LOADING

Type to search

انسانی حقوق انصاف خبریں خواتین فيچرڈ معاشرت

افضل کوہستانی کی بیوہ بھی لاپتہ

ایک ویڈیو سے شروع ہونے والا کوہستان سکینڈل کئی جانیں نگل چکا ہے۔ یہ سکینڈل منظرعام پر لانے والے افضل کوہستانی بھی مارے گئے اور اب مقتول کے بھائی غیرت کے نام پر قتل کی اس روایت کی پاسداری کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جس کے خلاف ان کے اپنے ہی بھائی نے آواز بلند کی تھی۔

پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، افضل کوہستانی کے بھائیوں گل نذر اور گل شہزادہ کو شک تھا کہ ان کی بیوہ بھابھی حرا بی بی کے مقامی کسان وقار سے مراسم ہیں جسے انہوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔

یہ واقعہ خیبرپختونخوا کی تحصیل بٹگرام کے علاقے بیاری میں پیش آیا ہے۔

مقتول وقار کے بھائی کی مدعیت میں درج کروائے گئے مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق، تینوں افراد کار میں سوار ہو کر ایک قریبی عزیز کے گھر جا رہے تھے، راستے میں افضل کوہستانی کے بھائیوں نے ان کی گاڑی رکوائی اور وقار کو کار سے باہر آ کر بات کرنے کے لیے کہا۔

ایف آئی آر کے مطابق، وقار گاڑی سے باہر نکلا تو گل نذر نے اس پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

بانا تھانے کے ایس ایچ او نوید احمد خان نے کہا ہے، گل نذر کو شبہ تھا کہ ان کی بیوہ بھابھی اور وقار کے درمیان ناجائز تعلقات ہیں جس پر اس نے مقتول کی کار کو روکا اور اس پر فائرنگ کر دی۔

پولیس کے مطابق، وقوعہ کے بعد ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ مقتول اور ملزموں کا ایک ہی قبیلے سے تعلق ہے۔

افضل کوہستان کے ایک اور بھائی بن یاسر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم غیرت کے نام پر کسی کا قتل نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم خود اسی نوعیت کے معاملات پر عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ افضل کوہستانی کو رواں برس چھ مارچ کو ایبٹ آباد کے سربان چوک میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا جو جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق، گزشتہ چار پانچ روز سے افضل کوہستانی کی بیوہ حرا بی بی بھی لاپتہ ہیں جن کی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو موصول ہو چکی ہے اور اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے، تاہم ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ حرا بی بی کی زندگی کو سنجیدہ نوعیت کے خطرات لاحق ہیں۔

واضح رہے کہ 2011 میں مقتول افضل کوہستانی نے ویڈیو سکینڈل کو منظرعام پر لاتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی لڑکیوں کو قتل کیا جا چکا ہے جب کہ اس کے بھائیوں کی زندگیاں بھی خطرات کی زد میں ہیں۔

کوہستان ویڈیو سکینڈل میں لڑکیوں کے قتل کا مقدمہ 2011 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر درج کیا گیا۔

یاد رہے کہ ویڈیو میں مقتول افضل کوہستانی کے بھائیوں گل نذر اور بن یاسر کو چار لڑکیوں کی تالیوں کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *