Type to search

خبریں فيچرڈ کھیل معاشرت

مائونٹ ایورسٹ پر کوہ پیمائوں کا ہجوم اموات کی وجہ بننے لگا

دنیا کا بلند ترین پہاڑ مائونٹ ایورسٹ سر کرنے والے سرپھروں کی تعداد میں حالیہ برسوں کے دوران اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ اب پہاڑ سر کرنا موت کی وادی سے گزرنے کی طرح ہے۔ کوہ پیمائوں کی طویل قطاروں کے باعث اموات بھی ہو رہی ہیں اور کوہ پیمائی کا روایتی جنون ایک خونی کھیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔

مائونٹ ایورسٹ سر کرنے کے لیے اس وقت کوہ پیمائوں کا اس قدر ہجوم ہے کہ چوٹی تک پہنچنے کے لیے ہر کوہ پیما کو کئی کئی گھنٹوں تک پہاڑ کے کسی ایسے حصے پر کھڑا ہونا پڑ رہا ہے جہاں آکسیجن نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

کچھ ایسا ہی ایک برطانوی کوہ پیما کے ساتھ بھی ہوا ہے جو دراصل چوٹی سر کرنے کے لیے وہاں پہنچا تھا۔

44 سالہ برطانوی کوہ پیما روبن ہائنز فشر نے اپنی موت سے محض چند گھنٹے قبل ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں پہاڑ پر اس قدر ہجوم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور اسے سر کرنے کے لیے اپنا منصوبہ بھی تبدیل کیا تھا۔

انہوں نے اپنی آخری پوسٹ میں لکھا تھا کہ وہ قاتل ہجوم کے باعث اپنا ارادہ تبدیل کر رہے ہیں۔ چوٹی تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ ہے لیکن ہجوم کے باعث ہونے والی تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ میں ایک ایسے وقت پر چوٹی سر کرنا چاہتا ہوں جب کوہ پیمائوں کی تعداد کم ہو کیوں کہ اس وقت آگے بڑھنے کے لیے ہر ایک کو انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

گزشتہ نو روز کے دوران بہت زیادہ ہجوم ہونے کے باعث چوٹی تک پہنچنے کے منتظر 10 کوہ پیما جان کی بازی ہار چکے ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اچھا موسم ہونے کے باعث کوہ پیمائوں کی ایک بڑی تعداد نے مائونٹ ایورسٹ کا رُخ کیا ہے۔

مقامی گائیڈز کے مطابق، ان اموات کی وجہ چوٹی کی جانب جانے والے راستوں کا بند ہونا ہے کیوں کہ انتظار کرنے والے کوہ پیمائوں کی قطاریں اس قدر طویل ہوتی ہیں کہ ان کے پاس موجود آکسیجن کی محدود سپلائی ختم ہونے لگتی ہے اور دوسرا شدید ٹھنڈ میں زیادہ وقت گزارنا پڑتا ہے۔

8850 میٹر بلند پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کے خواہشمند کوہ پیما روبن ہائنز فشر کی ہلاکت پر ان کی اہلیہ کرسٹین کیریئری نے ٹویٹ کیا، اس نے اپنا مقصد پا لیا ہے۔ میرا دل ٹوٹ گیا ہے، یہ اس کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔

واضح رہے کہ نیپالی حکومت نے مائونٹ ایورسٹ سر کرنے کے خواہاں 378 کوہ پیمائوں کو پرمٹ جاری کیا ہے تاہم ان کے ساتھ قریباً اتنی ہی تعداد میں نیپالی گائیڈ بھی شریک سفر ہیں۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *