تین لاکھ محبِ وطن پاکستانی جن کی آواز بننے کو پاکستانی لبرل بھی تیار نہیں

اگر آج بھی آپ ان پر ہمدردی کی نظر نہیں ڈالیں گے اور ان کو غیر پاکستانی گردانیں گے تو جو بلوچستان میں جہاں پاکستان سے "آزادی" حاصل کی جانی کی کوشش کی جا رہی ہے، وہاں کون پاکستان کے لئے کھڑا ہونے کی ہمّت کرے گا؟

11:00 PM, 17 Apr, 2025

ڈاکٹر رخشندہ پروین

پاکستانی محصورین، جو پچھلی پانچ دہائیوں سے بنگلہ دیش کے کیمپ نما اذیت خانوں میں کربناک اور ذلت آمیز "زندگی" گزار رہے ہیں، ان کی پاکستان میں آبادکاری مکمل کیوں نہ ہو سکی؟ فنڈز کی کمی یا لسانی و گروہی سیاست؟

"اکہتر" کا چیپٹر پاکستان سے غیر مشروط محبت کرنے والوں، اور خاص طور پر بہاری کمیونٹی کے لئے ماضی کا قصہ کیوں نہیں؟ اور موجودہ پاکستان یا باقی ماندہ پاکستان کے اربابِ اختیار کے لئے اس المناک باب کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟

ایک ہولناک اور مقبول جھوٹ ہے جسے مقبول لکھاری، صحافی، فیمنسٹ، سیاست کے طالب علم اور لبرلز بڑے اہتمام سے زندہ رکھتے ہیں اور پاکستان آرمی پر تنقید کرتے ہوئے اعتماد سے پیش کرتے ہیں — وہ ہے سابقہ مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کا قتلِ عام اور بنگالی خواتین کی آبرو ریزی۔

سچائی کیا ہے؟

کیا واقعی ایسا ہوا تھا؟

نسل کشی کس کمیونٹی کی ہوئی؟

کس کمیونٹی کی خواتین کو ہر طرح کے جبر اور ستم کا نشانہ بنایا گیا؟

(براہِ کرم یہ بات نوٹ فرمائیں کہ میں نے ہمیشہ سابقہ مشرقی پاکستان میں بنگالی عوام کے خلاف مغربی پاکستان کی اشرافیہ کی سیاسی ناانصافیوں کو اجاگر کیا ہے، اور میں نے کبھی بھی کسی عورت کے ساتھ زیادتی جیسے ظالمانہ فعل کی حمایت نہیں کی۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا مشرقی پاکستان میں نہتے شہریوں کے قتلِ عام اور ناراض بنگالی مسلمانوں کی جانب سے اپنے غیر بنگالی مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے خلاف کیے گئے نسلی تشدد یا قتل و غارت کو کسی صورت میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا بہاری خواتین کے ساتھ جنگی جنون میں جنسی زیادتی جیسے انسانیت سوز عمل کی کوئی اخلاقی یا انسانی توجیہ ممکن ہے؟)

بچوں کے لئے الگ اور بڑوں کے لئے الگ الگ پھانسی گھاٹ! پاکستانی مفکروں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے ان حوالوں پر کتنی تحقیق کی ہے؟ کتنی بار آسان الفاظ میں تعصب کے بغیر عداوت کا اظہر کیے بغیر سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر "لبرشن وار" پر بات کی گئی ہے؟ بس ہر سال دسمبر میں فیض کی نظم "ہم کہ ٹھہرے اجنبی" یا نصیر ترابی کی "وہ ہم سفر تھا" گا بجا کر کئی بھلے مانس اپنا "فرض" پورا کر لیتے ہیں۔ حسینہ واجد کی گذشستہ برس "اچانک" رخصتی پر پاکستان میں ڈھول اور شادیانے تو بجا لیے گئے لیکن ان لوگوں کا ذکر نہ ہوا جو پاکستان کی محبّت میں بے شناخت رہے اور ان کی پانچویں نسل بھی سسک سسک کر ڈھاکہ کے "جنیوا کیمپ" اور بنگلہ دیش کے دیگر 12 یا 13 شہروں میں "جی" رہی ہے۔ پککستان کا کوئی سیاسی یا سماجی لیڈر ان کی بات نہیں کرتا اور کوئی صوبہ ان کی منتقلی کے لئے تیار نہیں۔

پاکستان سے محبّت کرنے والی برادری پر ہونے والے ظلم پر کسی کی نگاہ نہیں ہے۔

سابقہ مشرقی پاکستان میں نام نہاد آزادی کے جنگجو درحقیقت تربیت یافتہ دہشت گرد تھے، پاکستان کی سالمیت کے دشمن، انسانیت کے نام پر بدنما دھبہ تھے — اور ہیں۔

وہ "مکتی باہنی" جس نے پاکستان سے محبت کرنے والوں کی نسل کشی کی، انہیں چُن چُن کر مارا، انہیں گھر سے بےگھر کیا، اور نہتے لوگوں کو اذیت ناک طریقوں سے سزائیں دیں — وہ ہمارے کئی معتبر صحافیوں اور دانشوروں (جن میں کئی معروف خواتین بھی شامل ہیں) کی نظر میں ہیرو ہیں۔

بہت سے لوگ آج حیران ہیں کہ اسرائیل کے ظلم پر عرب ممالک خاموش کیوں ہیں؟

کاش ان لوگوں کو — جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں — یہ باور کرایا جا سکتا کہ اکثر قریب کی نظر کمزور ہو جاتی ہے۔

اکہتر کے المیے پر بہاری اور دیگر غیر بنگالی محبِ وطن پاکستان کی تباہی اور بربادی پر پاکستانی سول سوسائٹی کی مسلسل خوفناک اور شرمناک خاموشی اس کی ایک عبرت ناک مثال ہے۔

میں نے گذشتہ 12 برسوں میں کئی اشکال اور حوالوں سے پاکستان کی اس تلخ اور نظر انداز کی گئی تاریخ پر بات کی ہے، اور مکالمے بھی کروائے ہیں — لیکن بےسود۔ آواز بازگشت بن کر ان تمام طاقتور فورمز سے واپس آئی ہے، جہاں اس پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے تھا۔

میں نے اپنی "ناکامی" کا سبب بھی جاننے کی کوشش کی — اس میں بھی ناکامی رہی۔

کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کس پیرائے میں، کس پیرہن میں بات کروں کہ وہ سنی جائے اور سمجھی جائے۔

اگر آج بھی آپ ان پر ہمدردی کی نظر نہیں ڈالیں گے اور ان کو غیر پاکستانی گردانیں گے تو جو بلوچستان میں جہاں پاکستان سے "آزادی" حاصل کی جانی کی کوشش کی جا رہی ہے، وہاں کون پاکستان کے لئے کھڑا ہونے کی ہمّت کرے گا؟

پھر مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان اور یہاں سے اب امریکا میں مقیم صحافی محترم ارشاد نظامی صاحب جیسی شخصیت سے ڈھارس ملتی ہے، جو پچاس برس سے اسی کاز سے جڑے ہوئے ہیں، اور صحراؤں میں اذان دے رہے ہیں۔ کوئٹہ میں پیدا ہونے والی دستاویزی فلم میکر، افسانہ نگار اور ڈراما نویس محترمہ فرحین چودھری ہیں جنہوں نے اسلام آباد، پاکستان میں رہنے کے باوجود نے بہت سچائی کے ساتھ اپنے کچھ اردو کالمز میں سقوط ڈھاکہ کا ذکر کیا ہے۔ ہماری پاکستانی بہاری کمیونٹی سے بھی چند باہمت اور ذہین خواتین ہیں جنہوں نے مارکیٹنگ سے نابلد ہونے کے باوجود، انسانی زاویے سے اس سانحے کو کرب میں ڈوبی ہوئی کہانی، افسانے، ناول کی صورت بیان کیا۔ ان میں محترمہ فرحت پروین ملک، پروفیسر شہناز ملک، محترمہ شاہین کمال، اور مرحومہ محترمہ عمارا نمایاں ہیں۔

حال ہی میں، پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والی برطانوی ڈاکیومنٹری فلم میکر محترمہ عائشہ غازی کی "Slaughter 1971" بھی منظرِ عام پر آئی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستانی صحافت اور تھنک ٹینکس ان کتابوں، وی لاگز، اور ڈیجیٹل کہانیوں پر بھی توجہ دیتے۔

شان و شوکت والے تعلیمی ادارے اس موضوع پر بات کرتے، اور کرواتے — مگر ایسا نہ ہو سکا۔

شاید میں اپنی موت تک اپنے لاپتا تین لاکھ پاکستانیوں کو تلاش کرتی رہوں گی۔

مزیدخبریں