نیا دور نیوز ڈیسک:۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے وکلاء نے نہ کیس کا دفاع کیا اور نہ استغاثہ کے گواہوں پر جرح کی۔190ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے کے بعد نیوز کانفرنس میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ امید ہے فیصلے کیخلاف بانی پی ٹی آئی کی اپیل نمبر پر لگے گی۔
وزیر قانون نے کہا کہ اب کیس کا فیصلہ آگیا ہے بانی پی ٹی آئی کو سزا کیخلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے، سپریم کورٹ کے حکم پر برطانیہ سے آنے والی رقم حکومت کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو چکی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 14سال قید کے فیصلے میں ضمانت نہیں ہوتی، میڈیا پر صفائی دینے کے بجائے عدالت میں گواہان پیش کرنا چاہیے تھے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں کبھی نہیں ہوا کہ ریاست کی رقم کسی کے ذاتی اکاؤنٹ میں ڈال دی جائے، پہلے فرح گوگی پتا نہیں کتنا پیسا لے کر باہر نکل گئی۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ گھناؤنے جرم اور کرپشن کو مذہب کارڈ کے پیچھے چھپایا جا رہا ہے جو بھی کارڈ کھیلیں، ڈاکا ثابت ہوچکا، بانی پی ٹی آئی عدالت میں ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا اس کیس کے فیصلے پر کیا رد عمل آتا ہے کیا وہ اعلیٰ عدالت میں اپیل کرتے ہیں ؟ کیا اعلیٰ عدالتوں میں انہیں ان کی مرضی کا انصاف مل سکے گا؟ القادر ٹرسٹ کیس بانی پی ٹی آئی پر سب سے مضبوط کیس تھا جسکا فیصلہ آج آیا اور عمران خان کو 14 سال قید با مشقت کی سزا ہوئی۔ ادھر عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ عمران خان ے کہاہے کہ قانون اور انصاف کی حکمرانی ہونی چاہئے، جتنا عرصہ جیل میں رہنا پڑا رہوں گا ۔فیصل چوہدری نے مزید کہا کہ ہم یہ میچ جیتیں گے، یہ ملک میں عدل و انصاف کا میچ ہے جو عمران خان جیتیں گے۔