یہ تحریر میری نئی ڈیجیٹل تالیف "1971: گمشدہ عشاقِ پاکستان اور شناخت کی موت — 46 کالم، ایک نامکمل انصاف کی تلاش میں" کا پیش لفظ ہے جسے میں یہاں نیا دور کے قارئین کے ساتھ شیئر کر رہی ہوں۔ یہ مجموعہ میرے ڈیڑھ سو سے زائد کالموں میں سے چھیالیس منتخب کالموں پر مشتمل ہے، جو پاکستانی بہاریوں کی بے وطنی، شناخت کی موت، اور اجتماعی فراموشی کے موضوع پر لکھے گئے۔ چھیالیس کا عدد 1946 کے بہار کے فسادات کی یاد میں ہے — جب یہ سفرِ المناک شروع ہوا — اور جو 1971 میں دوسری بار بے وطنی پر ختم ہوا۔ یہ تالیف مئی 2026 میں ڈیجیٹل فارمیٹ میں شائع ہوئی اور مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے۔
محبت کی واپسی
مجھے فرانز کافکا کی ایک کہانی یاد آتی ہے۔ برلن کے ایک پارک میں ایک چھوٹی سی بچی اپنی گڑیا کھو کر بری طرح رو رہی تھی۔ کافکا وہاں سے گزر رہا تھا۔ وہ چاہتا تو ایک اجنبی کی طرح آگے بڑھ جاتا — جیسے ہم سب اکثر کرتے ہیں — مگر وہ رُک گیا۔ اُس نے بچی سے کہا: "تمہاری گڑیا کھوئی نہیں، بس سفر پر گئی ہے۔" اگلے دن وہ ایک خط لایا جو اس نے گڑیا کے نام سے لکھا تھا۔ پھر کئی دن تک ہر خط میں گڑیا کی نئی مہم جوئیاں ہوتی رہیں۔ ایک دن کافکا ایک نئی گڑیا لے آیا اور کہا: "یہ وہی ہے، بس سفر نے اسے بدل دیا ہے۔" برسوں بعد جب وہ بچی جوان ہوئی تو اسے اس گڑیا کے اندر ایک خط ملا۔ کافکا نے لکھا تھا:
"جس سے تم محبت کرتے ہو، وہ شاید کھو جائے — مگر محبت کسی نہ کسی صورت میں واپس آ جاتی ہے۔"
یہ کہانی میرے لیے محض ایک قصہ نہیں، ایک آئینہ ہے۔ کافکا نے دکھ کو ٹھکرا کر نہیں، ترجیح دے کر اس میں زندگی بھری۔ اور ہم؟ ہم نے ڈھاکہ کے نام نہاد کیمپوں میں سسکتی نسلوں کے لیے کوئی خط نہیں لکھا۔ ہم نے اپنی تاریخ کے زخموں کے لیے کوئی نیا تخیل تراشنے کی کوشش نہیں کی۔ ہم نے اپنے ہی لوگوں کو ان کے دکھ سمیت وطن میں جلاوطن کیا، دھتکارا، متروک کیا، ان کے حق کو مسترد کیا اور شانِ بے نیازی سے آگے چلے گئے۔
یہ کہانی صرف ایک بچی اور ایک گڑیا کی نہیں — یہ ہماری اجتماعی ترجیحات کا سوال ہے۔ ہم نے بطور قوم اپنی کھوئی ہوئی گڑیاؤں کے خط کبھی نہیں لکھے۔ مشرقی پاکستان کے المیے پر، بنگلہ دیش کے اذیت خانوں میں سسکتی نسلوں پر، چند بے بس اور سنجیدہ افراد کو چھوڑ کر کوئی سٹار فیمنسٹ، کوئی انسانی حقوق کا علمبردار، کوئی بے باک صحافی، کوئی شعلہ بیان سیاستدان — کوئی بھی تو نہیں سسکتا تڑپتا۔ ہم نے محبت کو واپس آنے کا راستہ ہی نہیں دیا اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ نفرتیں کیوں پھیلتی ہیں۔
یہ تالیف انہی نہ لکھے گئے خطوں کا قرض ہے — ناقص سہی، ادھورا سہی، مگر دل سے ادا کیا گیا۔
یہ تالیف ایک اتفاق نہیں، ایک شعوری انتخاب ہے۔ 16 دسمبر 1971 کے بعد بنگلہ دیش میں تقریباً تین سے پانچ لاکھ اردو بولنے والے پاکستانی — جنہیں آسان لفظوں میں بہاری کہا جاتا ہے — اپنے ہی ملک کی شہریت سے محروم ہو گئے۔ آج بھی ڈھاکہ سمیت تیرہ سے چودہ شہروں اور قصبوں میں چھیاسٹھ سے ستر کے قریب تنگ و تاریک کیمپوں میں، چار چار یا چھے چھے فٹ کے ڈربوں میں نسلیں پل رہی ہیں۔ نہ شہریت، نہ شناخت، نہ تحفظ، نہ عزتِ نفس۔
یہ اعداد و شمار غیر مستقل ہیں کیونکہ کوئی باقاعدہ ڈیٹا بیس موجود نہیں — جو خود اس المیے کی ایک علامت ہے: جن لوگوں کو گنا نہیں گیا، انہیں انسان بھی نہیں سمجھا گیا۔
ان کالموں کا دائرہ وسیع ہے۔ کچھ کالم براہِ راست بہاری شناخت اور کیمپوں کی زندگی پر ہیں۔ کچھ میں میں نے پاکستانی اور بنگلہ دیشی میڈیا کے اس المیے سے برتاؤ کو دیکھا ہے — کہ کیسے خاموشی بھی ایک پالیسی ہوتی ہے۔ کچھ کالموں میں پاکستانی حقوقِ انسان کی تحریک سے سوال کیا ہے کہ انتخابی یکجہتی کس طرح کام کرتی ہے اور کون سے مظلوم قابلِ ذکر ہیں اور کون نہیں۔ فیمنسٹ حلقوں سے بھی میرا سوال رہا ہے۔ پاکستانی اردو ادب میں محصورین کی غیر موجودگی پر بھی لکھا ہے — یہ برادری اردو کی امین رہی اور خود اردو ادب نے انہیں کتنی جگہ دی، یہ اپنے آپ میں ایک المیہ ہے۔
اب ایک بات جو میں خود کہنا چاہتی ہوں اور جو شاید ایمانداری کی ضرورت ہے: ان تحریروں میں تعصب ہے، تکرار ہے، "میں" بہت زیادہ ہے۔ میں اس برادری سے ہوں جس کے بارے میں لکھ رہی ہوں اور یہ فاصلہ رکھنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوا۔ جو باتیں میں نے کئی بار کہی ہیں وہ اس لیے نہیں کہ میں انہیں بھول گئی تھی — بلکہ اس لیے کہ وہ باتیں جب تک سنی نہ جائیں، دہرانی پڑتی ہیں۔
یہ مجموعہ ادبی معیار کی کسوٹی پر نہ پرکھا جائے۔ نہ یہ کسی ادبی منصب کی طلب ہے نہ کسی اعزاز کی درخواست۔ یہ تالیف ان لوگوں کے لیے ہے جن کے ضمیر ابھی سوئے نہیں — پاکستان کے لبرل دانشور، ادیب، صحافی، حقوقِ انسان کے کارکن، سیاستدان اور ریاستی ادارے اس کے اصل مخاطب ہیں۔ اور ساتھ ہی وہ محققین اور طلبا بھی جو اس موضوع پر کام کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں مواد نہیں ملتا — کیونکہ یہ حقائق نہ گوگل پر ہیں نہ کسی مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا میں۔ یہ صرف ان لوگوں کے پاس ہیں جنہوں نے خود یہ زندگی جی ہے یا ان کے قریب رہ کر دیکھی ہے۔
میں نے یہ سب ایک پاکستانی کی حیثیت سے کیا — بغیر کسی معاوضے کے، بغیر کسی ادارے کی پشت پناہی کے، پاکستان میں رہتے اور کام کرتے ہوئے۔ مگر دل کی طاقت ختم ہو چکی۔ اب یہ کالم آپ کے سامنے ہیں۔ پڑھیے، سوچیے، آگے بڑھایئے۔ شاید آپ وہ خط لکھیں جو میں اب اور نہیں لکھ سکتی۔
میں امن چاہتی ہوں مگر سچ کو تسلیم کرنے کے ساتھ۔ اور سچ یہی ہے کہ ہم نے پاکستان سے غیر مشروط عشق کیا اور تباہ ہوئے۔ اب بنگلہ دیش اور پاکستان کرکٹ بھی کھیلتے ہیں، بنگالی اردو ڈرامے دیکھتے ہیں اور اردو گانے انہیں پسند ہیں۔ محبت کی واپسی کا آغاز تو ہو چکا ہے — بس اس میں چند لاکھ گمشدہ عشاقِ پاکستان کو بھی شامل کر لیں۔
تشکر
میں نیا دور کی تہِ دل سے ممنون ہوں جس نے ہمیشہ ان آوازوں کو جگہ دی جو مرکزی دھارے میں سنی نہیں جاتیں۔ نیا دور نے میرے کالموں اور تحریروں کو جو پلیٹ فارم دیا اور مکالمے، تنوعِ فکر، اور سماجی شعور کے فروغ کے لیے جو مستقل خدمت انجام دی — وہ اس موضوع جیسے نظرانداز کیے گئے بیانیوں کے لیے ایک نادر اور قیمتی فضا ہے۔
یہ ڈیجیٹل کتاب مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے
www.drrakhshinda.mystrikingly.com/publication