کراچی کی رہائشی مکانیت، تجارتی تبدیلی اور شہری منصوبہ بندی کا ایک خطرناک سفر: ایک خاموش ترمیم سے عدالتی پابندی کے خاتمے تک

رہائشی عمارت کو کمرشل عمارت میں تبدیل کرنا صرف سائن بورڈ بدلنے کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ گاڑیوں، پانی، سیوریج، ٹریفک، شور اور آس پاس کے انفراسٹرکچر پر پڑنے والے اثرات کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔

11:31 PM, 15 Sep, 2026

محمد توحید

کراچی میں کسی شہری سے پوچھا جائے کہ رہائشی علاقہ کیا ہوتا ہے تو اس کا جواب بہت سادہ ہوگا: ایسا محلہ جہاں لوگ اپنے خاندان کے ساتھ سکون سے رہتے ہوں، بچے گلی میں کھیلتے ہوں، رات کو شور نسبتاً کم ہوتا ہو، سڑکوں پر غیر ضروری رش نہیں ہوتا اور ساتھ ہی پانی، سیوریج، بجلی، کچرے اور پارکنگ کی سہولتیں بنیادی طور پر رہائشی آبادی کی ضرورت کے مطابق ہوں۔

لیکن کراچی میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران یہ فرق بتدریج مٹتا گیا ہے۔ بہت سے گھروں میں اسکول، کلینک، دفاتر، ریسٹورنٹس، گودام اور دیگر کاروباری سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب اس عمل کو باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے گا، یا خلافِ ضابطہ ہونے والی سرگرمیوں کو بعد میں قوانین بدل کر جائز بنانے کا راستہ اختیار کیا جائے گا؟

یہ سوال محض ایک گھر، ایک دکان یا ایک سڑک کا سوال نہیں، بلکہ یہ کراچی کے مستقبل، رہائشی علاقوں کے تحفظ، شہری بنیادی ڈھانچے، ماحول، ٹریفک، جائیداد کی قیمتوں، کم آمدنی والے خاندانوں اور بالآخر اس حق کا سوال ہے کہ شہری کس طرح کے شہر میں رہنا چاہتے ہیں؟

مئی 2026 میں وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے اور اگست 2026 میں سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کے نئے نوٹیفکیشن کے بعد یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے۔ اب 2019 سے نافذ زمین کے استعمال کی تبدیلی پر عائد وسیع عدالتی پابندی ختم ہو چکی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کراچی کا ہر رہائشی پلاٹ ازخود کمرشل ہو گیا ہے۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ زمین کے استعمال میں تبدیلی کس منصوبہ بندی کے تحت، کس ادارے کے ذریعے، کس عوامی مشاورت سے اور شہر کی بنیادی سہولتوں کی استعداد کو دیکھتے ہوئے ہوگی؟

مسئلہ کہاں سے شروع ہوا؟

آج جسے ہم رہائشی علاقوں کی کمرشلائزیشن کہتے ہیں، اس کی جڑیں صرف 2025 کے ایک نوٹیفکیشن تک محدود نہیں ہیں، کیونکہ کراچی میں رہائشی اور کمرشل استعمال کے درمیان تبدیلی کا مسئلہ کم از کم 2002 سے 2004 کے ضابطہ جاتی دور تک جاتا ہے۔

کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 (KBTPR) میں زمین کے استعمال اور کمرشلائزیشن کے لیے ایک باقاعدہ قانونی و انتظامی طریقہ موجود تھا۔ بعد ازاں 2003 کے Change of Land Use and Master Planning Bye-Laws اور 2004 کی کمرشلائزیشن پالیسی کے ذریعے کراچی کی متعدد اہم شاہراہوں اور کوریڈورز پر تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دی گئی۔ اس دور میں 17 اہم ٹریفک کوریڈورز کی کمرشلائزیشن نے کراچی کے کئی رہائشی علاقوں کی نوعیت تبدیل کرنے کا آغاز کیا۔

یہاں ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے: کمرشلائزیشن اور تجارتی سرگرمی بذاتِ خود کسی شہر میں غیر فطری چیز نہیں۔ ایک بڑھتا ہوا شہر دکانوں، دفاتر، اسکولوں، ریسٹورنٹس اور خدمات کا محتاج ہوتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ تبدیلی کسی مجموعی ماسٹر پلان، انفراسٹرکچر کی استعداد، ٹریفک کے مطالعے، پارکنگ، ماحول، سیوریج اور سب سے بڑھ کر اس شہر کے رہائشیوں کی رضامندی کے بغیر ہو۔

2004 جب “رِبن کمرشلائزیشن” نے کراچی کی شکل بدلنا شروع کی

شہری منصوبہ ساز اور ماہرین نے برسوں پہلے کراچی میں ہونے والی اس تبدیلی کو “رِبن کمرشلائزیشن” قرار دیا تھا، یعنی بڑی شاہراہوں کے اطراف لمبی پٹیوں کو کاروباری سرگرمیوں کے لیے کھول دینا۔ ان کے مطابق یہ ماڈل صرف چند دکانوں کے کھلنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وقت کے ساتھ رہائشی گھروں کی جگہ بلند عمارتیں، دفاتر، ریسٹورنٹس اور دیگر تجارتی استعمال پیدا کرتا ہے، جس سے ٹریفک، پارکنگ، کثافت اور بنیادی سہولتوں پر دباؤ بڑھتا جاتا ہے، حتیٰ کہ شہر رہائش کے قابل نہیں رہتا۔ اس کی ایک مثال کراچی کا علاقہ پی ای سی ایچ ایس ہے، جہاں 2004 میں کمرشل کوریڈورز کی منظوری بہت تیزی سے رہائشی مکان تجارتی عمارتوں میں تبدیل ہوئے اور پرانے رہائشی محلے اپنی اصل شناخت کھو بیٹھے۔ یہ تبدیلی صرف عمارت کے استعمال کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ محلے کی سماجی زندگی کی تبدیلی بھی تھی۔

یعنی ایک گھر جب دفتر یا ریسٹورنٹ بنتا ہے تو صرف اس ایک عمارت کا استعمال نہیں بدلتا؛ اس کے ساتھ گاڑیاں بڑھتی ہیں، پارکنگ کی ضرورت بڑھتی ہے، کچرا بڑھتا ہے، پانی اور سیوریج کی مانگ بڑھتی ہے، بعض اوقات لوڈنگ اور اَن لوڈنگ ہوتی ہے، رات گئے تک شور رہ سکتا ہے اور آہستہ آہستہ پورا محلہ اپنی رہائشی نوعیت کھو دیتا ہے۔

پھر 2018 اور 2019 میں عدالت کیوں آئی؟

کراچی میں غیر قانونی تعمیرات، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور شہری منصوبہ بندی کے بحران پر طویل عرصے سے مقدمات چل رہے تھے۔ ان حالات میں سپریم کورٹ نے دسمبر 2018 اور پھر 22 جنوری 2019 کے احکامات میں کراچی میں زمین کے استعمال کی تبدیلی پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ 22 جنوری 2019 کے عدالتی حکم کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے 24 جنوری 2019 کو ایک نوٹیفیکیشن، Notification No. SBCA/PS-CE/2019/01، جاری کیا، جس کے ذریعے زمین کے استعمال کی تبدیلی پر فوری پابندی نافذ کی گئی تھی۔

یوں جو عمل پہلے انتظامی اور منصوبہ بندی کے تحت چل رہا تھا، وہ ایک بڑے عدالتی بندش کے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ یہ وہی نوٹیفکیشن ہے جسے اب، اگست 2026 میں، سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد واپس لیا ہے۔

زمین پر حقیقت کیا تھی؟

اس تمام کے باوجود زمینی حقائق بہت مختلف تھے، حتیٰ کہ عدالتی پابندی کے باوجود کراچی کے بہت سے رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیاں ختم نہیں ہوئیں۔ اور پہلے سے موجود اسکول، کلینک، ریسٹورنٹس، دفاتر، اسٹورز اور دیگر کاروباری سرگرمیاں مختلف شکلوں میں چلتی رہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قانون اور حقیقت کے درمیان فاصلہ پیدا ہوتا ہے۔

ایک طرف قانون کہتا ہے کہ زمین کا استعمال تبدیل نہ کیا جائے، دوسری طرف زمین پر استعمال بدل چکا ہوتا ہے۔ ایسے میں ریاست کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں: یا تو خلافِ ضابطہ سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی جائے، یا پھر قواعد تبدیل کرکے موجودہ صورتحال کو قانونی یا ضابطہ جاتی تحفظ دیا جائے۔ اور پھر 2025 میں یہی بنیادی سوال دوبارہ سامنے آیا۔

13 مارچ 2025: “خاموش ترمیم” جس نے پورے شہر میں سوال اٹھا دیا تھا

13 مارچ 2025 کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے Notification No. SBCA/PS to DG/2025/18 کے ذریعے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 میں اہم ترامیم کیں۔ اور یہ تبدیلی محض کسی ایک عمارت یا ایک علاقے تک محدود نہیں تھی۔ اس نے “commercial use” کمرشل استعمال کے ساتھ “commercial/residential-cum-commercial use” رہائشی مع تجارتی استعمال کی اصطلاح شامل کی، ساتھ ہی رہائشی استعمال کی تعریف بدلی، تفریحی استعمال “recreation use” کا نیا تصور متعارف کرایا، اور بعض حالات میں رہائشی پلاٹوں پر تعلیم، صحت اور تفریحی استعمال کی گنجائش پیدا کی۔ یوں 400 مربع گز یا اس سے بڑے رہائشی پلاٹ، جو کم از کم 60 فٹ چوڑی سڑک پر واقع ہوں، ان کے بارے میں بھی تعلیم، صحت یا تفریحی استعمال کی نئی گنجائش پیدا ہوئی۔

عام شہری کے لیے اس کا مطلب آسان انداز میں یوں ہے کہ: ایک رہائشی گھر کی قانونی شناخت کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے “رہائشی مع تجارتی” یا ایسے استعمال سے جوڑا جا سکتا تھا جو رہائشی اور غیر رہائشی سرگرمیوں کے درمیان فرق کم کر دے یا ختم کر دے۔

“ایمینیٹی پلاٹ” کی تبدیلی اتنی اہم کیوں تھی؟

عام آدمی کے لیے “ایمینیٹی پلاٹ” شاید ایک مشکل قانونی اصطلاح ہو، مگر حقیقت میں اس کا تعلق شہری کی روزمرہ زندگی سے ہے۔ یعنی ایسی زمین یا پلاٹ جو پارک، کھیل کے میدان، اسکول، ہسپتال، قبرستان، مذہبی مقامات اور دیگر عوامی مقاصد کے لیے مختص کیا گیا ہو، اور ایسی زمین شہری زندگی کی بنیادی ضرورت میں شامل ہوتی ہے۔ پرانے ضابطے میں ایمینیٹی (amenity) استعمال کی تعریف شہر کی عوامی اور سماجی ضروریات سے منسلک تھی۔

مگر 2025 کی ترمیم میں ایمینیٹی پلاٹ (amenity plot) کی تعریف کے بعض حصوں، خصوصاً تعلیم، صحت اور فلاح (health and welfare) اور education کے حوالے سے، تبدیلی کی گئی۔ ماہرین اور سول سوسائٹی نے اس پر اعتراض کیا کہ اس سے عوامی مقصد کے لیے مختص زمین اور زمین کے نجی تجارتی یا نیم تجارتی استعمال کے درمیان قانونی فرق کمزور ہو سکتا ہے۔ یہی اعتراض بعد میں سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں کا ایک اہم حصہ بنا۔

یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے:

ہر ایمینیٹی پلاٹ (amenity plot) کمرشلائزیشن کے لیے دستیاب نہیں ہو گیا تھا۔ بالخصوص 2026 کے وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے میں بھی پارکس، اسکول، ہسپتال، مساجد، کھیل کے میدان اور قبرستان جیسے amenity/public-use، ایمینیٹی اور عوامی استعمال کے مقامات کے تحفظ کو برقرار رکھا گیا۔

“تفریحی استعمال” اور رہائشی علاقے

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی 2025 میں لائی گئی ترمیم میں “recreation use”، تفریحی استعمال کی نئی تعریف نے بھی بہت سے سوالات پیدا کیے۔ اس میں کیفے، فوڈ کورٹس اور ایسی سماجی جگہیں شامل تھیں جنہیں محلے کی اجتماعی و تفریحی ضرورت سے جوڑا گیا۔ جبکہ بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ محلے کا رہائشی کیفے اور ایک بڑا کمرشل ریسٹورنٹ ایک ہی چیز نہیں، کیونکہ ایک چھوٹی سرگرمی جسے ایک محلے کی سہولت سمجھا جا سکتا ہے، ایک علیحدہ بات ہے، جبکہ وہی سرگرمی اگر بڑے پیمانے پر ہو تو سینکڑوں گاڑیاں، پارکنگ کا بحران، شور، کچرا اور رات گئے تک آمدورفت پیدا کر سکتی ہے۔

اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں رہا کہ “ریسٹورنٹ کھولا جا سکتا ہے یا نہیں”، بلکہ یہ ہے کہ اس مخصوص محلے کی سڑک، سیوریج، پارکنگ، پانی، بجلی اور ماحولیاتی استعداد اس سرگرمی کو برداشت کر سکتی ہے یا نہیں؟

مسئلہ تجارتی سرگرمیاں نہیں، بے قاعدہ اور بے منصوبہ تجارتی سرگرمیاں ہیں

جو لوگ شہر کراچی کو جانتے ہیں، وہ بخوبی واقف ہیں کہ رہائشی احاطوں میں کمرشل سرگرمیوں کو فروغ دینے کا فیصلہ بدقسمتی سے ایک ایسی صورتحال کو باقاعدہ بنانے کی کوشش ہے جو پہلے ہی عملاً موجود تھی۔ جب آپ شہر میں گھومتے ہیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ہزاروں رہائشی عمارتیں صحت، تعلیم، کھانے پینے اور اسٹوریج وغیرہ کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، جس سے رہائشی محلوں میں گاڑیوں، پارکنگ، سامان کی ترسیل، اسکول وین اور کچرے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ لیکن یہاں ہمارا مؤقف ہرگز یہ نہیں کہ کراچی میں تجارتی سرگرمیاں بالکل ختم کر دی جائیں۔ کیونکہ کمرشل سرگرمی شہر کی ضرورت ہے، مگر اسے منصوبہ بندی کے تحت اور باقاعدہ ہونا چاہیے۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ شہر میں زمین کا استعمال پہلے ہی بحران کا شکار ہے، کیونکہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے سستی رہائش دستیاب نہیں، اور یہ ایک انتہائی اہم فرق ہے، جسے سمجھنا ضروری ہے کہ شہر کو تجارت چاہیے، لیکن تجارت کے لیے رہائشی محلے قربان نہیں کیے جا سکتے۔

گھر کو بازار/تجارتی مرکز بنانے سے صرف زمین کا استعمال نہیں بدلتا

اس معاملے کو صرف زمین کے ایک قانونی زمرے کی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ کیونکہ ایک ادارہ ( سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی)، جس کا بنیادی مقصد ہی رہائشی اور تجارتی استعمال کو منظم کرنا تھا، وہی ان دونوں کے درمیان حد کو ختم کرنا شروع کر دے تو باقی کیا رہ جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر رہائشی جگہوں میں کمرشل استعمال بڑھتا ہے تو گاڑیوں کی تعداد، ایندھن کے اخراج، ٹریفک اور شور میں اضافہ ہوتا ہے۔ کیونکہ رہائشی عمارت کو کمرشل عمارت میں تبدیل کرنا صرف سائن بورڈ بدلنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس عمارت اور آس پاس کا انفراسٹرکچر بھی بدلنا پڑتا ہے۔

حالیہ مہینوں میں کراچی میں آگ لگنے کے متعدد واقعات سامنے آئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی رہی کہ بعض عمارتیں بنیادی طور پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے بنائی ہی نہیں گئی تھیں۔ وہ رہائشی مقاصد کے لیے تھیں، لیکن وہاں تجارتی سرگرمیاں شروع کی گئیں، جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہوئے۔

رہائشی املاک کے کمرشل استعمال کو فروغ دینے سے رہائشی مقامات (residential spaces) کا سکون اور تقدس (sanctity) متاثر ہوتا ہے۔

2026 کا اہم سوال: کراچی شہر کا ماسٹر پلان کہاں ہے؟

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ترامیم، پھر وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ اور اس کے بعد سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کا نوٹیفیکیشن، یہ تمام معاملات ایک جانب چل رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ادارہ ترقیاتِ کراچی (کے ڈی اے) کراچی کا ماسٹر پلان ایک انٹرنیشنل کنسلٹنٹ کے ساتھ بنانے میں مصروفِ عمل ہے، اور یہاں معاملہ مزید حساس ہو جاتا ہے۔

2025 کے آغاز میں حکومتِ سندھ نے Greater Karachi Regional Plan 2047، گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047، کے ذریعے کراچی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ حکومت کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ کراچی کے لیے رہائش، ٹرانسپورٹ، موسمیاتی تبدیلی، پانی اور سیوریج کا انفراسٹرکچر اور بڑھتی ہوئی آبادی کو سامنے رکھتے ہوئے ایک طویل المدتی منصوبہ ضروری ہے۔ لیکن اسی منصوبہ بندی کے آغاز کے تقریباً ایک ماہ بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کراچی کے زمین کے استعمال (land-use) قواعد میں بنیادی تبدیلیاں کر دیں۔

تو سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر پورے کراچی کے لیے جامع منصوبہ بندی کا عمل شروع ہو چکا تھا تو اسی دوران پورے شہر کے رہائشی اور تجارتی استعمال سے متعلق بنیادی قواعد میں تبدیلی کیوں کی گئی؟ اور یہی وہ تضاد تھا جس نے شہری منصوبہ سازوں، معماروں، وکلا اور سول سوسائٹی کو شدید تشویش میں مبتلا کیا۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ قوانین اور قواعد میں تبدیلی محض زمین کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ماحول، ٹریفک، سیوریج، نکاسی آب، شور، کثافت اور شہری حقوق کا مسئلہ ہے۔ اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہمیت کا حامل ہے کہ زمین کے استعمال، عمارتوں کی اونچائی اور پارکنگ کے اہم قواعد میں تبدیلیاں عوام اور اسٹیک ہولڈرز کی مؤثر شمولیت کے بغیر کیوں کی جا رہی ہیں؟ جبکہ صورتحال یہ دکھائی دیتی ہے کہ ادارے قانون نافذ کرنے میں ناکام ہیں اور اس کا حل یہ تلاش کیا گیا کہ قانون کی خلاف ورزیوں کو ریگولرائز کر کے جان چھڑا لی جائے۔

عدالت کا دروازہ دوبارہ کھٹکھٹایا گیا

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مارچ 2025 کی ترمیم کے خلاف مختلف درخواستیں سندھ ہائی کورٹ میں دائر ہوئیں۔ درخواست گزاروں میں شہری تنظیمیں، سیاسی و بلدیاتی نمائندے وغیرہ شامل تھے۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ترمیم نے زمین کے رہائشی، تجارتی اور ایمینیٹی استعمال کی بنیادی تعریفوں کو بدل دیا اور اس طرح رہائشی زمین کو بالواسطہ طور پر تجارتی یا نیم تجارتی استعمال میں لانے کا راستہ کھولا گیا۔ اس کے ساتھ ہی عوام کو تبدیلیِ زمین کے استعمال پر اعتراض کا جو روایتی حق حاصل تھا، وہ اس عمل میں کمزور کر دیا گیا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اپنی ہی ترمیم واپس لے لی

دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت میں مقدمات چلنے کے دوران سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے خود اپنی مارچ والی ترمیم واپس لے لی۔ 13 مئی 2025 کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے ایک اور نوٹیفیکیشن، Notification No. SBCA/PS to DG/2025/31، نکالا اور اس کے ذریعے 13 مارچ کے نوٹیفیکیشن کو further review and reconsideration کے بعد منسوخ کر دیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا یہ بیان ریکارڈ کرنے کے بعد متعدد درخواستیں نمٹا دیں۔

اس مرحلے پر ایک اہم قانونی نکتہ سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ کہنا کہ مارچ 2025 کی سندھ بلڈنگ اتھارٹی کی ترمیم نے کراچی کے ہر غیر قانونی ریسٹورنٹ یا کاروبار کو خود بخود قانونی بنا دیا تھا، درست نہیں ہوگا۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ اس ترمیم نے موجودہ یا ممکنہ سرگرمیوں کو قانونی/ضابطہ جاتی تحفظ یا راستہ فراہم کرنے کی گنجائش پیدا کی تھی۔ عدالت میں یہ سوال بھی اٹھا کہ آیا اس مختصر عرصے میں کسی کو اس ترمیم کی بنیاد پر نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC)، منظوری یا ریگولرائزیشن ملا تھا۔ اس وقت سندھ ہائی کورٹ نے واضح کیا تھا کہ ایسے مخصوص اقدامات کے خلاف الگ قانونی کارروائی ممکن رہے گی۔

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔۔۔

بہت سے لوگوں کو لگتا تھا کہ مئی 2025 میں ترمیم واپس لینے کے بعد معاملہ ختم ہو گیا۔ مگر ایسا نہیں ہوا، کیونکہ اصل معاملہ 2018–19 کے عدالتی احکامات سے جڑا ہوا تھا، جن احکامات کے تحت کراچی میں زمین کے استعمال میں تبدیلی پر ایک وسیع پابندی عائد تھی۔ اور یہی معاملہ 12 مئی 2026 کو وفاقی آئینی عدالت کے سامنے دوبارہ آیا۔

وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ — 12 مئی 2026

وفاقی آئینی عدالت نے C.P.L.A. No. 815-K of 2016 کے معاملے میں 2018 اور 2019 کے سابقہ سپریم کورٹ احکامات کو واپس لے لیا۔ اس فیصلے کا عملی مطلب یہ نکلا کہ کراچی میں رہائشی زمین کو کمرشل یا تفریحی استعمال میں تبدیل کرنے پر عائد عدالتی پابندی (blanket judicial prohibition) ختم ہو گئی۔ لیکن یہاں بھی ایک اہم بات ہے جو سمجھنا ضروری ہے کہ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ کراچی کا ہر رہائشی پلاٹ کمرشل ہے۔

بلکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی (land-use change) کا معاملہ دوبارہ متعلقہ اداروں، قوانین، ضوابط اور منظوری کے نظام کے تحت آ گیا۔ جبکہ وفاقی آئینی عدالت نے amenity/public-use، ایمینیٹی اور عوامی استعمال کی زمین، جیسے پارکس، ہسپتال، اسکول، مساجد، کھیل کے میدان اور قبرستان، کے تحفظ کو بھی واضح رکھا۔

اگست 2026 میں سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی نے 2019 کا نوٹیفیکیشن واپس لے لیا۔ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی (SMPA) نے 28 اگست 2026 کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا اور اس میں واضح کیا کہ وفاقی آئینی عدالت کے 12 مئی 2026 کے حکم کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے احکامات معدوم ہو چکے ہیں۔ لہٰذا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا 24 جنوری 2019 کا نوٹیفیکیشن، Notification No. SBCA/PS-CE/2019/01، جس کے ذریعے زمین کے استعمال میں تبدیلی (change of land use) پر فوری پابندی لگائی گئی تھی، اب فوری طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔ یہ 2019 کے بعد کراچی کے land-use، زمین کے استعمال کے نظام میں سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔

اہم سوال: کیا اب ہر گھر کمرشل بن سکتا ہے؟

نہیں۔ اور یہ وضاحت عام شہری کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے، کیونکہ سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کا 2026 کا نوٹیفیکیشن خود بخود ہر رہائشی گھر کو کمرشل قرار نہیں دیتا۔ اس نوٹیفیکیشن نے صرف 2019 کی اس وسیع پابندی کو ختم کیا ہے جو کراچی میں زمین کے استعمال میں تبدیلی پر عائد تھی۔ اب زمین کے استعمال میں تبدیلی متعلقہ قوانین، ماسٹر پلان، زوننگ اور متعلقہ اتھارٹیز کی منظوری کے تحت ہوگی۔

یعنی ایک گھر کا مالک یہ نہیں کہہ سکتا کہ “عدالت نے پابندی اٹھا دی ہے، اب میں اپنا گھر فوراً ریسٹورنٹ بنا دیتا ہوں۔” اصل سوال اب یہ ہوگا کہ: کیا اس پلاٹ کی land-use category، زمین کے استعمال کی کیٹیگری، تبدیل ہو سکتی ہے؟ کیا متعلقہ منصوبہ یا زوننگ اس کی اجازت دیتی ہے؟ اس کے ساتھ ہی یہ دیکھنا بھی ضروری ہوگا کہ کیا ملحقہ سڑک اس اضافی ٹریفک کو برداشت کر سکتی ہے؟ کیا وہاں پارکنگ دستیاب ہے؟ کیا سیوریج اور پانی کی گنجائش موجود ہے یا نہیں؟ کیا ماحولیاتی تقاضے پورے ہیں؟ کیا فائر سیفٹی موجود ہے؟ اور سب سے بڑھ کر کہ کیا محلے کے رہائشیوں کو اعتراض یا مشاورت کا موقع دیا گیا؟

اور آخر میں، کس ادارے کو اس تبدیلی کی منظوری دینے کا قانونی اختیار حاصل ہے؟ یہی وہ اصل بحث ہے جس کا جواب کراچی کو اب دینا ہوگا۔

کیونکہ کراچی میں رہائشی زمین کی تجارتی تبدیلی اگر مناسب منصوبہ بندی (planning safeguards) کے بغیر تیز ہوئی تو کراچی کی پہلے سے کمزور شہری سہولتیں مزید دباؤ کا شکار ہو جائیں گی۔ کیونکہ کراچی کی قابلِ رہائش ہونے (livability) پر پہلے ہی بہت سے سوالات ہیں اور بنیادی شہری سہولتوں اور انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے صورتِ حال کو مزید خراب کیا ہے۔ لہٰذا ضروری امر یہ ہے کہ کراچی کی طویل المدتی منصوبہ بندی کے بحران کی طرف توجہ دی جائے، کیونکہ کمرشلائزیشن کو شہری منصوبہ بندی کی حقیقتوں سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔

ایک عام شہری کے لیے اصل مسئلہ کیا ہے؟

فرض کریں آپ نے اپنا گھر ایک ایسے محلے میں خریدا جہاں دس سال پہلے صرف خاندان رہتے تھے۔ آپ نے اس لیے گھر خریدا کہ گلی نسبتاً پرسکون تھی، بچوں کے لیے جگہ تھی، پارکنگ کا مسئلہ کم تھا اور رات کو محلہ خاموش تھا۔ پھر ایک گھر اسکول بن گیا۔ پھر اگلے گھر میں کلینک بن گیا۔ پھر ایک ریسٹورنٹ آ گیا۔ پھر گلی میں روزانہ پچاس گاڑیاں آنے لگیں۔ پھر اسکول وین کھڑی ہونے لگیں۔ پھر ریسٹورنٹ نے سڑک پر کرسیاں رکھ دیں۔ پھر پانی کی مانگ بڑھی۔ پھر سیوریج کی لائن بار بار بند ہونے لگی۔ پھر گھر کے سامنے پارکنگ شروع ہو گئی۔ پھر رات 12 بجے تک شور ہونے لگا۔ ایک دن آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کا گھر وہیں ہے، لیکن آپ کا محلہ اب رہائشی نہیں رہا۔

یہی وجہ ہے کہ land-use planning صرف نقشے پر رنگ بدلنے کا نام نہیں۔ یہ انسانی زندگی، محلے، روزمرہ سکون اور شہری حقوق کے بارے میں فیصلہ ہے۔

کمرشلائزیشن اور کم آمدنی والے شہری

یہ مسئلہ صرف پوش علاقوں کا نہیں ہے۔ کراچی میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے منصوبہ بند اور سستی رہائش کی شدید کمی ہے۔ جب باقاعدہ رہائش مہنگی ہو جاتی ہے اور زمین کا استعمال زیادہ منافع بخش تجارتی یا بلند کثافت کی طرف جاتا ہے تو کم آمدنی والے خاندان غیر رسمی رہائش، کچی آبادیوں یا شہر کے دور دراز علاقوں کی طرف دھکیلے جاتے ہیں۔ اس لیے رہائشی زمین کا تحفظ صرف امیر علاقوں کے گھروں کی حفاظت نہیں۔ یہ affordable housing، گنجائش کے مطابق رہائش اور سماجی انصاف کا بھی مسئلہ ہے۔

زمین کا استعمال بدلنے سے پہلے شہر کی گنجائش کیوں دیکھنی ہو گی؟

کسی 400 گز کے پلاٹ پر ایک گھر رہ رہا ہو تو اس کا پانی، بجلی، سیوریج اور ٹریفک کا بوجھ ایک حد تک ہو گا۔ لیکن اگر اسی جگہ اسکول، ریسٹورنٹ، کلینک، دفتر یا دوسری تجارتی سرگرمی شروع ہو جائے تو استعمال کنندگان کی تعداد کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ اسی لیے زمین کا استعمال صرف “پلاٹ کتنے گز کا ہے؟” کے سوال سے طے نہیں ہونا چاہیے۔

اسے کم از کم ان سوالات سے جوڑنا ہو گا: کتنے لوگ استعمال کریں گے؟ کتنی گاڑیاں آئیں گی؟ کتنی پارکنگ درکار ہو گی؟ کتنا پانی استعمال ہو گا؟ کتنا سیوریج پیدا ہو گا؟ کتنا کچرا پیدا ہو گا؟ آگ لگنے کی صورت میں ایمرجنسی گاڑی کیسے پہنچے گی؟ بارش کا پانی کہاں جائے گا؟ ماحولیاتی اثر کیا ہو گا؟ اور محلے کے موجودہ رہائشیوں کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا؟

اسی لیے منصوبہ بندی کے معیار (planning criteria) کو صرف زمین کے رقبے سے نہیں، بلکہ آبادی کی گنجانیت، شور، سیوریج اور دیگر سماجی و ماحولیاتی عوامل سے جوڑنا چاہیے۔

قوانین موجود، مگر عمل درآمد صفر

کراچی کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں بہت سے قوانین موجود ہیں، مگر عمل درآمد کمزور ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ پہلے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشل سرگرمی شروع ہوتی ہے اور ادارے اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں، پھر کچھ سال بعد اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے قانون یا ضابطہ ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے یا تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو شہریوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں کو نقصان ہوا اور قانون توڑنے والے کو آخرکار فائدہ ملا؟ اور یہ سوال صرف اخلاقی سوال نہیں، بلکہ شہری منصوبہ بندی کا سوال بھی ہے۔

اسی لیے یہ کہنا غلط نہیں کہ ادارے جب قوانین کو نافذ کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو خلاف ورزیوں کو باقاعدہ بنانے میں اس کا حل تلاش کرتے ہیں، جبکہ یہ حل نہیں ہے بلکہ جرم ہے۔

اصل امتحان تو اب شروع ہوا ہے۔۔

ہم نے دیکھا کہ 2019 سے 2026 تک کراچی میں ایک عجیب صورتِ حال رہی، جبکہ عدالت نے زمین کے استعمال میں تبدیلی (land-use conversion) پر سخت پابندی لگائی ہوئی تھی، مگر زمین پر بہت سی تبدیلیاں جاری رہیں۔ پھر 2025 میں ضابطوں و ترامیم کے ذریعے اس صورتِ حال کو ریگولیٹ، یعنی باقاعدہ کرنے، کی ایک کوشش ہوئی، مگر وہ چند ہی ہفتوں میں واپس لے لی گئی۔ اب 2026 میں وفاقی آئینی عدالت نے 2018/19 کے عدالتی احکامات منسوخ کر دیے اور SMPA، سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی، نے 2019 کی SBCA، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کی پابندی واپس لے لی۔

چنانچہ اب اصل امتحان اداروں کا ہے۔ کیا کراچی کے ادارے دوبارہ وہی پرانا راستہ اختیار کرتے ہیں؟ یعنی بغیر منصوبہ بندی کے شاہراہ کو کمرشل کر دیا، پھر اندرونی سڑک بھی کمرشل ہوتی گئی، پھر ساتھ کی رہائشی گلیوں میں بلند عمارتیں بننے لگیں، اور اس کے بعد پارکنگ کا بحران تو پانی و سیوریج کا دباؤ، ساتھ ہی ٹریفک اور سب سے بڑھ کر ماحولیاتی نقصان کے ساتھ محلے اپنی شناخت کھو بیٹھے؟ یا کراچی کے ادارے پہلی بار اس عمل کو ایک جامع، شفاف اور عوامی منصوبہ بندی کے ذریعے منظم کریں گے؟

کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے بنیادی اصول کیا ہونا چاہیے؟

اب کراچی کو “کمرشلائزیشن یا نو کمرشلائزیشن” کی دو انتہاؤں میں سے ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ کراچی کو تیسرا راستہ چاہیے، جو کہ منصوبہ بند کمرشلائزیشن ہے، یعنی جہاں رہائشی علاقوں کی بنیادی شناخت محفوظ ہو، ضرورت کے مطابق مخصوص تجارتی مراکز اور corridors بنائے جائیں، زمین کے استعمال کی تبدیلی سے پہلے ٹریفک کے اثرات کو دیکھا جائے، پارکنگ کو لازمی جزو رکھا جائے، ساتھ ہی پانی، سیوریج، ڈرینیج، کچرے کا انتظام اور بجلی کی ضرورت کو دیکھا جائے، پھر یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ فائر سیفٹی اور ایمرجنسی داخلی و خارجی راستے کیا ہوں گے۔ ایمینیٹی پلاٹ اور زمین کے تحفظ کو ترجیح دی جائے۔ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جائے، جس میں کلائیمیٹ رسک اسسمنٹ بہت ضروری ہے۔ مقامی رہائشیوں کو رائے کا حق دیا جائے اور ان کی رائے سے ہٹ کر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے، اور سب سے بڑھ کر زمین کے استعمال میں تبدیلی (land-use change) کو کراچی کے جامع ریجنل پلان، گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047، سے منسلک کیا جائے۔

فیصلہ گھر کے مالک کا بھی ہے، مگر شہر صرف گھر کے مالک کا نہیں!

کسی شخص کی اپنی جائیداد پر ملکیت ایک اہم قانونی حق ہے۔ لیکن ایک شہر میں ہر پلاٹ دوسرے پلاٹ سے جڑا ہوا ہے۔ آپ اپنے گھر کو ریسٹورنٹ بناتے ہیں تو گاڑی میرے گھر کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ آپ اپنا مکان اسکول بناتے ہیں تو اسکول کی وین میری گلی سے گزرتی ہے۔ آپ عمارت بلند کرتے ہیں تو اس کا پانی اور سیوریج پورے نظام پر اثر ڈالتا ہے۔ آپ گودام بناتے ہیں تو لوڈنگ ٹرک پورے محلے کی سڑک استعمال کرتا ہے۔ اسی لیے نجی ملکیت اور عوامی مفاد کے درمیان توازن کے بغیر شہر میں رہائش ممکن نہیں، اور یہی جدید شہری منصوبہ بندی کا بنیادی اصول ہے۔

خاموش ترمیم کا اصل سبق

مارچ 2025 کی ترمیم اب نافذ العمل نہیں رہی، لیکن اس نے کراچی کو ایک بہت بڑا سبق دیا ہے۔ اس نے بتایا کہ ایک ضابطے کی چند سطری تبدیلی بھی پورے شہر کے زمین کے استعمال کے اسٹرکچر کو متاثر کر سکتی ہے۔ اور 2026 کے وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے نے ایک دوسرا سبق دیا ہے کہ عدالتی پابندی تو ختم ہو سکتی ہے، لیکن شہری منصوبہ بندی کی ضرورت کبھی ختم نہیں ہوتی۔

اور آج کراچی کے سامنے راستہ دوبارہ کھلا ہے۔ مگر اب یہ راستہ کس سمت جاتا ہے، اس کا فیصلہ صرف بلڈر، ڈیویلپرز، زمین و جائیداد کے مالکان یا بیوروکریسی نے نہیں کرنا، بلکہ اس کے فیصلے کا حق کراچی کے شہریوں کو دیا جائے، کیونکہ یہ فیصلہ کراچی کے شہریوں کی زندگی سے متعلق ہے۔

کچھ اہم سوالات؟

فوری طور پر جو سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا کراچی میں کمرشل سرگرمیاں ہونی چاہیے یا نہیں؟ تو اس کا جواب ہے: بالکل ہونی چاہیے۔ لیکن کیا ہر رہائشی گلی کو کمرشل بنا دینا چاہیے؟ تو اس کا جواب ہے کہ ہرگز نہیں۔

پھر اگلا سوال کہ کیا زمین کے استعمال میں تبدیلی کی اجازت ہونی چاہیے؟ جی ہاں، ہونی چاہیے، لیکن منصوبہ بندی، قانون، انفراسٹرکچر، ماحول اور عوامی مفاد کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

کیا وفاقی آئینی عدالت نے ہر رہائشی پلاٹ کو کمرشل کر دیا ہے؟ نہیں، یہ تصور درست نہیں کہ ہر رہائشی پلاٹ کمرشل ہو گیا۔

اب ریاستی اداروں، منصوبہ سازوں اور شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ زمین کے استعمال کی تبدیلی کو ایک شفاف، قانونی، سائنسی اور عوامی منصوبہ بندی کے عمل کا حصہ بنایا جائے۔

کیونکہ کراچی کا مسئلہ یہ نہیں کہ اس میں کتنے ریسٹورنٹس، اسکول یا دفاتر ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کراچی میں یہ سب کہاں، کس پیمانے پر، کس انفراسٹرکچر کے ساتھ، اور کس کے فیصلے سے بن رہے ہیں۔ اگر اس سوال کا جواب دیے بغیر رہائشی علاقوں کو کمرشلائز کیا گیا تو کراچی کے پاس سڑکیں تو رہ جائیں گی، مگر محلے ختم ہو جائیں گے۔

مزیدخبریں