے آخر تک کمی کا حجم 500 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے ۔ یہ کمی اور بھی زیادہ ہوتی اگر اربوں روپے کے واجب الادا ریفنڈز نہ روکے جاتے اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ملکیتی کارپوریشنوں سمیت بینکوں اور دیگر بڑی کمپنیوں سے غیر واجب ایڈوانسز لینے سے گریز کیا جاتا!
راشد محمود لنگڑیال کے 8 اگست 2024 کو ایف بی آر کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے، آئی ایم ایف کی جانب سے متفقہ اہداف کو پورا کرنے کے لیے مزید جابرانہ، بالواسطہ ٹیکس لگانے کے لیے شدید دباؤ ہے، کیونکہ ان کی کمان میں اہداف میں شارٹ فال مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری 7 بلین امریکی ڈالر کے 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تحت متفقہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب ، روپے کی قدر میں بڑے پیمانے پر کمی اور افراط زر کے غلط تخمینے کی وجہ سے اب حاصل نہیں کیا جا سکتا! نتیجتاً، ایف بی آر کی طرف سے آئی ایم ایف کی ایما پر لگائے گئے زیادہ شرح کے ٹیکسوں اور توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے تباہی کی یقینی ترکیبیں کے نتیجے میں ملک کی معیشت جمود کا شکار ہے، خاص طور پر صنعتی اور زرعی شعبوں میں شرح نمو تیزی سے گر گئی ہے۔
انکم ٹیکس کی آڑ میں بھی زیادہ شرح والے جابرانہ بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی بھی معاشی پسماندگی کا سبب بن رہی ہے اور مزید لاکھوں افراد کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل رہی ہے۔ یہاں تک کہ بہت سے متوسط طبقے کے خاندانوں کو بھی اب دو وقت کی روٹی کو پورا کرنا بہت مشکل لگتا ہے ( تفصیل کے لئےپڑھیں: گرتی شرح مہنگائی، بڑھتی ہوئی مالی مصیبتیں)۔
جو چیز صورتحال کو مزید تکلیف دہ بناتی ہے وہ یہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نے ’’بے بسی‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر آئی ایم ایف نے ہمارے ہاتھ نہ باندھے ہوتے تو ٹیکس کی شرح میں 15 فیصد تک کمی کردیتے‘‘۔ یہ محض ایک بہانہ ہے۔ آئی ایم ایف بنیادی بجٹ سرپلس چاہتا ہے جو اخراجات کو کم کر کے پورا کیا جا سکتا ہے نہ کہ غیر منطقی زیادہ شرح کے ٹیکسوں سے جو ہماری معیشت کو تباہ کرنے اور لوگوں کو ٹیکس بغاوت پر آمادہ کرنے کی طرف لے جا سکتے ہیں!
وفاقی حکومت کو اٹھارویں آئینی (ترمیمی) ایکٹ، 2010 (18ویں ترمیم) کے تحت ، تقریباً دو درجن وزارتوں اور متعدد متعلقہ محکموں اور ڈویژنوں کو مستقل طور پر ختم کرنے سے کون روک رہا ہے؟ وفاقی کابینہ میں کمی، جس میں وزراء، وزرائے مملکت اور مشیر شامل ہیں، ریاستی اخراجات کو کم کرنے کی طرف پہلا قدم ہونا چاہیے، عزیز دوست اورانتہائی قابل احترام مدبر ڈاکٹر پرویز طاہر (مرحوم )نے اپنے لاثانی کالموں میں کئی بار اس کی طرف دلائل کے ساتھ توجہ دلائی ۔
ناکارہ اور بدعنوان حکومتی مشینری کے بےہنگم سائز کو درست کرنا اور وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ٹیکسز کی اصلاح (شاہد حفیظ کاردار 2023) اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کو کام سونپنا ضروری ڈھانچہ جاتی اصلاحات ہیں، جن کے بغیر معاشی و معاشرتی (انسانی) ترقی ممکن نہیں۔ ٹیکس نظام کی اوور ہالنگ کے بارے میں کوئی بھی بحث اس طرح کی ڈھانچہ جاتی ساختی تبدیلیوں کے بعد ہونی چاہیے۔ شاہد حفیظ کاردار اوربہت سے دوسرے لوگوں نے اپنے کالموں میں اس پر بار بار بحث کی ہے۔
جہاں تک پاکستان کی ٹیکس صلاحیت (potential) کا تعلق ہے، تازہ ترین مطالعہ بتاتا ہے کہ وسیع تر ممکنہ بنیاد پر کم شرح والے ٹیکس کے ساتھ، وفاقی سطح پر30 ٹریلین روپے اور قومی سطح پر34 ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا %17، بشمول غیر رسمی معیشت) ہے۔ ایف بی آر 10 ملین افراد (https://data.worldbank.org/country/pakistan) سے بھی ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہا ہے، جن کی سالانہ قابل ٹیکس آمدنی بطور خوردہ فروش2 ملین روپے ہے ۔ انکم ٹیکس کی مروجہ شرحوں پر اکیلے ان سے کل انکم ٹیکس کی وصولی تقریباً 3000 ارب روپے بنتی ہے ۔ تمام ذرائع سے انکم ٹیکس کی وصولی 15 ٹریلین روپے ہو سکتی ہے،بشرطیکہ تمام ٹیکس مراعات واپس لے لی جائیں اور پوری غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
10 فیصد ہم آہنگ سیلز ٹیکس (HST)کی صلاحیت 12 ٹریلین روپے ہے اگر اشیاء اور خدمات پر ہم آہنگ ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT)، ایک واحد موثر قومی ٹیکس ایجنسی یا نیشنل ٹیکس کونسل کے ذریعے جمع کیے جائیں۔
کسٹمز اور فیڈرل ایکسائز سے 3 ٹریلین روپے اکھٹے کیے جا سکتے ہیں ۔
صوبے4 ٹریلین روپے جمع کر سکتے ہیں، اگر زرعی انکم ٹیکس، اپنے متعلقہ قوانین میں ترامیم کے بعد، مناسب طریقے سے جمع کیا جائے۔ مالی سال (2023-24) میں تمام صوبوں نے 774 بلین روپے کا ٹیکس حاصل کیا ،جو دستاویزی جی ڈی پی کا محض 0.72 فیصد تھا۔
موجودہ ٹیکس نظام متوازی معیشت کو فروغ دیتا ہے۔ اس کی اصلاح ایک فریب کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں پیوند کاری ایک لاحاصل مشق ہو گی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کتنے ٹیکس اصلاحات کمیشن یا کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں یا مزید دی جائیں گی؛ نتیجہ لاعلاج کے علاج کرنے کی مسلسل غلطی ہو گا۔ اس کا تدارک ٹیکس کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی اور موجودہ ٹیکس انتظامیہ (apparatus) کو ختم کر کے اس کی جگہ ایک مکمل خودکار قومی ٹیکس ایجنسی کا قیام ہے، جو پیشہ ور افراد کے ذریعہ چلائی جائے اور ایک آزاد بورڈ آف گورنرز اس کی نگرانی کرے ، جو سینیٹ کو جوابدہ بھی ہو۔
وفاقی اور صوبائی سطحوں پر درج ذیل اقدامات سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب موجودہ 9.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد ہو سکتا ہے۔
• مؤثر نفاذ اور رضاکارانہ تعمیل کے ذریعے ٹیکس کے فرق کو پورا کرنا
• تمام رعایتی قانونی ریگولیٹری آرڈرز (SROs) کی تنسیخ
• امیروں پر مناسب پراپرٹی ٹیکس
• تمام منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کی منتقلی پر عام شرح پر کیپیٹل گین ٹیکس
• ہم آہنگ قانون (unified code) کے تحت تمام قسم کی اشیا اور خدمات پر سیلز ٹیکس کا نفاذ
مؤثر مالیاتی انتظام اور جوابدہی کا نظام ہی پاکستان کو مالیاتی خسارے پر مؤثر طریقے سے قابو پانے میں مدد دے سکتے ہیں ۔ ایک بار جب وفاقی اور صوبائی حکومتیں گڈ گورننس (good governance) کی مدد سے مالیاتی گنجائش پیدا کر لیں، تو عوام کو پینے کے صاف اور محفوظ پانی، صحت اور تعلیم، ٹرانسپورٹ اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دے سکتی ہیں ۔
انفراسٹرکچر کی تعمیر، صنعتی شعبے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی فرموں کی ترقی میں سہولت فراہم کرنے اور زرعی شعبے میں چھوٹے فارموں کو روزگار کے بھرپور اور مساوی معاشی ترقی کے عمل کے لیے وسائل کے حصول کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی، بڑے کارپوریشنز، غریبوں کے لیے ایکویٹی اسٹیک (equity stake)کے ساتھ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے، جامع ترقی کے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی ڈھانچہ جاتی ساختی تبدیلی کی منزلیں طے کرے گا ، جو لوگوں کے لیے اور عوام کے ذریعے اقتصادی ترقی حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے، یہ اس وقت صرف اشرافیہ تک محدود ہے۔
ہر سال بجٹ کے ساتھ مالیاتی ایکٹ (Finance Act) کے ذریعے ٹیکس قوانین میں بیشمار ترامیم کرنا اور اس کے درمیان سپلیمنٹری ایکٹس (upplementary ActsS)اور سٹیٹوٹری ریگولیٹری آرڈرز (SROs) کے ذریعے تبدیلیاں کوئی کارآمد مقصد حاصل نہیں کر رہیں، بلکہ غیر یقینی کی فضا کا موجب ہیں ۔ یہ ٹیکس ایڈمنسٹریشن کو بہتر بنانے کا حل نہیں ہیں۔ درحقیقت، پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 77 اور آرٹیکل 162 کے باہم مطالعہ کے پیش نظر، ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے ٹیکس لگانا غیر آئینی ہے۔ ان ایگزیکٹو آرڈرز (SROs)کے ذریعے، حکومت پارلیمان کو نظرانداز کرتی ہے۔ یہ سپریم کورٹ کے حکم بحوالہ، انجینئر اقبال ظفر جھگڑا اور سینیٹر رخسانہ زبیری بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان اور دیگر ((2013) 108 TAX 1 (S.C. Pak.)) ، کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے، جس میں کہا گیا ہے:
یہ اچھی طرح سے طے شدہ اصول ہے کہ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے تحت یا ذریعے کے علاوہ فیڈریشن کے مقصد کے لئےٹیکس لگانا جائز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں Collector of Customs Cyanamid Pakistan Ltd v (2005 PLD SC 495) کے کیس کا حوالہ دیا جا سکتا ہے، جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح کے قانون سازی کے اختیارات ایگزیکٹو اتھارٹیز کو نہیں دیئے جا سکتے حکومت پاکستان بمقابلہ محمد اشرف (1993 PLD 176 SC) اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشنز بمقابلہ صوبہ سندھ ( YLR 1922004) بھی دیکھیں۔ (صفحہ 18، پیرا 20)
موثر مالیاتی انتظام ایف بی آر کو ایک خودمختار ادارے میں تبدیل کرنے میں مضمر ہے، جو ایک خودمختار بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ذریعے چلایا جائے اورجس میں پیشہ ور افراد شامل ہوں، وہ حکمران جماعت کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے نہیں، بلکہ تمام صوبوں کے نمائندے کے طور پر کام کرنے والی سینیٹ کو جوابدہ ہوں۔
ایف بی آر کو ہر قسم کے سیاسی اثر و رسوخ سے پاک رہنا چاہیے۔ حکومت کی اولین ترجیح ٹیکس قوانین کا غیر جانبدارانہ نفاذ ہونا چاہیے، کیونکہ یہ موجودہ معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔ مزید برآں، ٹیکس محصولات کو عام عوام کے فائدے کے لیے مختص کرنا اور بدعنوانی سے دوچار عوامی شعبے کے ناکارہ اداروں پر وسائل کو ضائع کرنے سے گریز کرنا بہت ضروری ہے۔
اس طرح کے اقدامات یہ ظاہر کریں گے کہ منتخب حکومت ذمہ دار ہے اور اپنے شہریوں کے لیے حقیقی طور پر فکر مند ہے۔ یہ طریقہ ٹیکس کی تعمیل کے کلچر کو فروغ دے گا اور ٹیکس کے نظام میں عوام کا اعتماد بحال کرنے میں مدد کرے گا۔ رضاکارانہ ٹیکس کی تعمیل میں اضافہ صرف ایک مضبوط ڈیٹرنٹ فریم ورک (detterent framework) کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جہاں تعمیل کرنے والے ٹیکس دہندگان کی عزت کی جاتی ہو ، جبکہ ٹیکس چوروں کو احتساب اور قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔
عوامی فلاح و بہبود کیلئے مالیاتی انتظام کی تشکیلِ نو
بلاشبہ پاکستان اپنے قیام سے لے کر اب تک کثیر جہتی سیاسی و اقتصادی بحرانوں کا سامنا کرتا رہا ہے، بے رحم فوجی حکومتوں سے لے کر نااہل سویلین (واقعی؟) حکمرانوں تک، پاکستانی عوام نے 1958کے مارشل لاء سے لے کر آج تک بے پناہ مصائب برداشت کیے ہیں اور اپنے حقوق اور جمہوریت کی بحالی کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے وہ قیام پاکستان کے 77سال بعد بھی ہنوز’’ حقیقی آزادی‘‘ کی تلاش میں ہیں، جو آج تک اسلامی جمہوریہ(واقعی؟) میں ایک موہوم تصور ہے ، عوام کی حکمرانی، جیسا کہ آئینی جمہوریت کا تقاضا ہے، پاکستانیوں کے لئے ابّ تک فقط ایک خواب ہے
04:44 PM, 13 Feb, 2025