سابق صدر پرویز مشرف کو خصوصی عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کا معاملہ یا آرمی چیف کی مدت ملازمت کے سلسلے میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کا مسئلہ ہو یہ کمیٹی اپنے کارکنان کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہی ہے۔ بات کارکنان کی عدم تشفی تک ہی محدود نہیں بلکہ جماعت کے آزمودہ کار قومی اور صوبائی اسمبلی کی ممبران بھی شکوہ کناں دکھائی دیتے ہیں۔ شیخوپورہ سے منتخب رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف تقریباً ہر ٹاک شو میں یہی گلہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اس جماعت کا پورے ملک خاص کر صوبہ پنجاب میں بہت بڑا ووٹ بنک ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ جماعت صوبہ پنجاب میں 7 مرتبہ جبکہ مرکز میں 3 بار حکمران رہی ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔
جماعت کے معاملات چلانے کیلئے قائم کی گئی کمیٹی کے چار ارکان میں سے ایک احسن اقبال آج کل نیب کی زلف کے اسیر ہیں جبکہ باقی تین میں خواجہ آصف، رانا تنویر اور سابق سپیکر ایاز صادق پراسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کارکنان آرمی ایکٹ میں ترمیم کی غیر مشروط حمایت پر پہلے ہی سیخ پا تھے کہ خواجہ آصف نے یہ کہہ کر انہیں مزید مشتعل کر دیا کہ کارکن باہر نہیں نکلا۔ اگر یہ سیاسی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ مسلم لیگ کا کوئی منتخب نمائندہ لوٹا نہیں بنا تو یہ بھی حقیقت ہے کہ اس بار جماعت کا کارکن اپنے قائد کے بیانیہ 'ووٹ کو عزت دو' کی خاطر جان دینے کو تیار تھا۔ کارکنان تو قائدین کی کال کا انتظار ہی کرتے رہ گئے مگر کسی نے انہیں پکارا ہی نہیں پھر ان سے گلہ کیسا؟ میاں نواز شریف کی مجبوری کارکنان سمجھتے ہیں اسلئے انہیں اپنے قائد سے نہ صرف ہمدردی ہے بلکہ قائد سے کئے گئے سلوک پر وہ شدید برہم بھی ہیں لیکن جماعت کے کارکنان مریم نواز کی آواز سننا چاہتے ہیں۔ انہیں اپنے درمیان دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ میاں صاحب کے بعد صرف مریم کو ہی اپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں۔
جماعت کے کارکنان مریم نواز کو ایک بہادر اور اصول کیلئے لڑ جانے والی لیڈر کی حیثیت میں پسند کرتے ہیں۔ جس طرج وہ اپنی شدید بیمار والدہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر جیل جانے کیلئے پاکستان واپس آئیں وہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ ایک ایسے وقت میں جب حکومت اپنی نااہلی اور ہر محاذ پر ناکامی کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے اگر مریم اپنے کارکنان سے تعلق استوار کر لیتی ہیں تو اس حکومت کیلئے انہیں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔