Type to search

خبریں فيچرڈ

مسلم لیگ ن کی ایمنسٹی حرام اور عمران خان کی نقل کی ہوئی ایمنسٹی حلال ہے، مریم اورنگزیب

اسلام آباد: ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر ردعمل میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف پر عمران خان نے خودکشی نہ کی ساتھ ہی ٹیکس ایمنسٹی پر بھی یوٹرن لے لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران صاحب، مسلم لیگ ن کی ایمنسٹی حرام اور آپ کی نقل کی ہوئی ایمنسٹی حلال؟

ن لیگی ترجمان نے مزید کہا کہ عمران صاحب، جس ایمنسٹی سے علیمہ باجی نے فائدہ اٹھایا، اُس میں اور اِس میں کیا فرق ہے؟ آپ نے پی ٹی آئی کے پکڑے گئے 18 جعلی اکاؤنٹس کو ایمنسٹی دے دی ہے۔

مریم اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ علیمہ باجی اور جہانگیر ترین کے لیے بڑی خوشخبری ہے،کیا سارا لوٹا ہوا مال، غیر قانونی جائیدادیں حلال ہوگئیں؟

ترجمان مریم اورنگزیب نے مزید کہا ہے کہ عمران خان صاحب اتنے نالائق ہیں کہ ن لیگ کی ایمنسٹی اسکیم کو نقل کرنے میں 9 ماہ لگ گئے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کی اثاثہ ظاہر کرنے کی اسکیم سے متعلق شاہد خاقان عباسی  نے کہا کہ عمران خان کی کرپشن حلال ہے، جب ہم نے ایمنسٹی اسکیم دی تو اس وقت خراب تھی لیکن آج عمران خان کے رشتے داروں کو نوازنے کیلئے یہ اچھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم دی جاتی ہے لیکن ہرسال ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہیں دی جاتی کیوں کہ اس طرح کوئی ٹیکس نہیں دے گا، وقت نے ثابت کیا ہماری ہر پالیسی کو اس حکومت نے اختیار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کل تک عمران خان اور اسد عمر ایمنسٹی اسکیم کو گالیاں دیتے تھے آج وہی چیز ٹھیک ہوگئی لیکن ایمنسٹی اسکیم میں سب کو ڈر یہ ہے کہ کل عمران خان یوٹرن لے لیں گے اور کہیں گے کہ غلطی ہوگئی تھی اور زبان پھسل گئی تھی لہٰذا معذرت چاہتا ہوں۔

یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی منظوری دے دی جس سے فائدہ اٹھانے کیلئے 30 جون تک کی مہلت دی گئی ہے۔

اسکیم کے تحت ملک اور بیرون ملک موجود رقوم اور جائیدادیں ظاہر کرنے پر 4 فیصد رقم جمع کرانی ہوگی، رقم ہر صورت میں بینکوں میں جمع کرانی ہوگی، پیسا پاکستان نہ لانے پر 6 فیصد رقم قومی خزانے میں جمع ہوگی، جائیداد کی مالیت ایف بی آر ویلیو سے ڈیڑھ گنا زیادہ تسلیم کی جائے گی اور اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کیلئے ٹیکس ریٹرنز دینا لازمی ہوگا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *