ملکی سالمیت کی پالیسی ایوانوں میں نہیں، بند کمروں بنائی جا رہی ہیں: مولانا فضل الرحمٰن

ملکی سالمیت کی پالیسی حکومتی حلقوں میں نہیں بنائی جارہی بلکہ بند کمروں کے اندر ، ماورائے حکومت، ماورائے سیاست، ماورائے پارلیمان پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں،مسئلہ صرف اس ایوان میں نہیں ہے، پورا ملک اس وقت پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہے، عام آدمی کے پاس نہ تو روزگار ہے اور نہ ہی جان و مال کا تحفظ، یہاں پر محکموں کے محکمے ملیا میٹ کیے جا رہے ہیں، اداے ملیا میٹ کیے جا رہے ہیں،مولانا فضل الرحمن

08:03 PM, 17 Feb, 2025

نیوز ڈیسک

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملکی سالمیت کے حوالے سے پالیسی ایوانوں میں نہیں بنائی جا رہی، حکومتی حلقوں میں نہیں بنائی جارہی بلکہ بند کمروں کے اندر ، ماورائے حکومت، ماورائے سیاست، ماورائے پارلیمان پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔

قومی اسمبلی میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ صرف اس ایوان میں نہیں ہے، پورا ملک اس وقت پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہے، عام آدمی کے پاس نہ تو روزگار ہے اور نہ ہی جان و مال کا تحفظ، یہاں پر محکمے ملیا میٹ کیے جا رہے ہیں، اداے ملیا میٹ کیے جا رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ لاکھوں افراد بے روزگار ہوتے جا رہے ہیں، اس کی فکر کس کو کرنا ہے، ظاہر ہے کہ پارلیمنٹ کو اس کے بارے میں سوچنا ہے، اگر حکومت کوئی غلط فیصلہ کرتی ہے، عوام کے مفاد کے خلاف فیصلہ کرتی ہے، ملکی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، تو ایک پارلیمانی فورم ہے کہ جہاں اس پر بحث کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں بحث کی جاتی ہے کہ حکومت کا یہ اقدام درست ہے، یا غلط، اور اگر اپوزیشن صحیح تجویز دیتی ہے تو حکومت اسے فراغ دلی سے تسلیم کرتی ہے، ایک سال سے دیکھ رہا ہوں کہ حکومت کی جانب سے ضد اور ہٹ دھرمی کی جارہی ہے۔

 سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے کہا کہ مسئلہ ملکی سالمیت کا ہے، ملک کی سالمیت کے حوالے سے میرے مشاہدات یہ ہیں کہ ملکی سالمیت کے حوالے سے پالیسی ایوانوں میں نہیں بنائی جا رہی، حکومتی حلقوں میں نہیں بنائی جارہی بلکہ بند کمروں کے اندر ، ماورائے حکومت، ماورائے سیاست، ماورائے پارلیمان پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی اس کی اجازت نہیں ہے کہ ہم ریاست کی بقا اور اس کی سالمیت کے حوالے سے کوئی بات کرسکیں یا کوئی تجویز دے سکیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی ہے، ہم مسلح گروہوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، جناب اسپیکر، ایوان بیٹھا ہوا ہے، ہم سب پاکستانی ہیں، ہمارا امن ایک ہے، ہماری معیشت ایک ہے، ہماری عزت و آبرو ایک ہے، ہمارے مشتراکات اور قدرے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس وقت 2 صوبوں میں حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے، آج وزیراعظم شہباز شریف اس ایوان میں موجود ہوتے تو ان کی خدمت میں عرض کرتا کہ قبائلی علاقوں میں کیا ہو رہا ہے، اس کے ساتھ متصل اضلاع میں کیا ہو رہا ہے، بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ تو شاید وہ یہی کہتے کہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر میرا حکمران جس حیثیت میں بھی ہے، ملکی معاملات کے بارے میں اتنا بے خبر ہے، اور مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں ہم نے مل کر کام کیا ہے، افغانستان ہمارے جرگے جاتے تھے، اور جب میں نے ان سے پوچھا تو ان کو کوئی علم نہیں تھا۔

”ملک میں کوئی سویلین اتھارٹی موجود نہیں“
ان کا کہنا تھا کہ کون فیصلے کرتا ہے، کہاں فیصلے کیے جاتے ہیں، ذمہ دار تو کل پاکستان ہوگا، ذمہ دار تو حکومت بھی ہوگی اور اپوزیشن بھی، ذمہ دار تو پارلیمان ہوگا، عوام کی نظر میں تو ہم ذمہ دار ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اس ملک اس وقت کوئی سویلین اتھارٹی موجود نہیں ہے، کوئی نظریاتی سیاست موجود نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ مکمل طور پر پاکستان میں خاص اسٹیبلشمنٹ، بند کمروں اور اپنے محلات میں جو چاہے فیصلہ کرتے ہیں اور حکومت کو ان کے فیصلوں پر انگوٹھا لگانا پڑتا ہے، ہمیں یہاں سے نکلنا ہو گا یا نہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہم ملک کے لیے کب سوچیں گے؟ اس ملک کی بقا کی بھی سوال ہے؟ آج اگر کوئی بقا کا سوال پیدا کرتا ہے، اس پر چیخ و پکار کرتا ہے تو برا منایا جاتا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ صوبوں کی اسمبلیاں بھی عوام کی نمائندہ اسمبلیا ں نہیں ہیں، اور جب عوام باہر نکلتے ہیں تو کوئی منتخب نمائندہ بشمول وزیراعلیٰ عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

”بتایا جائے آئی ایم ایف کا عدلیہ سے کیا تعلق ہے“
انہوں نے کہا کہ عالمی قوتوں نے ترقی پذیری اور غریب ممالک کو غلام بنانے کا نیا طریقہ نکال لیا ہے، غریب ممالک کو سیاسی اور دفاعی لحاظ سے غلام بنایا جا رہا ہے۔

امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ ہمارے فیصلے اقوام متحدہ کی کمیٹیوں میں ہوتے ہیں، ہماری معیشت عالمی اداروں کے حوالے کر دی گئی ہے، جیسے آئی ایم ایف کنٹرول کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں قرضوں میں جکڑ کر اب آئی ایم ایف سیاستدانوں کے بجائے عدلیہ سے ملاقات کر رہا ہے، بتایا جائے آئی ایم ایف کا عدلیہ سے کیا تعلق ہے۔

مزیدخبریں