Type to search

سیاست فيچرڈ

مریم، بلاول ملاقات: مشترکہ اعلامیے میں سپریم کورٹ ججز کے خلاف ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ

رائیونڈ: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی دعوت پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری آج رائےونڈ (لاہور) تشریف لائے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل مشاورت ہوئی جس میں دونوں جماعتوں کے دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں بلاول بھٹو کے ہمراہ قمر زمان کائرہ، چودھری منظور گجر، مصطفیٰ نواز کھوکھر شامل تھے۔

مسلم لیگ نواز کی جانب سے مریم نواز، ایاز صادق، پرویز رشید، رانا ثنا اللّٰہ اور دیگر نے اس ملاقات میں شرکت کی۔

اس موقع پر اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج صاحبان کے خلاف حکومتی ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے خلاف ریفرنس بد نیتی پر مبنی اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔ دونوں رہنماﺅں نے جج صاحبان کے خلاف حکومت کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے کی شدید مذمت کی اور عدلیہ کی آزادی اورخود مختاری کےلئے بھر پور جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ملاقات میں موجودہ ملکی صورت حال پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ ملک ہر شعبہ زندگی میں زوال کا شکار ہے اور اُسے اقتصادی تباہ حالی کی گہری دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔ معیشت کے تمام اشاریے شدید بحران کی طرف جا رہے ہیں۔ پاکستان کو عالمی ساہوکاروں کے پاس گروی رکھ دینے اور قومی ادارے غیروں کے سپر د کر دینے کے باوجود صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قیمت، مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح، دس ماہ میں ریکارڈ قرضوں کے باوجود زرمبادلہ کے کمزور ہوتے ذخائر، سٹاک ایکسچینج کی بحرانی صورت حال، قومی شرح نمو  نصف رہ جانے، بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری میں جمود، ترقیاتی منصوبوں پر کام کے روک دیے جانے، سی پیک کی سُست رفتاری اور دیگر مسائل پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اس موقع پر نیب کے جعلی، بے بنیاد اور من گھٹرت مقدمات کے حوالے سے عدالتوں کا طرز عمل بھی زیر غور آیا۔ ملاقات میں مولانا فضل الرحمٰن کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس اور دونوں جماعتوں کے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی بات ہوئی۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے اتفاق کیا کہ موجودہ غیر نمائندہ حکومت عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی ترجمانی نہیں کرتی۔

دونوں رہنماﺅں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اپوزیشن کے ایک مشترکہ لائحہ عمل کےلئے تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے بات کی جائے گی اور اُن جماعتوں کو پوری طرح اعتماد میں لیا جائے گا۔ مشترکہ حکمت عملی کا دائرہ اُن سیاسی جماعتوں تک بھی پھیلایا جائے گا جنہوں نے پی ٹی آئی حکومت کے قیام میں اسے ووٹ دیا تھا یا اُس کی کو لیشن میں شامل ہے لیکن حکومتی پالیسوں سے اتفاق نہیں کر رہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں قومی جماعتوں نے ملک کے وسیع تر مفاد میں دھاندلی زدہ انتخابات کے جعلی نتائج کو نظر انداز کرتے ہوئے مثبت طرز عمل اپنایا لیکن دس ماہ کے دوران حکومت کی نااہلیت نے نہ صرف معیشت بلکہ قومی سیاست و انتظامی کارکردگی کو بھی تما شا بنا دیا ہے۔

ملاقات میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور جناب نواز شریف کے درمیان 2006 میں طے پانے والے میثاق جمہوریت کا ذکر بھی آیا۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو نے اسے ایک اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے اسے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ انہوں نے عوام کی مشکلات اور نااہل حکومت کی عوام دشمن سرگرمیوں کے حوالے سے احتجاجی تحریک کی پارلیمان کے اندر اور باہر مشترکہ حکمتی عملی پر بھی بات کی۔

بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں، میڈیا کی آزادی سلب کرنے، صحافیوں پر حملوں، اپوزیشن کی آواز دبانے کے لئے سخت گیر ہتھکنڈوں اور سنسر شپ کی مذمت کی گئی۔ اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ موجودہ نااہل اور غیر نمائندہ حکومت کا جاری رہنا عوام اور ملک کو تباہی و بربادی اور ایسے المیے سے دو چار کر سکتا ہے جس کی تلافی ممکن نہیں رہے گی۔

بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف نے اتفاق کیا کہ آج کی ملاقات کے دوران سامنے آنے والی تجاویز کو دونوں جماعتوں کے رہنماﺅں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔ دونوں رہنماﺅں نے سپیکر قومی اسمبلی سے گرفتار ارکانِ قومی اسمبلی کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی جانبدارانہ رویہ ترک کریں۔

بلاول بھٹو زرداری نے ظہرانے کی دعوت پر مریم نواز کا شکریہ ادا کیا۔ مریم نواز نے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی آمد، بالخصوص جیل میں محمد نواز شریف کی مزاج پرُسی کےلئے جانے پر اُ ن کا شکریہ ادا کیا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *