Type to search

بڑی خبر خبریں فيچرڈ

اس بار ہم یقینی بنائیں گے کہ لوگ چاند کو خود دیکھیں، فواد چوہدری

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے میٹ آفس کی تمام سائٹس عوام کیلئے اوپن کرنے کا اعلان کردیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں فواد چوہدری نے کہا کہ میٹ آفس کی 66 سائٹس عام لوگوں کیلئے چاند دیکھنے کیلئے اوپن رہیں گی۔  کچھ سائٹس پر جدید سہولیات اور بعض سائٹس پر بنیادی سہولیات ہیں۔ اس بار ہم یقینی بنائیں گے کہ لوگ چاند کو خود دیکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ افراد کے بجائے سائنس اور ماڈرن ٹیکنالوجی پر اعتماد کریں۔

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شوال کے چاند کی پیدائش ہوگئی جسے کل بغیر دوبین کے بھی باآسانی دیکھا جاسکے گا۔

وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ آج تین بجکر 2 منٹ پر چاند کی پیدائش ہوگئی ہے، آج چاند نہیں دیکھا جاسکتا کیوں کہ سورج کےغروب اور چاند کا ایک وقت ہے، کراچی اور گوادر کے ساحلی پٹی میں کل چاند بغیر کسی دوربین کے صرف آنکھ سے بھی دیکھا جاسکے گا۔

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی جو دوربین استعمال کر رہی ہے وہ 50 سال پرانی ہے، اگر سائنسی آلات استعمال نہیں کرنا تو پھر عینک کے بغیر چاند دیکھیں، پرانے زمانے میں سورج کو دیکھ کر ٹائم جانا جاتا تھا، لیکن اب گھڑی دیکھ کر ہی ٹائم فکس کیا جاتا ہے۔

اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ قومی ریاست میں خوشیوں کے تہوار تقسیم کا باعث نہیں ہونے چاہیے، سائنسی بنیادوں پر مسائل کو دیکھنے کی ضرورت ہے، مسلمانوں نے علم سے سیکھنا ہے علم سے ہی آگے بڑھنا ہے۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ علم کے استعمال کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے، دنیا میں ایسے ممالک ہیں جہاں کئی کئی ہفتے سورج نہیں نکلتا، اسلام پوری دنیا کے انسانوں کیلئے ہے۔

خیال رہے کہ محکمہ موسمیات نے بھی کل بروز منگل شوال کا چاند نظر آنے کا قوی امکان ظاہر کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں کل مطلع صاف اور کہیں جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے تاہم ملک کے کئی حصوں میں چاند نظر آنے کے قوی امکانات ہیں۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہےکہ شوال کے چاند کی پیدائش آج (پیر) دوپہر 3 بجکر 2 منٹ پر ہو چکی ہے۔ دوسری جانب شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کا اجلاس کل کراچی میں بعد نمازِ عصر محکمہ موسمیات کے دفتر میں ہو گا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *