عاصم منیر آگے بڑھیں، گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کے لئے بہترین موقع آ چکا ہے

یہ ایک سنہری موقع ہے کہ اس بٹی ہوئی قوم کو اکٹھا کیا جائے۔ اور اس کے لئے عاصم مُنیر سے بہتر شخصیت کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ اب لوگ کہیں گے کہ عاصم مُنیر کیسے اِس ڈائیلاگ کا آغاز کر سکتے ہیں وہ تو ایک حکومتی ملازم ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بطور قوم ہم اس وقت جس صورتحال میں ہیں اس کا حل آئین کے اندر رہتے ہوئے ممکن نہیں ہے

10:46 PM, 15 May, 2025

محمد عبدالحارث

یہ جنرل عاصم مُنیر کے لئے سنہرا موقع ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ میں امر ہو جائیں۔ مودی کی حماقت نے پاکستانی قوم کو اپنے معاملات کو سدھارنے کا ایک نادر موقع عطا کر دیا ہے۔ انڈیا کے حملے سے پہلے پاکستان ایک بٹا ہوا ملک تھا۔ تحریکِ انصاف کی حکومتی جماعتوں اور فوج سے محاز آرائی یا حکومت اور فوج کا تحریکِ انصاف پر ریاستی جبر جاری تھا، بلوچستان میں شورش تھی اور بلوچستان کی ایک کثیر آبادی ریاست سے ناراض تھی، ادھر پختونخوا میں PTM کے ریاست مخالف مظاہرے جاری تھے اور جواب میں ریاست کی اُن کے خلاف کارروائی۔ سندھ میں لوگ کینال کے مسئلے کو لے کر سڑکوں پر تھے۔ اگرچہ کینال کے منصوبہ کو ترک کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے لیکن دلوں میں کدورتیں ہنوز باقی ہیں۔ غرض انڈیا کے حملے سے پہلے پاکستان جتنا بٹا ہوا تھا اُتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔

یہ ایک سنہری موقع ہے کہ اس بٹی ہوئی قوم کو اکٹھا کیا جائے۔ اور اس کے لئے عاصم مُنیر سے بہتر شخصیت کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ اب لوگ کہیں گے کہ عاصم مُنیر کیسے اِس ڈائیلاگ کا آغاز کر سکتے ہیں وہ تو ایک حکومتی ملازم ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بطور قوم ہم اس وقت جس صورتحال میں ہیں اس کا حل آئین کے اندر رہتے ہوئے ممکن نہیں ہے۔ ورلڈ ڈیموکریسی انڈیکس کے مطابق پاکستان ایک Authoritarian ریاست ہے۔ ہمیں کُھلے دل کے ساتھ اس حقیقت کو قبول کرنا چاہیے اور اس صورتحال کے سدِّباب کے لئے حقیقت پسندانہ اقدامات اُٹھانے چاہییں۔

سب کو معلوم ہے کہ عاصم مُنیر اِس وقت de-facto وزیرِ اعظم ہیں، عدلیہ بھی اس وقت فوج کے تابع ہے۔ میڈیا پر اس وقت سنگین قسم کی قدغنیں ہیں۔ اس سے قبل سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے ریٹائر ہونے سے پہلے اس بات کو پبلکلی قبول کیا تھا کہ فوج نے پاکستان کی تاریخ میں سیاست میں مداخلت کی ہے مگر اب فوج نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ غیر جانبدار رہے گی۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا۔ اور گذشتہ انتخابات میں فوج نے کھل کر مداخلت کی۔ اس کے بعد سے اب تک ملک غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہے۔

یہ بات سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عبّاسی کافی عرصے سے کر رہے ہیں کہ تمام سیاستدانوں، فوج، اور عدالت کو مل بیٹھنے کی ضرورت ہے اور آگے کا راستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔ ظاہر سی بات ہے یہ ماورائے آئین قدم ہوگا لیکن یہ سنہرا موقع ہے اس قدم کو اُٹھانے کا۔

اس کے نتیجے میں قوم کو نیا عمرانی معاہدہ (سوشل کانٹریکٹ) بھی تشکیل دینا پڑے گا۔ ہمیں باقاعدہ روڈ میپ ترتیب دینا پڑے گا کہ کس طرح مرحلہ وار ہم Authoritarian سٹیٹ سے مکمل جمہوریت کی طرف جائیں گے۔ اس عبوری دور میں فوج کے سیاسی کردار کو بھی باقاعدہ تحفظ فراہم کرنا پڑے گا۔

اس میں تحریکِ انصاف کا انتہائی اہم کردار ہوگا۔ کشیدگی کی فضا کو کم کرنے کے لئے عمران خان کو بھی رہا کرنا چاہیے لیکن اُن کے سامنے سارا پلان رکھنا چاہیے کہ ریاست کیا کرنے جا رہی ہے۔ یہ نہ ہو کہ وہ رہا ہونے کے بعد سولو فلائٹ لیں اور بجائے اس کے کہ یہاں سے ملک استحکام کی جانب سفر کرے مزید ابتری کی طرف بڑھ جائے۔ اعتماد کی فضا کو قائم کرنے کے لئے پی ٹی آئی کے تمام اسیران کو رہا کر دینا چاہیے۔ شہریوں کے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کے بارے میں موجودہ عدالتی فیصلے کو ختم کردینا چاہیے۔ اس کے جواب میں عمران خان سے یہ یقین دہانی لینی چاہیے کہ وہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا حصہ بنیں گے۔

اس عمل میں بلوچستان اور کے پی کے ناراض عناصر (مہ رنگ بلوچ، منظور پشتین، علی وزیر و دیگر) کو بھی کُھلے دل سے شامل کرنا چاہیے۔ یہ وقت ہے state of denial سے نکلنے کا۔ جن حالات میں ہم اس وقت ہیں انھیں تسلیم کیا جائے۔

انڈیا سے حالیہ کشیدگی کے دوران ہم سب نے واضح طور پر دیکھا کہ پاکستان ایئرفورس ٹیکنالوجی میں انڈین ایئرفورس سے برتر تھی۔ اس چیز کو مَدِنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کے اوپر ہنگامی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان ہر میدان میں یکساں ترقّی کرے۔ پاکستان کی معاشی ترقّی میں تعلیمی تنزّلی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اس وقت ہمیں سیاسی استحکام کی شدید ضرورت ہے۔

اس موقع پر جتنی قوم متحد ہے اُس کا فائدہ اُٹھانا چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں، جوڈیشری، اور فوج کو ساتھ مل کر بیٹھنا چاہیے جس کی شروعات کرنے کے لئے اس وقت عاصم مُنیر سب سے بہترین شخصیت ہیں لیکن اس کے لئے ذاتی انا سے باہر نکلنے کی ضرورت ہوگی۔

مزیدخبریں