Magnicifica Humanitasکو ہماری ٹیکنالوجی پر مبنی دنیامیں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence- AI)کے نئے اخلاقی اور سماجی اثرات پر غوروفکر کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی ایک کارکن کی حیثیت سے مجھے بھی یہ دلچسپی پیدا ہوئی کہ یہ مراسلہ کیسا ہے اور اس کے انسانوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ یہ ایک دلچسپ دستاویز ہے جسے پڑھ کر میں نے بہت لطف اٹھایا۔ اس کے کئی پہلو ایسے ہیں جن پر لکھا جا سکتا ہے۔ اس آرٹیکل میں پاپائی مراسلے میں کمزور اور پسماندہ انسانوں، گروہوں اور ملکوں پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ٹیکنالوجی کی بھرمار کے اثرات پر پوپ کی تشویش کا احاطہ کیا جا رہا ہے۔
پاپائے اعظم پوپ لیو کا پہلا Encyclical (مذہبی اور اصلاحی گشتی مراسلہ) بعنوان Magnificia Humanitas: On Safeguarding the Human Person in a Time of Artificial Intelligence (انسانیتِ عظیم: مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی وجود کا تحفظ) 25 مئی کو جاری کیا گیا۔ یہ مراسلہ تقریباً 42,000 الفاظ اور 245 نمبروں والے پیراگراف پر مشتمل ہے۔ تعارف کے بعد پہلے دو ابواب صحیفائی اور تاریخی پس منظر فراہم کرتے ہیں اور کیتھولک سماجی تعلیمات کے طویل سلسلے کے ساتھ ربط قائم کرتے ہیں۔ اگرچہ تیسرے سے پانچویں باب تک پوپ کے دلی خدشات کا احاطہ کیا گیا ہے، تاہم ان میں سابقہ پاپائی مراسلوں اور کیتھولک سماجی تعلیمات کا کافی حوالہ ہے۔
پوپ لیو اپنے خصوصی مراسلے میں انسانی وقار، انصاف کے فروغ اور باہمی اخوت کے امکان پر زور دیتے ہیں۔ وہ تعارف ہی میں بیان کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں، جب انسانی وقار کو غیر انسانی رویوں کی نئی اشکال سے خطرہ لاحق ہے، یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم مکمل طور پر انسانی اقدار کے حامل رہیں۔ پوپ علم اور ٹیکنالوجی کی مخالفت نہیں کرتے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایجادات انسانی ترقی اور دنیا کی دیکھ بھال میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم، اگر مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کا اختیار چند ہاتھوں میں مرکوز ہو تو اس سے غیر منصفانہ ترقی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو عدم مساوات کو فروغ دیتی ہے۔
پوپ فرماتے ہیں: "مصنوعی ذہانت کا استعمال کبھی بھی محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں ہوتا۔ جب یہ ایسے عمل کا حصہ بنتی ہے جو لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتا ہے تو اس کا تعلق حقوق، مواقع، حیثیت اور آزادی جیسے امور سے جڑ جاتا ہے۔ ملازمت، قرض، عوامی خدمات تک رسائی یا کسی فرد کی ساکھ سے متعلق فیصلے مکمل طور پر خودکار نظاموں کے سپرد کیے جانے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔"
وہ آگے لکھتے ہیں: "نام نہاد مصنوعی ذہانت نہ تو تجربات سے گزرتی ہے، نہ ہی اس کا کوئی جسم ہوتا ہے، نہ یہ خوشی یا درد محسوس کرتی ہے، نہ تعلقات کے ذریعے پختگی حاصل کرتی ہے، نہ یہ جانتی ہے کہ محبت، کام، دوستی یا ذمہ داری کا کیا مطلب ہے۔ نیز اس کا کوئی ضمیر بھی نہیں ہوتا۔"
پوپ خبردار کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے ضمن میں وضع کردہ اخلاقی اصول سماجی انصاف کے مشترکہ معیارات کے مطابق ہونے چاہییں، بصورت دیگر اس پر اختیار رکھنے والے اپنی اقدار مسلط کر دیں گے۔
آج کل آٹومیشن، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کا ملاپ تیزی سے کام کی ساخت کو بدل رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک افراتفری میں مشینوں کا استعمال بڑھا رہے ہیں، جس سے بے روزگاری اور ادارہ جاتی کشمکش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پوپ مزدوروں کے حقوق کے بارے میں فکرمند ہیں۔ وہ ٹریڈ یونینز کی بہت قدر کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ روزگار کے نئے طریقوں اور ان کے تقاضوں کے مطابق مزدوروں کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ قابلِ عمل تعلیم و تربیت میں سرمایہ کاری کرنا ضروری ہے تاکہ ڈیجیٹل اکانومی کے تقاضوں کے مطابق پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں کمی روزگار کے مواقع کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ جدت طرازی کو ناانصافی کو بڑھاوا دینے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ لیبر پالیسیوں کو روزگار کے تسلسل اور معیار کو فروغ دینے اور عدم تحفظ کے رجحان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
آزادانہ منڈی کے بارے میں پوپ نے واضح کیا ہے کہ معاشی آزادی کو عام بھلائی کے پیمانے پر ناپا جائے۔ انہوں نے پوپ فرانسس کا حوالہ دیا کہ: "ایک منصفانہ معاشرے کو ایک چوکس ریاست اور اداروں کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف کارکردگی کی ذہنیت پر قابو پانے کے قابل ہوں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وسائل، تخلیقات اور قوانین سب سے زیادہ کمزوروں کے حق میں ہوں۔"
آج کل سائنسی اور تکنیکی ترقی، حتیٰ کہ طبی شعبے میں بھی، غریبوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ چنانچہ پوپ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جدت کے ثمرات، جن میں طبی نگہداشت، معلومات، آلات اور مواقع شامل ہیں، تک رسائی منصفانہ بنیادوں پر ممکن بنائی جائے۔ نابرابری کے ازالے کے لیے منصفانہ قوانین اور وسائل کی دوبارہ تقسیم ناگزیر ہے۔ سیاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ معیشتوں اور ٹیکنالوجیز کا رخ عوامی مفاد کی طرف موڑے۔ وہ باعزت روزگار، سماجی شمولیت نیز دولت اور جدت کی منصفانہ تقسیم کو فروغ دے۔
بچوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پوپ ہماری توجہ گرومنگ (بچوں کو ورغلانا)، بلیک میلنگ اور جنسی استحصال جیسے آن لائن معاملات کی جانب مبذول کرواتے ہیں۔ بچپن میں کسی بالغ کی نگرانی کے بغیر موبائل ڈیوائس کا استعمال بچوں کے لیے خطرات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ پوپ تجویز کرتے ہیں کہ ہم سب سے پہلے خود کو اس بات کی تعلیم دیں کہ ٹیکنالوجی کو انسانی مرکزیت کے حامل انداز میں برتا جائے۔ کمیونٹی کی مضبوط شراکت داری کے ذریعے ہمیں صبر کے ساتھ اگلی نسل کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ ہمیں بچوں کو سکھانا چاہیے کہ ٹیکنالوجی کا درست استعمال انہیں آن لائن خطرات سے بچنے اور ان کے وقار کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ٹیکنالوجی کو ہمارے مستقبل کا تعین نہیں کرنے دینا چاہیے بلکہ ہمیں خود اس کو تشکیل دینا ہے۔
جنگ ہمیشہ پسماندہ افراد کے لیے زیادہ تباہ کن ہوتی ہے، جبکہ طاقتور افراد مزید طاقت حاصل کرتے ہیں اور پیسہ کماتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے اس زمانے میں روایتی جنگ کے علاوہ سائبر حملے، معلومات میں سازباز، اثرورسوخ کی مہمات اور حکمتِ عملی کی خودکاری جیسی ہائبرڈ شکلیں موجود ہیں۔ یہ ہائبرڈ شکلیں کھلے مسلح تصادم سے پہلے ہی ملکوں کو غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔ اس لیے پوپ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس ماحول میں سفارت کاری کو بہت مؤثر ہونے کی ضرورت ہے۔ کمزور شہریوں کی حفاظت کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال کے مشترکہ ضوابط پر بات چیت ہونی چاہیے۔
پوپ اس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ماحولیاتی بحرانوں کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، جس سے پسماندہ افراد اور غریب ممالک زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایسے پائیدار تکنیکی حل اپنانے کی ضرورت ہے جو ماحولیاتی اثرات کو کم کریں اور دنیا کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں۔
مصنوعی ذہانت کے اس دور میں محبت اور امن پر مبنی تہذیب کے لیے پوپ پانچ نکات تجویز کرتے ہیں:
1۔ الفاظ سے جارحیت کا خاتمہ (شیریں سخنی)
2۔ انصاف کے ذریعے امن کا قیام
3۔ متاثرین کے نقطۂ نظر کو اپنانا
4۔ مثبت حقیقت پسندی کو فروغ دینا
5۔ مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کا احیا
پاپائی مراسلہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی نظام سے ہم آہنگ ہے اور اس دنیا کی مشترکہ بھلائی کے بارے میں بات کرتا ہے۔ دولت مند ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ریاستوں پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے چیلنجوں کا اس طرح سے مقابلہ کریں کہ یہ پسماندہ لوگوں کے لیے زیادہ محفوظ ہوں۔
انسانی حقوق کی ایک کارکن اور پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میں اس مراسلے کے تنبیہی لہجے سے پوری طرح ہم آہنگی محسوس کرتی ہوں۔ میں اس کے مضمرات کو دو مثالوں سے بیان کرتی ہوں۔
اول یہ کہ اگرچہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار ہے، گل احمد گروپ نے وہاں پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بہت بڑی مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کی تعمیر پاکستان میں پانی کے بحران کو اور سنگین بنا سکتی ہے۔ نقصان سے بچاؤ کی ذمہ داری حکومت اور یوٹیلٹی کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے۔
دوم، قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال کے جائزے کے مطابق پاکستانی بچوں کو آن لائن جرائم کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انہیں جنسی استحصال کا شکار بنایا جاتا ہے اور بلیک میل کیا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے یہ خطرات بہت بڑھ گئے ہیں، کیونکہ اب سچائی کو مسخ کرنے کی بہت سی تکنیکیں موجود ہیں۔ لہٰذا ہمیں بطور ریاست، کمیونٹیز اور والدین ٹھوس حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔