ترقی پسند مصنف اور سینئر صحافی خالد احمد کی یاد میں ایک ملاقات

جب خالد احمد صاحب کی تحریروں، ان کے صحافتی اصولوں اور ان کے انسانیت کے لیے کیے گئے کاموں پر روشنی ڈالی گئی، تو ان کی شخصیت اور ان کی جستجو کے اثرات نے میرے اندر ایک نیا شعور پیدا کیا،خالد احمد صاحب کی شخصیت ایک ایسے ستارے کی مانند تھی جس نے ہمارے اندھیروں میں روشنی پھیلائی

08:03 PM, 13 Jan, 2025

حسن عمر

خالد احمد صاحب کی یاد میں اسلام آباد کے بلیک ہول میں منعقد ہونے والا پروگرام ایک ایسا لمحہ تھا جو میری زندگی کا ایک سنگ میل بن گیا۔ یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک یادگار تجربہ تھا جس میں علمی، ادبی اور صحافتی دنیا کے ایک عظیم شخصیت کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اس محفل میں جب خالد احمد صاحب کی تحریروں، ان کے صحافتی اصولوں اور ان کے انسانیت کے لیے کیے گئے کاموں پر روشنی ڈالی گئی، تو ان کی شخصیت اور ان کی جستجو کے اثرات نے میرے اندر ایک نیا شعور پیدا کیا۔ اس تقریب میں جناب وجاہت مسعود صاحب سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا، اور یہ ملاقات میرے لیے ایک فکری اور روحانی تجربہ بن گئی۔

اسلام آباد کا بلیک ہول ایک منفرد مقام ہے جہاں شہر کی زندگی کی رفتار تھمی ہوئی سی محسوس ہوتی ہے، اور جہاں ذہنوں کی ایک نئی دنیا آباد ہوتی ہے۔ جب وہاں خالد احمد صاحب کی یاد میں پروگرام کا انعقاد کیا گیا، تو اس مقام کی خاموشی اور گہرائی نے اس محفل کو اور بھی دلنشین بنا دیا۔ یہ لمحہ محض ایک تقریر یا یادگار تقریر کا لمحہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی حقیقت کا ادراک تھا جو صحافت، علم اور سچائی کے سفر سے جڑی ہوئی تھی۔

خالد احمد صاحب کی شخصیت ایک ایسے ستارے کی مانند تھی جس نے ہمارے اندھیروں میں روشنی پھیلائی۔ ان کی صحافت صرف خبروں تک محدود نہیں تھی، بلکہ ان کی تحریروں میں ایک گہرا پیغام اور ایک اعلیٰ مقصد چھپا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ صحافت کو ایک مشن کے طور پر اپنایا۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف معلومات کی ترسیل نہیں تھا، بلکہ انہوں نے اسے ایک ذریعہ بنایا جس کے ذریعے وہ انسانیت، سچائی اور انصاف کے اصولوں کو دنیا کے سامنے رکھتے تھے۔ ان کی تحریریں نہ صرف ایک صحافی کی ذمہ داریوں کی عکاسی کرتی تھیں، بلکہ وہ انسانیت کے اعلیٰ اصولوں کی پاسداری اور اس کے فروغ کی ایک مثال تھیں۔

خالد احمد صاحب کی زندگی اور کام کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے مختلف مقررین نے ان کی صحافتی مہارت اور ان کے اخلاقی اصولوں کی تعریف کی۔ ہر شخص نے اپنی تقریر میں ان کے نظریات اور اصولوں کی عظمت کا تذکرہ کیا، لیکن وہ لمحہ جو میرے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا، وہ تھا جناب وجاہت مسعود صاحب کی گفتگو۔ ان کی باتوں میں ایک ایسی گہرائی تھی جو صرف کسی فلسفی یا شاعر کے کلمات میں ہی پائی جا سکتی تھی۔ ان کی آواز میں ایسی تاثیر تھی جو ایک انسان کے دل میں اُتر کر اس کی حقیقت سے ملواتی تھی۔

جب وجاہت مسعود صاحب نے خالد احمد صاحب کی شخصیت پر روشنی ڈالی، تو ان کے الفاظ میں ایک غیر معمولی سچائی تھی جو دل میں گہرائی تک جا کر اثر انداز ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا، ”خالد احمد صاحب کی تحریریں محض خبروں تک محدود نہیں تھیں، بلکہ وہ ایک نیا فکری منظرنامہ تخلیق کرتی تھیں۔ ان کی تحریروں میں جو انسانیت کی گہرائی تھی، جو سچائی کا شعور تھا، وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔“ ان کی باتوں میں وہ سچائی تھی جو ہمیں اپنی حقیقت کا ادراک دیتی ہے اور ہمارے اندر کی روشنی کو جگاتی ہے۔

وجاہت مسعود صاحب کی باتوں میں ایک خاص قسم کا فلسفہ تھا، جو انسان کے دل میں اُتر کر اسے اپنی حقیقت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا تھا۔ ان کا کہنا تھا، ”خالد احمد صاحب کی زندگی ایک مشعل کی مانند تھی، جس کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوئی۔“ یہ الفاظ میرے دل میں گہرے اثر کے طور پر گونج گئے۔ ان کی باتوں میں وہ سچائی تھی جس کا ہم سب کو انتظار ہوتا ہے اور وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک انسان کی زندگی کا مقصد صرف اپنی ذاتی کامیابیاں حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس دنیا میں ایک ایسی روشنی بننے کے لیے آیا ہے جو دوسروں کے راستے روشن کرے۔

یہ الفاظ میرے دل میں ایک گہرا تاثر چھوڑ گئے اور میں نے یہ محسوس کیا کہ صحافت کا مقصد صرف خبروں کی ترسیل نہیں ہوتا، بلکہ یہ معاشرتی اور اخلاقی اقدار کی حفاظت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ خالد احمد صاحب کی تحریریں اس بات کا ثبوت تھیں کہ صحافت صرف معلومات فراہم کرنے کا عمل نہیں ہے، بلکہ یہ معاشرتی حقیقتوں کا شعور پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ان کی تحریریں اس بات کی غمازی کرتی تھیں کہ سچائی اور انصاف کے اصولوں کے مطابق چلنا ہی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

پروگرام کے دوران جب وجاہت مسعود صاحب نے خالد احمد صاحب کی شخصیت اور ان کے کام کو بیان کیا، تو ان کی باتوں میں ایک ایسی شدت تھی جو انسان کو اپنے اندر کی حقیقت سے ملواتی تھی۔ ان کی گفتگو نے مجھے یہ سکھایا کہ سچائی کا راستہ ہمیشہ واضح نہیں ہوتا، لیکن جو شخص سچائی کے راستے پر چلتا ہے، وہ کسی بھی حالات میں اپنے اصولوں سے ہٹتا نہیں ہے۔ یہ بات میری زندگی کے ایک اہم سبق میں بدل گئی۔

پروگرام کے اختتام پر، جب میں نے وجاہت مسعود صاحب سے پہلی بار روبرو ملاقات کی، تو وہ لمحہ میرے لیے ایک نئی روشنی کی طرح تھا۔ ٹیلیفون پر ہم نے بے شمار موضوعات پر بات کی تھی، لیکن آج پہلی بار ان کی شخصیت کا براہ راست سامنا کرنا ایک خاص تجربہ تھا۔ ان کی باتوں میں وہی سچائی اور جوش تھا جو ٹیلیفون پر ہمیشہ سننے کو ملتا تھا، لیکن آج کی ملاقات میں ان کی باتوں میں وہ گہرائی تھی جو میں نے پہلے کبھی نہیں محسوس کی تھی۔ ان کی گفتگو میں ایک سادگی تھی، لیکن اس سادگی میں ایک خاص نوعیت کی حقیقت اور گہرائی چھپی ہوئی تھی جو انسان کے دل میں اُتر جاتی تھی۔

ملاقات کے دوران، میں نے وجاہت مسعود صاحب سے کہا کہ آپ کی باتوں سے ہمیشہ ایک نئی روشنی ملتی ہے، اور وہ مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہوئے کہنے لگے، ”علم اور سچائی کی جستجو کا سفر کبھی مکمل نہیں ہوتا، اور یہ ہمیں ہر نئے دن سکھاتا ہے کہ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں، وہ صرف آغاز ہوتا ہے۔“ ان کے یہ الفاظ میرے دل میں ایک نئی طاقت اور حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ یہ بات مجھے اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ علم اور سچائی کا سفر کبھی مکمل نہیں ہوتا، اور یہ ہمیشہ ہماری زندگی کے ہر نئے دن میں ایک نئی روشنی دکھاتا ہے۔

وجاہت مسعود صاحب نے اپنی گفتگو میں خالد احمد صاحب کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کا مقصد صرف خبریں فراہم کرنا نہیں، بلکہ یہ ایک معاشرتی تبدیلی کا وسیلہ بن سکتا ہے، جسے صحیح معنوں میں اپنانا بہت ضروری ہے۔ ان کی یہ باتیں میرے دل میں ایک گہرے اثر کے طور پر بیٹھی رہیں اور میں نے یہ سمجھا کہ صحافت صرف ایک پیشہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مشن ہے جو انسانیت کی خدمت کرتا ہے۔

یہ ملاقات میرے لیے ایک خاص لمحہ تھی جس میں میں نے یہ سیکھا کہ علم اور سچائی کی جستجو کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ خالد احمد صاحب کی یاد میں یہ لمحہ نہ صرف ان کی عظمت کا اعتراف تھا، بلکہ ایک ایسا پیغام تھا جو ہمیشہ کے لیے میرے دل میں زندہ رہے گا کہ ہم سب کا اصل مقصد اپنے اندر کی روشنی کو تلاش کرنا اور دوسروں کو وہ روشنی دکھانا ہے۔

مزیدخبریں