ڈیل مل ہی نہیں رہی

عمران خان اب تک 4 مرتبہ اسٹیبلشمنٹ سے مختلف لوگوں کے ذریعے درخواست کر چکے ہیں جس میں 2 مرتبہ بیرون ملک کی درخواست اور 2 مرتبہ ہاؤس اریسٹ کی درخواسٹ کی گئی ہے،بیرون ملک کی درخواست اعظم سواتی اور اسد قیصر کے ذریعے جبکہ ہاؤس اریسٹ کی درخواست علی امین گنڈا پور کے ذریعے کی گئی جسے ہر بار رد کیا گیا،ان درخواستوں کے بارے میں جب حکومت کو بتایا گیا تو حکومتی ارکان اس پر راضی تھے کہ اگر بیرون ملک جانا ہے تو گلف کی کسی ریاست دبئی، سعودیہ جائیں جبکہ عمران خان ویسٹ جانے کی درخواست کرتے رہے جبکہ ہاؤس اریسٹ سے متعلق کہا گیا کہ اگر آفیشل لکھ کر اس کی درخواست کی جائے تو حکومت اسے قبول کرے گی مگر پس پردہ کوئی وعدہ نہیں کیا جائے گا

03:56 PM, 17 Feb, 2025

عظیم بٹ

یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں آج تک تمام سیاسی لیڈران کو کہیں نہ کہیں کمپرومائز کرنا پڑا چاہے وہ جان بچانے کیلئے ہو یا اپنی سیاست بچانے کیلئے ہو اور بعض اوقات بلیک میل ہو کرہو۔ پاکستان کی حقیقی بات یہ ہے کہ ماضی کی تاریخ کے مطابق پاکستان کا سب سے مضبوط ادارہ اسٹیبلشمنٹ، پاک فوج ہیں۔ کوئی سیاستدان ، پارلیمان یا کوئی اور گروہ آج تک ان کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہو سکا جب تک وہ خود نا چاہیں۔ یقینا ًیہاں یہ بات کرنا ضروری ہے کہ یہ معاملہ آئین پاکستان کے تو مخالف ہے کیونکہ آئین کے نزدیک سب سے سپریم پارلیمان ہے مگر عملی طور پر پاکستان میں یہ سکندر مرزا کے دور سے ہی شروع ہو گیا تھا جہاں پارلیمان کو ایک ربڑ سٹیمپ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ۔

ماضی کی بات کریں گے تو بے شمار واقعات ہیں کبھی 58 ٹو بی کا قانون تھا کبھی جوڈیشل ایکٹویزم تھی کبھی براہ راست آمریت اور عدلیہ سے اس کوغیر قانونی کندھا فراہم کرنا تھا۔مگر ہر بار سیاسی رہنماؤں کو ڈیلز ملتی رہیں وہ لیتے رہے جنہوں نے نہیں لی وہ پھانسی کے پھندے پر جھول گئے۔ اس تمہید کا مقصد یہ  تھا کہ آج بہت سے لوگ عمران خان سے متعلق پاپولر لائن کو لیتے ہوئے یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ نیازی صاحب دیگر سیاستدانوں سے مختلف اور زیادہ انقلابی ہیں وہ ڈیل نہیں لے رہے کچھ تو چاپلوسی میں اس حد تک ہیں جو کہہ رہے عمران خان اسٹیبلشمنٹ کو این آر او نہیں دے رہا۔

 افسوس اس میں یہ ہے کہ اس سب مبالغہ آرائی میں کچھ بڑے صحافیوں کے نام بھی شامل ہیں جن کا کام صرف ہر دور میں پاپولر لائن لینا ہے اور وقت گزر جانے کے بعد سیمنار میں کھڑے ہو کرماضی کی باتیں کرنا اور بتانا ہوتا ہے کہ تب یہ ہوا اور مجھے پتا تھا مگر میں بولا نہیں، اس میں سر فہرست حامد میر ہیں جنہوں نے موقع پر کبھی سچ نہیں بولا جب وقت گزر جاتا ہے تو کئی سال بعد موصوف فرماتے ہیں فلاں وقت فلاں نے فلاں کو یہ کہا تھا۔ اب خبر یوں ہے کہ ماضی کی طرح موجودہ ماحول نہیں چل پا رہا تھا جس کے بعد مقتدر حلقوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کی جانب سے ماضی کی روٹین کو دہرایا نہیں جائے گا۔ 

ایک بہت ہی مصدقہ اور متعلقہ ذرائع نے بتایا کہ اس بار فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ ڈیل دی ہی نہیں جائے گی لہذا قبول کرنے نہ کرنے کا سوال ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ خان اس لئے اندر ہے کیونکہ وہ ڈیل نہیں لے رہا تو اس کو جواب یہ ہے کہ ڈیل نا کرنے اور ڈیل نا ملنے میں فرق ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی اس بار واضح ہے کہ موجودہ سیٹ اپ جو بھی ہو گا اس کو سپورٹ کیا جائے گا اور کسی کو کوئی رعائیت آؤٹ آف باکس نہیں دی جائے گی۔ جو قانونی اور سیاسی ڈیل ہو گی اس سے وہ خود کو دور رکھیں گے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عمران خان کو اگر کوئی ڈیل پیش کی جائے یا طریقہ کار بنایا جائے گا تو وہ ایگزیکٹیو کی جانب سےسیاسی حل ہو گا۔ 

عمران خان اب تک 4 مرتبہ اسٹیبلشمنٹ سے مختلف لوگوں کے ذریعے درخواست کر چکے ہیں جس میں 2 مرتبہ بیرون ملک کی درخواست اور 2 مرتبہ ہاؤس اریسٹ کی درخواسٹ کی گئی ہے۔بیرون ملک کی درخواست اعظم سواتی اور اسد قیصر کے ذریعے جبکہ ہاؤس اریسٹ کی درخواست علی امین گنڈا پور کے ذریعے کی گئی جسے ہر بار رد کیا گیا۔ان درخواستوں کے بارے میں جب حکومت کو بتایا گیا تو حکومتی ارکان اس پر راضی تھے کہ اگر بیرون ملک جانا ہے تو گلف کی کسی ریاست دبئی، سعودیہ جائیں جبکہ عمران خان ویسٹ جانے کی درخواست کرتے رہے جبکہ ہاؤس اریسٹ سے متعلق کہا گیا کہ اگر آفیشل لکھ کر اس کی درخواست کی جائے تو حکومت اسے قبول کرے گی مگر پس پردہ کوئی وعدہ نہیں کیا جائے گا۔ لہذا اب تک کی صورتحال یوں ہے کہ عمران خان کے پاس اسی سسٹم میں رہتے ہوئے اپنے لئے ریلیف تلاش کرنے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔

مزیدخبریں