سفرِ ناتمام (6): گاؤں کا میلہ

سکول کے دو کمرے اور ایک چار دیواری تھی۔ قریب ہی ایک کنواں تھا، جہاں سایہ دار درختوں کا جھنڈ تھا۔ ہم اکثر سکول کے کچے صحن میں ٹاٹوں پر بیٹھتے۔ ماسٹر اقبال صاحب کبھی ایک کلاس کے پاس جاتے اور اسے کام دے کر دوسری کلاس کے پاس چلے جاتے۔ یوں وہ اپنے وقت کو پانچ کلاسوں میں تقسیم کرتے۔

11:32 PM, 15 Aug, 2026

ڈاکٹر شاہد صدیقی

ہمارے گاؤں میں مذہبی تہواروں کے علاوہ جس چیز کا ہمیں شدت سے انتظار ہوتا تھا، وہ گاؤں کا میلہ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن اور موبائل فون ہماری زندگیوں کا حصہ نہیں بنے تھے۔ زندگی خاموش، کھوئی کھوئی سی، لیکن بے حد خوب صورت ہوا کرتی تھی۔

ہمارے گاؤں سے تین چار کلومیٹر دور ایک مختصر سا گاؤں تھا۔ اس گاؤں کی وجۂ شہرت یہاں کا میلہ تھا۔ اب میں آنکھیں بند کروں تو اس میلے کے کئی منظر آنکھوں میں روشن ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک منظر والد صاحب کے ساتھ میلے میں جانے کا ہے۔ جب وہ مجھے کندھوں پر بٹھا کر میلے کا آدھا راستہ طے کرتے اور پھر باقی آدھا راستہ میں گاؤں کے بچوں کے ساتھ دوڑتے ہوئے طے کرتا۔

اس کچے راستے پر ایک جگہ پودوں کے اردگرد لپٹی ہوئی زرد رنگ کی آکاس بیل ہوتی تھی۔ ہر بار میرے پوچھنے پر والد صاحب بتاتے کہ آکاس بیل کیا ہے اور کیسے یہ پودوں سے لپٹ کر ان کا رس چوستی ہے۔ بڑے ہو کر مجھے پتا چلا کہ صرف بیلیں ہی نہیں، بعض لوگوں کے گروہ اور ممالک بھی Parasites ہوتے ہیں۔


" سفرِ ناتمام" کی پانچویں قسط پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے


گاؤں کے بچوں میں میرا کزن ضیا بھی ہوتا۔ جب ہم میلے کے قریب آ جاتے تو والد صاحب واپس چلے جاتے، اس تاکید کے ساتھ کہ مغرب کی اذان سے پہلے گھر واپس آنا ہے۔ انہیں خود میلوں ٹھیلوں میں کبھی دلچسپی نہ رہی تھی۔ صرف میری خاطر میرے ساتھ آتے۔

والد صاحب کے جانے کے بعد میں اور ضیا بھاگتے ہوئے میلے میں داخل ہوتے، جہاں راستے کے دونوں طرف کھانے پینے کی چیزیں ہوتیں۔ کہیں پکوڑے بن رہے ہوتے، کہیں مٹھائی کی دکان پر رنگ برنگی مٹھائی ہوتی، جس پر چاندی کے ورق ہوتے۔ گاؤں میں مٹھائیوں میں جلیبی سب سے زیادہ پسند کی جاتی تھی۔

لوگ رنگ برنگے کپڑوں میں گھوم رہے ہوتے تھے۔ اکثر کے شانوں پر ایک چادر یا ایک بڑا رومال، جسے ہم پرنا کہتے تھے، ہوتا۔ سروں پر سرسوں کے تیل کی چمک ہوتی۔ اس زمانے میں میری عمر کے بچوں کی مائیں ہماری آنکھوں میں سرمہ ڈالنا نہ بھولتیں اور وہ بھی اس طرح کہ سرمے کی دم آنکھوں کے کناروں سے باہر تک نظر آتی۔

میلے میں کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ کھلونوں کے اسٹال بھی ہوتے۔ لڑکیوں اور عورتوں کے لئے چوڑیوں، مہندی اور میک اپ کا سامان ہوتا۔ میری توجہ کا مرکز رنگ برنگی کانچ کی گولیاں، جنہیں ہم بنٹے کہتے تھے، ہوتیں۔ میں میلے سے بنٹے ضرور خریدتا۔

پھر ہم بائیسکوپ والے کے پاس جاتے، جو ہمیں طرح طرح کے منظر دکھاتا۔ جب ہم تھک جاتے تو نان اور پکوڑے لے کر کسی جگہ بیٹھ جاتے۔ کھانے کی ویسی لذت پھر نہیں ملی۔

یہ میلہ تین دن کا ہوتا تھا۔ دوسرے دن کی خاص بات کبڈی ہوتی تھی۔ اس میں مختلف دیہات سے ٹیمیں شریک ہوتیں، لیکن کبڈی آج کل کی اس کبڈی سے مختلف ہوتی، جس کے میچ ہم ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں۔

مجھے یاد ہے، ہمارے گاؤں کا نوجوان اسلم، جسے سب الما کہتے تھے، کبڈی کا بہت اچھا کھلاڑی تھا۔ ہم بچے تماشائیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے اور ڈھول کے شور میں یوں لگتا، جیسے زندگی کی ساری کامیابیاں اور ناکامیاں کبڈی کے اس میدان سے وابستہ ہیں میلے میں ہم بچوں کے لئے جادو کے تماشے ہوتے، لیکن گاؤں کے میلے میں یہ تماشے مختلف نوعیت کے ہوتے تھے۔ مجھے یاد ہے، ایک بار میلے میں دائرے میں کھڑا تھا۔ دائرے کے اندر ایک شخص دعویٰ کر رہا تھا کہ اس کے پاس ایک ایسا تعویذ ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی بلا آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اس کے لہجے میں ایک یقین ہوتا تھا۔ اس کی سختی سے یہ ہدایت ہوتی کہ ہم اپنا دایاں پاؤں ہلائیں گے نہیں۔ بہت سے سادہ لوح دیہاتی اس کی چرب زبانی کا شکار ہو جاتے، لیکن ان دنوں میں بھی میں اس کو سچ جانتا تھا۔

میلے کا ایک اور حصہ نیزہ بازی تھا۔ اس کا اہتمام گاؤں کی کچی سڑک پر ہوتا تھا۔ گھڑ سوار دور سے گھوڑا دوڑاتے ہوئے آتا۔ اس کے بائیں ہاتھ میں گھوڑے کی لگامیں ہوتیں اور دائیں ہاتھ میں نیزہ۔ اسی تیز رفتاری سے گھوڑا دوڑاتے ہوئے سوار کو زمین میں گڑے ہوئے لکڑی کے کِلے کو نیزے سے اکھاڑنا ہوتا تھا۔

میلے میں ہمیں بیلوں کی دوڑ کا بھی انتظار ہوتا۔ اس دوڑ میں بہت خوب صورت اور تنومند بیل شریک ہوتے۔ بیلوں کے شوقین ان کی پرورش بڑے لاڈ اور چاؤ سے کرتے تھے۔ ان کے لئے خاص خوراک کا اہتمام کیا جاتا۔ اس موقع پر بعض اوقات لڑائی بھی ہو جاتی۔ اس موقع پر مختلف دیہات کے بڑے بزرگ معاملہ رفع دفع کراتے۔

میں ذرا بڑا ہوا تو گاؤں کے سکول میں داخل کرا دیا گیا۔ اس زمانے میں کنڈرگارٹن کا رواج نہیں تھا، بلکہ پہلی کلاس کچی کی ہوتی، اس کے بعد پکی کی کلاس ہوتی اور پھر باقاعدہ کلاسز کا آغاز ہوتا۔

میرا پہلا سکول ہمارے گھر سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر تھا۔ یہ ہمارے گاؤں کا پرائمری سکول تھا، جس میں دو کمرے تھے اور پانچ کلاسوں کے لئے صرف ایک استاد۔ مجھے یاد ہے، وہ استاد قریبی گاؤں موہڑا کے اقبال صاحب تھے۔ ان کا لباس اجلا ہوتا تھا اور ان کے جوتے پالش سے چمک رہے ہوتے۔

سکول کے دو کمرے اور ایک چار دیواری تھی۔ قریب ہی ایک کنواں تھا، جہاں سایہ دار درختوں کا جھنڈ تھا۔ ہم اکثر سکول کے کچے صحن میں ٹاٹوں پر بیٹھتے۔ ماسٹر اقبال صاحب کبھی ایک کلاس کے پاس جاتے اور اسے کام دے کر دوسری کلاس کے پاس چلے جاتے۔ یوں وہ اپنے وقت کو پانچ کلاسوں میں تقسیم کرتے۔

ہمارے بستے میں قاعدے کے علاوہ ایک سلیٹ اور ایک تختی ہوتی۔ تختی پر لکھنے کے لئے قلم اور روشنائی کی دوات ہوتی۔ ہمارے والد صاحب ہم بہن بھائیوں کو سرکنڈوں کے قلم بنا کر دیتے۔ وہ خود باقاعدہ کاتب تھے، جنہوں نے خطِ نستعلیق کے مایہ ناز استاد عبدالمجید پرویں رقم سے لاہور میں باقاعدہ کتابت کا فن سیکھا تھا۔ ہم سب بہن بھائیوں کی اردو کی لکھائی اچھی ہونے کا بڑا سبب ہمارے والد صاحب کی رہنمائی تھی۔

گاؤں کے اسی پرائمری سکول میں انعام بھائی پڑھتے تھے، جو مجھ سے کچھ سال بڑے تھے۔ ان دنوں کا ایک منظر مجھے یاد آ رہا ہے، جب ایک صبح میں، انعام بھائی اور ہمارے ایک کزن سکول جا رہے تھے. آسمان پر اچانک کالی گھٹائیں امڈ آئی تھیں۔ ہم سب بارش کی دعائیں کر رہے تھے، کیونکہ بارش میں سکول کے دونوں کمروں کی چھت ٹپکتی اور سکول کا کچا صحن بارش سے جل تھل ہو جاتا اور کلاس کا ہونا ممکن نہ رہتا۔

ان دنوں ہمارے گاؤں میں ایک استاد پر مشتمل یہی پرائمری سکول تھا، جہاں میں اور انعام بھائی پڑھتے تھے۔

(جاری)

مزیدخبریں