Type to search

سیاست فيچرڈ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سازش کا حصہ بننے والے وزیراعظم کا حال ریاض حنیف راہی والا ہوگا

  • 54
    Shares

آپ حیران ہوں گے ایسا کیوں لکھا؟ 1 کروڑ 68 لاکھ ووٹ لے کرقومی اسمبلی میں 156 نشستوں کی نمائندہ تحریکِ انصاف کے وزیراعظم عمران خان کا حال ایک مشکوک اور بدکردار پیٹشنر ریاض حنیف راہی والا کیوں ہوگا؟ سمجھاتا ہوں۔ جلدی کیا ہے؟ پہلے سپریم کورٹ کی سنیارٹی لِسٹ میں پانچویں نمبر پر موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو تو جان لیں جو موجودہ 17 ججز میں ریاست کے ہاتھوں ڈنڈے سے ہانکے جانے والے صوبہ بلوچستان کے واحد جج ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اگر بطورِ سپریم کورٹ کے سینئر جج 25 اکتوبر 2024 کو ریٹائر ہو جانا ہوتا تو شاید اتنا مسئلہ نہ ہوتا لیکن جو چیز جسٹس قاضی فائز کو اختیارات کی جنگ میں مستقبل کی منصوبہ بندی پرریاست کی غیر معمولی اجارہ داری کے لئے خطرناک بناتی ہے وہ اِن کا 17 ستمبر 2023 کی صُبح چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف لینا ہے۔

اگر تحریکِ انصاف کی حکومت نے مُدت پوری کی تو 2023 پاکستان میں عام انتخابات کا سال ہوگا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ستمبر 2023 ہی وہ مہینہ ہوگا جِس کی دوسری شش ماہی میں جہاں ایک طرف پاکستانی عوام قطاروں میں لگے ووٹ دے رہے ہوں گے تو دوسری طرف بلوچستان کا بیٹا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدرِ مملکت عارف علوی سے چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف لے رہا ہوگا۔

جی ہاں یہ افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر وہی صدرِ مملکت عارف علوی ہوں گے جنہوں نے دو دن قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہے۔ اب اس منظر کو تھوڑی دیر کے لئے آنکھوں کے سامنے لا کر اس کی ریاستی منصوبہ سازوں کے لئے ہولناکی سمجھیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اگر سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی مانند صرف چار ہفتوں تک چیف جسٹس آف پاکستان رہنا ہوتا تو شاید ریاست خون کا گھونٹ پی کر صبر کر لیتی لیکن وہ 13 ماہ کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر براجمان رہیں گے اور طاقتور حلقوں کے لئے یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ اتنا ڈراؤنا خواب کہ چار سال پہلے ہی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔

کبھی ایک مشکوک پیٹشنر کے ذریعے اُن کی 5 اگست 2009 کو بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر تعیناتی کو چیلنج کروایا جاتا ہے۔ دال نہیں گلتی تو پنجاب بار کونسل کے کچھ ممبران سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف توہین آمیز قرارداد پاس کروا کر اُن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ وکلا برادری سے ردِ عمل آتا ہے تو سوری سوری کہہ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں لیکن اندر کا خوف ہے کہ صبر نہیں لینے دیتا اور اب ایک ریفرنس کے ذریعے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے نام مبینہ بیرونِ ملک اثاثوں کا ریفرنس دائر کردیا گیا ہے۔

سپین میں پیدا ہونے والی 33 سال سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رفیقِ حیات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بہت بڑے زمیندار بلوچ کھوسہ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ مِسز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بہت مزیدار کھانے بناتی ہیں اور اُن کے ہاتھ کا بنا لزانیہ بہت لذیذ ہوتا ہے۔ دونوں میاں بیوی ججز کالونی کا مثالی بااخلاق اور سب سے پیارا جوڑا ہیں۔ ججز کالونی میں ہی ایک ساتھ جِم کرنے جاتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جج بننے سے پہلے بھی کارپوریٹ سیکٹر کےایک کامیاب وکیل ہونے کی وجہ سے قاضی فائز عیسیٰ صاحب مالی طور پر مستحکم تھے۔ اِس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جب وکیل تھے تو اُن کی لا فرم 2004 میں پاکستان کی سب سے زیادہ ٹیکس دینے پر ستارہ امتیاز دیا گیا تھا۔ خاندانی ورثے میں بھی انہیں کوئٹہ اور پشین میں بڑی جائیداد ملی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والے زرعی رقبے سے امیر ہونے والے نو دولتیے نہیں ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی قیامِ پاکستان کی تحریک میں قائدِ اعظم کے انتہائی بااعتماد ساتھی قاضی عیسیٰ کے صاحبزادے ہیں جنہیں بانی پاکستان محمد علی جناح نے خود بلوچستان میں مُسلم لیگ کا صوبائی صدر بنایا جبکہ قاضی فائز عیسیٰ کے دادا قاضی جلال الدین ریاستِ قلات کے پہلے وزیراعظم رہے۔ اتنے باوقار خاندانی پسِ منظر کے باوجود جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے مزاج میں کسی قِسم کی رعونت نہیں ہے اور درویش صفت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ عموماً سکیورٹی اور پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ججز کالونی سے پیدل ہی سپریم کورٹ چلے جاتے ہیں۔

آئین اور سپریم کورٹ کے ججز کے لئےکوڈ آف کنڈکٹ کی اتنی پابندی کرتے ہیں کہ جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ میں پاکستان کو درپیش آبی چیلنجز پر منعقد ہونے والی کانفرنس کا دعوت نامہ تھرڈ فلور سے گراؤنڈ فلور پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اُن کے چیمبر میں بھجوایا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس ثاقب ںثار کے سٹاف کو دعوت نامہ یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ وہ سپریم کورٹ میں صرف انصاف دینے کے لئے بیٹھے ہیں۔اِسی طرح جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے ایک سیاسی جماعت کے عہدیداروں کے ہمراہ دُنیا بھر میں گھوم رہے تھے، سیاسی تقریریں کر رہے تھے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برطانوی یونیورسٹی میں لیکچر کے بعد میڈیا نمائندوں سے یہ کہہ کر گُفتگو سے انکار کردیا کہ یہ اُن کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہوگا۔

مشہور مقولہ ہے کہ ججز نہیں اُن کے فیصلوں کو بولنا چاہیے تو اِس کا عملی نمونہ دیکھنے کے لئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیض آباد دھرنہ کیس کا فیصلہ پڑھ لیجئے۔ تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ جس جج کی رگوں میں قیامِ پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والے باپ کا خون دوڑ رہا ہو وہ اب ریاست کے نشانے پر کیوں ہے؟ جِس جج نے میمو کمیشن میں ریاستی بیانیے کے مطابق امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حُسین حقانی کو غدار لکھا وہ ریاست کی آنکھوں میں کیوں کھٹکنے لگا؟ جناب اِس جج نے فیض آباد دھرنا کیس میں ریاست میں زیرِ زمین قائم ایک متوازی حکومت کے غیر آئینی اور غیرقانونی کردار پر ایسی قاری ضرب لگائی ہے کہ پوری ریاست بِلبلا اُٹھی ہے اور تین سیاسی جماعتوں سمیت چھ ریاستی ادارے نظرِ ثانی کی اپیل دائر کر چکے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ریاست تھوڑا صبر کر لیتی، اگلے آٹھ، دس ماہ میں جب یہ نظرِ ثانی اپیلیں سماعت کے لئے مُقرر ہوتیں تو ممکن ہے فیض آباد دھرنا کیس میں نظرِ ثانی اپیل سُننے کے لئے ایک لارجر بینچ بنا کر اُس میں مزید ججز شامل کر دیے جاتے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اقلیت میں بدل کر اکثریتی فیصلہ ریاست کو ریلیف دے دیتا جیسا کہ ماضی میں تلور کے شکار پر جسٹس جواد ایس خواجہ کے فیصلے کے ساتھ کیا گیا تھا اور تلور کے شکار کو پاکستانی خارجہ پالیسی کا اہم ستون مان لیا گیا تھا۔

لیکن اِتنا صبر کہاں؟مُجھ جیسے تاریخ کے طالبعلم اور ایک معمولی صحافی کے لئے جو بات باعثِ مایوسی ہے وہ تحریک انصاف حکومت کا اِس تمام محلاتی سازش میں کردار ہے۔ عمران خان کو شاید معلوم نہیں جمہوری حکومت کا فلسفہ کیا ہوتا ہے۔ ایک جمہوری حکومت وہ ہوتی ہے جو عوام کی عوام کے لئے منتخب کردہ حکومت ہوتی ہے۔ عوام اُس کو اپنے مفاد میں کام کرنے کے لئے مُنتخب کرتے ہیں نہ کہ غیر مُنتخب شخصیات اور اداروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے۔ لیکن جب عام آدمی کے ووٹ سے مُنتخب ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت پر عام آدمی کی فلاح کے لئے اقدامات کی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے تو وہ سستی بِجلی، گیس، ادویات، اشیائے خورد و نوش کو آئی ایم ایف کی شرائط کے سامنے قُربان کرکے عوام کو مہنگائی کی گرم لُو جھیلنے کے لئے چھوڑ دیتی ہے لیکن جب بات بھاری بھر کم ریاستی اداروں کے مفادات کی آتی ہے تو وہ تیزی سے مقبول ہوتی پختون تحفظ موومنٹ کو بھی آنکھیں دکھاتی ہے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بھیجتے ہوئے بھی شرمندہ نہیں ہوتی۔

14 جنوری 2013 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نام بطور گورنر بلوچستان تجویز کرنے والے عارف علوی آج مولوی اقبال حیدر، شاہد اورکزئی اور ریاض حنیف راہی والے پیٹشنر کا کردار ادا کر رہے ہیں جِن کا کام ہی ریاستی ایما پر ایسی مشکوک پیٹشنز دائر کرنا ہے۔ تحریکِ انصاف کے مُرشدین سے لے کر تحریکِ انصاف کے زُعما تک سب جانتے ہیں اِس ریفرنس سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ گھر نہیں بھیجے جاسکتے لیکن پھر بھی مقصود ہے کہ باقی 16 ججز کو پیغام دیا جائے ریاست کے سکرپٹ سے ہٹو گے تو فلاح نہیں پاؤ گے۔

بات لمبی ہو گئی۔ بات شروع ہوئی تھی کہ میں ایسا کیوں سمجھتا ہوں عمران خان کا حال مشکوک پیٹشنر ریاض حنیف راہی والا ہوگا؟ تو اِس کے لئے میں آج آپ کو ایک ایسا واقعہ بتانے جا رہا ہوں جو آج تک کہیں رپورٹ نہیں ہوا۔ قصہ یوں ہے کہ ایک مشکوک ساکھ کے حامل پیٹشنر ریاض حنیف راہی نے2016 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تعیناتی کے خلاف دائر کردہ پیٹیشن کو رجسٹرار آفس کی طرف سے اعتراض لگا کر واپس کردیا گیا تھا۔ لیکن دو سال بعد اچانک مارچ 2018 میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اِن چیمبر سماعت کی اورریاض حنیف راہی کی پیٹیشن پر اعتراضات ختم کرکے سماعت کے لئے اپنی ہی عدالت میں لگا لیا۔

لیکن جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے اِس اقدام پر بالخصوص بلوچستان/کوئٹہ بار اور بالعموم پاکستان پاکستان بھر کی بارز (ماسوائے لاہور ہائی کورٹ بار) کی طرف سے شدید ردِعمل آیا جبکہ میڈیا نے بھی پیٹشنر کے مشکوک پسِ منظر کو کھنگالنا شروع کیا اور پیٹشنر کی نیت پر سوال اُٹھانا شروع کیے تو بقول شخصے قاضیِ وقت جسٹس ثاقب نثار کے ہاتھ پیر پھول گئے اور انہوں نے کُچھ روز بعد ہونے والے دورہِ کوئٹہ سے قبل پیٹیشن کو ٹھکانے لگانے کے لئے بھاگ دوڑ شروع کر دی کیونکہ وہ جانتے تھے کوئٹہ میں بلوچ وکلا کی طرف سے اُن کو شدید ردعمل کا سامنا ہوگا۔ سماعت سے ایک رات قبل پولیس نے راولپنڈی میں رات گئے پیٹشنر ریاض حنیف راہی کے بیٹے سے یقین دہانی حاصل کی کہ ان کا باپ صبح عدالت میں پیش ہو کر اپنی درخواست پر دلائل دے گا جبکہ پیٹشنر ریاض حنیف راہی کے رحیم یار خان میں واقع آبائی گھر بھی اُسی رات ایک سیشن جج نے خاندان کے افراد کو بھی پیغام دیا کہ وہ صُبح ریاض حنیف راہی کی سُپریم کورٹ میں حاضری کو یقینی بنائیں۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی پیٹشنر کوکہا جا رہا تھا کہ وہ اپنی درخواست پر سماعت سے کسی صورت غیر حاضر نہیں ہو سکتا۔ جی ہاں ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ پیٹشنر تھے، کسی کیس میں مطلوب ملزم نہیں۔ اگلی صبح سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے پہلی ہی سماعت پر پیٹیشنر راہی اور لاہور ہائی کورٹ بار کے فریق وکیل علی ظفر ایڈووکیٹ کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تعیناتی کے وقت کی گئی مشاورت کا ریکارڈ طلب کرنے کی درخواستوں کے باوجود پیٹیشن مسترد کر دی۔

اس تمام واقعہ میں سمجھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کو یقین نہ آئے تو ریاض حنیف راہی زندہ ہیں۔ اُن کو ایک فون کر کے یہ واقعہ اُنہی سے سُن لیں اور عبرت حاصل کر لیں۔

Tags:

10 Comments

  1. Shahanshah مئی 31, 2019

    Sirf faizabad dharn case hi is ka sabab hosakta hay

    جواب دیں
  2. پنجاب کے چیف جسٹس کے ساتھ تعصب بہت واضح ہے. رہی بات طاقتور حلقوں کی تو ان کے تو وکیل بھی رہے ہیں اور بحیثیت جج ان کو ریلیف بھی پہونچا تے رہے ہیں. قاضی عیسی مرحوم کی مسلم لیگ سے وابستگی کوئی راز تو ہے نہیں. تو ان کے صاحبزادے کا سیاسی جھکاؤ بھی یقیناً وہی ہے اسی لئے جو مسلم لیگی رہنماؤں پہ تنقید کرے قاضی فائز عیسی اسے کیسے برداشت کریں چاہے وہ وقت کا چیف جسٹس ہو یا تحریک انصاف کا وزیراعظم. ان کی اسی کھلی جانبداری کی وجہ سے ان کو چاہیے کہ وہ اس منصب سے اپنے آپ کو الگ کرلیں.

    جواب دیں
    1. علی وارثی مئی 31, 2019

      والد صاحب تو پھر عمران خان، جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی وغیرہ کے بھی مسلم لیگی تھے۔ یہ منصب سے علیحدہ کرنے والا مطالبہ اس وقت تو سامنے نہیں آیا جب سابق چیف جسٹس شیخ رشید کے ہسپتال کا افتتاح کرنے جا رہے تھے۔ اس وقت بھی سامنے نہیں آیا جب وہ بیرونِ ملک تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ساتھ ڈیم فنڈ کے لئے ٹوپی ڈرامہ کر رہے تھے، جس کا بعد میں انہوں نے اعتراف بھی کر لیا۔ لیکن قاضی صاحب کے والد کو گزرے کئی برس ہو گئے، مگر وہ اس لئے استعفا دے دیں کہ والد صاحب نے پاکستان بننے کے وقت قائد اعظم کا ساتھ دیا۔ گریں، مگر اتنا نہیں۔

      جواب دیں
  3. اور ہاں یہ پہلی دفعہ سنا کہ سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ان کی اہلیہ محترمہ کھانا کیسا پکاتی ہیں. ہوسکتا ہے سابق وزیر اعظم نے مسز فائز عیسی کے ہاتھ کا کھانا کھاکر یہ بھی قابلیت میں شامل کرلیا ہو. آفٹر آل کھانے پینے کے شوقین تو تھے نا.

    جواب دیں
    1. علی وارثی مئی 31, 2019

      ججز کی تقرری وزیر اعظم نہیں کرتا۔

      جواب دیں
  4. نور احمد خان مئی 31, 2019

    مضمون جتنا ہی چشم کشا انتظام الحق تھانوی صاحب کا مضمون پر کیا گیا تبصرہ ہے. اس تبصرے سے پتا چلتا ہے کہ ایک ادارے سے پھیلنے والی سڑاند معاشرے میں کتنی سرائیت کر چکی ہے.

    جواب دیں
  5. Umar Hayat مئی 31, 2019

    If it is true story and un changed. Good.

    جواب دیں
  6. حافظ محمد مئی 31, 2019

    کتنی حیرانی کی بات ھے کہ ایک جج جو کہ اپنے فیصلوں سے بولتا ھے اسکو بھی ھم کس طرح بدنام کرنے کی کوشش کر رھے ھیں – اللہ ھمارے حال پر رحم فرماۓ آمین ثم آمین

    جواب دیں
  7. Muhammad Waqar جون 4, 2019

    جب سیاست دان اور جرنیل حساب دے سکتے ہیں تو ججز کو بھی جواب دینا چاہیے۔سپریم جوڈیشل کونسل میں اپنا دفاع کریں نہ کہ صدر کو لکھے گئے خط میڈیا کے حوالے کر دیں۔اور ان خطوط میں اپنا دفاع کی بجائے وزیراعظم پر تنقید سمجھ سے بالاتر ہے۔

    جواب دیں
  8. عابد حسین جون 8, 2019

    کیساسنگین مذاق کیا ہے صاحبِ مضمون نے کہ جج اپنے فیصلوں کے زریعے ہی بولتا ہے
    لیکن قاضی عیسی فائز جس دن سے ریفرنس دائر ہوا ہے مسلسل بول رہا ہے اوربےتکان بول رہاہے
    مےں صاحبِ مضمون سے یہ پوچھنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں
    کہ اگر آپ کت ملک میں مروجہ آئین میں ریفرنس کی گنجائش موجود ہے تو پھر اس پہ اتنا واویلا کیوں
    کیا عدالتوں میں آئے دن جھوٹی سچی درخواستیں دائر نہیں ہوتیں
    اور دوسری بات آپ کو دلچسپی ہوگی ان کی زوجہ محترمہ کے شجرہ نسب سے یہان کے ہاتھ کے بنے کھانوں سے
    مجھے دلچسپی ہے تو صرف اس میں اگر ایک جج کے انتہائی قریبی عزیزوں کے نام پر کچھ جائدادیں ہیں تو ان کا تذکره اپنے کوائف میں درج کرنے میں کیا امر مانع تھا
    ایک اوربات کیا یہ انوکھا واقع نہیں کہ موصوف کو افتخار چوہدری وکیل کے چیمبر سے اٹھا کر سیدھا جسٹس نہیں چیف جسٹس بنا دے
    آخری بات سپریم کورٹ تک آ کر بھی ایک جج بلوچ یا پنجابی ہی رہتا ہے تو پھر آج کےبعد پنجابی بھی اس سوچ کے ساتھ عدلیہ کودیکھیں گے

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *