کبھی کبھی قدرت ایسے مناظر بھی دکھا دیتی ہے جن کا کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ کشمیری پاکستانی سفارت خانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ چشمِ فلک نے یہ دن بھی دیکھنا تھا۔ آج تک تو یہی دیکھا کہ کشمیری دنیا بھر میں 5 فروری کے روز بھارتی سفارت خانوں کے باہر احتجاج کرتے تھے، مگر 10 جون 2026 کو ہم نے لندن میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر پاکستانی اور بھارتی کشمیریوں کا مشترکہ احتجاجی مظاہرہ بھی دیکھ لیا۔
یوں لگتا ہے جیسے ہمارے اربابِ اختیار ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ بند کرانے کے چکر میں اپنے اندر کے تضادات اور اپنے اندر کے فرعون کو فراموش کر چکے ہیں۔ آج ہمارا پاکستانی کشمیر میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ طاقت، دھونس اور فرعونیت کی خواہش نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعد اب کشمیر کو بھی احتجاج، ناراضی اور نفرت کی اندھی غار میں دھکیل دیا ہے، اور رہی سہی کسر گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج نے پوری کر دی ہے۔
ہیئتِ مقتدرہ نے وہی کچھ کیا ہے جو 8 فروری 2024 کو کیا تھا۔ ایک جماعت کو انتخابی عمل سے باہر کیا، فارم 47 کی حکومتیں تشکیل دیں، مگر اب کی بار وہ یہ بھول رہے ہیں کہ گلگت بلتستان کے ساتھ لداخ لگتا ہے؛ یہ پنجاب، سندھ یا بلوچستان نہیں ہے۔ ادھر جو لاوا پھٹے گا، اس کی تپش ناقابلِ برداشت ہوگی، بالکل اسی طرح جیسے کشمیر میں ہو سکتا ہے۔
میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستانی کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی ان 12 نشستوں کا پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں ہونا کیوں ضروری ہے؟ کیا ان تینوں صوبوں کے نمائندے بھی کشمیر سے منتخب ہوتے ہیں؟ بالکل نہیں۔ کشمیر ایکشن کمیٹی کے جائز احتجاج کو بزورِ بندوق کچل دینا ایک بہت بڑی حماقت ہے۔
ہماری ہیئتِ مقتدرہ خون آشام ہو چکی ہے۔ چاہے 17 جون 2014 کا ماڈل ٹاؤن قتلِ عام ہو، 26 نومبر 2024 کا اسلام آباد قتلِ عام ہو یا 25 اکتوبر 2025 کا مریدکے قتلِ عام، خون آشامی کی یہ لت پڑ چکی ہے۔ مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ جو کچھ وادیٔ تیراہ میں ہو سکتا ہے، جو کچھ بلوچستان میں ہو سکتا ہے، وہ پاکستانی کشمیر میں کرنا بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔
اس کی سب سے بڑی حقیقت جغرافیہ ہے، کیونکہ 78 سالوں سے ہماری ریاست بھارتی کشمیر کے حوالے سے وہاں کے ریاستی جبر پر جو کچھ کہتی چلی آ رہی ہے، وہی سب اب ہماری ریاست پاکستانی کشمیر میں کر رہی ہے۔
اوپر سے کشمیر عوامی کمیٹی کے شوکت میر کو "را" کا ایجنٹ قرار دینے کا جو جھوٹا اور بے تکا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے، وہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔
ایک نظر تاریخ پر ڈالیں۔
پاکستانی اور بھارتی کشمیر کبھی بھی 1947 سے قبل ایک ریاست نہیں رہے۔ بھارتی کشمیر کی وادی میں مسلم اکثریت ہے، وہاں کشمیری اور اردو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جموں میں ہندو اور سکھ آباد ہیں، جہاں ہندی اور پنجابی بولی جاتی ہے۔ لداخ میں بدھ مت کے ماننے والے ہیں، جہاں مقامی زبانوں کے ساتھ ہندی بھی رائج ہے۔
پاکستانی کشمیر کے لوگ تو کشمیری زبان جانتے ہی نہیں، کیونکہ وہ کبھی وادیٔ کشمیر کا حصہ رہے ہی نہیں۔ وہاں اردو، پنجابی، پوٹھوہاری اور پشتو بولی جاتی ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر تو ایسٹ انڈیا کمپنی اور مہاراجہ گلاب سنگھ کے درمیان معاہدے کے بعد وجود میں آئی تھی۔
دانشور لیاقت علی کے مطابق:
"میجر ولیم الیگزینڈر براون برطانوی فوج کا ایک سکاٹش افسر تھا جو اگست 1947 میں گلگت سکاوٹس کا کمانڈنٹ تھا۔ اسی نے اپنے دوسرے برطانوی فوجی افسر، کیپٹن میتھیو، کے اشتراک سے موجودہ گلگت بلتستان کو اکتوبر 1947 میں پاکستان کے لیے حاصل کیا تھا۔ وہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اولین کمانڈنٹس میں سے ایک تھا اور 1959 تک پاکستان میں مختلف عہدوں پر فائز رہا۔ بجا طور پر اسے گلگت بلتستان کا بانی کہا جاتا ہے۔
اسی خدمت کے صلے میں ریاستِ پاکستان نے 1993 میں اسے بعد از مرگ ستارۂ امتیاز سے نوازا تھا۔"
یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ ان باتوں کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ لہٰذا دانشوروں اور صحافیوں سے گزارش ہے کہ پاکستانی کشمیر، بھارتی کشمیر اور گلگت بلتستان پر بات کرنے اور لکھنے سے پہلے ان حقائق پر بھی نظر ڈال لیا کریں۔