نانا پاٹیکر، اداکاری کا چلتا پھرتا ایک ادارہ

وہ ایک کلاکار تھا: کبھی کرانتی ویر کا انقلابی، کبھی یشونت کا سخت گیر پولیس آفیسر، کبھی وجود کا ناکام عاشق، کبھی پرندہ کا سفاک ولن، کبھی کہرام کا دیش پریمی، جو امیتابھ بچن کو گرفتار کرنا چاہتا ہے، کبھی پرہار کا فوجی، جو وطن پر قربان ہونا چاہتا ہے، کبھی راج نیتی کا گھاگ سیاست دان

12:17 AM, 16 Oct, 2026

حسنین جمیل

وہ سب سے الگ تھا، اپنے ہم عصروں کے برعکس شوبز کی چکا چوند سے دور ایک گاؤں میں جا بسا۔

جس فلم ساز کو ضرورت ہوتی، اس کے گاؤں جاتا، اسے سائن کر لیتا۔

نانا پاٹیکر ایسا ہی تھا۔ شہر آتا، نگار خانوں میں فلم کی عکسبندی کرتا، پھر واپس گاؤں لوٹ جاتا۔

شہر ممبئی میں اس کا گھر بھی تھا، وہاں اس کا بیٹا اور سابقہ شریکِ حیات رہتے تھے۔ نانا کو گاؤں، ندی، کنارا، پہاڑ، درخت، پھول، پرندے بھاتے تھے۔ وہ ممبئی سے دور مہاراشٹر کے گاؤں میں خوش تھا۔ وہاں اس کے چند ایکٹر دوست ملنے آ جاتے تھے۔

رشی کپور (سورگواسی)، متھن چکروتی، انیل کپور، جیکی شروف۔

وہ بھاشن سیاست دانوں کی طرح دیتا تھا، مگر بنامِ مذہب، بنامِ ذات پات سیاست کاری سے اسے نفرت تھی۔

کرانتی ویر فلم کے بعد اسے سیاسی جماعتوں نے شمولیت کی دعوت دی، مگر اس نے انکار کر دیا۔

وہ ایک کلاکار تھا: کبھی کرانتی ویر کا انقلابی، کبھی یشونت کا سخت گیر پولیس آفیسر، کبھی وجود کا ناکام عاشق، کبھی پرندہ کا سفاک ولن، کبھی کہرام کا دیش پریمی، جو امیتابھ بچن کو گرفتار کرنا چاہتا ہے، کبھی پرہار کا فوجی، جو وطن پر قربان ہونا چاہتا ہے، کبھی راج نیتی کا گھاگ سیاست دان، کبھی شنکلپ کا مہاگرو، جو سیاست کی شطرنج کی بساط بچھاتا ہے۔

وہ ساری زندگی کرداروں میں جیتا تھا۔

تھیٹر اس کا عشق تھا۔ وہ اپنے مکالمے اکثر خود لکھتا تھا، مگر بطور لکھاری نام نہیں دیتا تھا۔

نانا صاحب نے تھیٹر سے عشق کیا، وہی اس کا مکتبۂ فکر تھا۔

فلموں سے پیسے کماتا تھا، دنیا بھر میں شہرت ملی، مگر جب بھی دل کو سکون پانے کی تمنا ہوتی تو تھیٹر کا رخ کرتا۔

نانا پاٹیکر کی رحلت فنِ اداکاری کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔

ان جیسے اداکار صرف اداکاری نہیں کرتے، بلکہ فلسفی ہوتے ہیں۔ اپنے کرداروں کے ذریعے گیان بانٹتے ہیں۔

نانا پاٹیکر کتابوں کا بہت مطالعہ کرتا تھا۔ تاریخ، سیاست، فکشن، شاعری، سب پڑھتا تھا۔

گاؤں میں تھا ہی کیا؟

کتابیں، درخت، پہاڑ، جھیل، پرندے، پھول ہی اس کے آخری وقت کے ساتھی تھے۔

آج فنِ اداکاری کا پرچم سرنگوں ہو گا۔

الوداع، نانا پاٹیکر صاحب، الوداع! جہاں بھی رہیں، ایسے ہی رہیں، جیسے آپ نے اس دنیا میں 75 سال گزارے۔

نانا پاٹیکر ایک بلند پایہ اداکار تھا۔ اس نے فلموں کے ذریعے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ پرندہ، کرانتی ویر، اگنی ساکشی پر نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کیے، تو فلم فیئر ایوارڈز کی بات کریں تو چار ایوارڈز حاصل کیے: کرانتی ویر، انگار، پرندہ اور اپھارن پر۔

نانا ایوارڈز سے مبرا تھا، اس کا فن بڑا، ایوارڈز چھوٹے، پر چکے تھے۔ مگر بہرحال یہ بھی شوبز کا حصہ ہیں۔

تھیٹر اور فلموں کے بعد نانا پاٹیکر نے او ٹی ٹی کا رخ کیا تھا۔ او ٹی ٹی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو متوازی سنیما کے اداکاروں کا میدان بن چکا ہے۔ باکس آفس کی دوڑ سے مبرا ایک خالص میدان، جہاں معیار اہم ہے، مقدار پر توجہ دی جاتی ہے۔

پرکاش جھا جیسے مصنف و ہدایت کار کے ساتھ نانا نے فلم راج نیتی میں کام کیا تھا۔ اب او ٹی ٹی پر ایک سیزن شنکلپ کیا، جو بہت ہی زبردست تھا۔ انیل کپور کی فلم صوبے دار میں آخر میں بطور مہان اداکار بھی نظر آئے۔

جیسے منوج باجپائی او ٹی ٹی کنگ بن چکا، ایسا ہی نانا پاٹیکر ادھر بہت کام کر سکتے تھے، مگر ان کی زندگی نے مہلت نہ دی۔

نانا پاٹیکر اداکاری کا چلتا پھرتا ایک ادارہ تھا۔

اس کی فلم اب تک چھپن لوگ بھول نہیں پائے، جس میں انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کا رول کیا تھا، جو بعد میں خود انڈر ورلڈ ڈان بن جاتا ہے۔

نانا صاحب کی ایک اور خوبی تھی: وہ اپنی مٹی اور دھرتی سے جڑا ہوا تھا۔ جب بھی کوئی اس سے انگریزی میں سوال کرتا، وہ اسے ہندی میں جواب دے کر شرمندہ کر دیتا۔

مزیدخبریں