ہائیڈیگر ایک مداری تھا: پروفیسر ماریو بُنگے

ایسے مداری مدرسوں میں اتنے نہیں جتنے یونیورسٹیوں میں ہیں۔ جدید دور میں یہ فنکاری بڑھ گئی ہے۔ کسی مداری کے بنائے ہوئے لفاظی کے بھنور میں غرق ہونے سے بچنے کا واحد طریقہ اپنی عقل کو استعمال کرنا اور خود کو پڑھنے لکھنے کی عادت ڈالنا ہے۔ سائنس کی تعلیم بدیہیات کو ٹھیک سے سمجھنے میں مددگار ہو سکتی ہے، لیکن تاریخ، سیاست اور نفسیات کے معاصر ماہرین کی کتب کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔

11:05 PM, 17 Jul, 2025

حمزہ ابراہیم

پروفیسر ماریو بُنگے کے 1995 میں شائع ہونے والے ایک مقالے کا عنوان ہے: ”یونیورسٹیوں میں علمی فریب کاری کے لئے عدم برداشت کی تحسین“۔[1] یہ مقالہ انگریزی زبان میں لکھا گیا تھا۔ فریب کار (charlatan) فرانسیسی زبان سے مستعار لیا گیا لفظ ہے۔ یہ سترہویں صدی کے پیرس میں تماشا دکھا کر جعلی دوائیں بیچنے والوں کے لئے استعمال ہوا۔ آپ اسے مداری سمجھ لیجیے۔ ہمارے ہاں اب بھی لاری اڈوں اور بسوں میں الفاظ کا جادو جگا کر سانڈے کا تیل اور مختلف پھکیاں بیچنے والے مداری پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح بظاہر پڑھے لکھے مداری بھی ہوتے ہیں، جن کا کام عالم ہونے کی اداکاری کرنا ہوتا ہے۔ وہ الفاظ کا کرتب دکھا کر سامعین کی عقلوں کو اپنی لچھے دار گفتگو کی مدد سے غفلت کا شکار کرتے ہیں اور دھوکے سے چندوں، تنخواہوں، تقریروں، یوٹیوب پر ویوز اور کتب فروشی کی شکل میں کمائی کرتے ہیں۔

ایسے مداری مدرسوں میں اتنے نہیں جتنے یونیورسٹیوں میں ہیں۔ جدید دور میں یہ فنکاری بڑھ گئی ہے۔ کسی مداری کے بنائے ہوئے لفاظی کے بھنور میں غرق ہونے سے بچنے کا واحد طریقہ اپنی عقل کو استعمال کرنا اور خود کو پڑھنے لکھنے کی عادت ڈالنا ہے۔ سائنس کی تعلیم بدیہیات کو ٹھیک سے سمجھنے میں مددگار ہو سکتی ہے، لیکن تاریخ، سیاست اور نفسیات کے معاصر ماہرین کی کتب کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔

پروفیسر ماریو بنگے کا پورا مقالہ پڑھنے لائق ہے۔ یہاں اس مقالے کے ابتدائی حصے کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔

تعارف

1960 کی دہائی کے وسط تک جو کوئی بھی تصوف، ذہنی آوارہ گردی، فکری فریب یا عقل دشمنی میں مشغول ہونا چاہتا تھا اسے دانشوری (academia) کے مقدس باغات سے باہر رہنا پڑتا تھا۔ تقریباً دو صدیوں تک یونیورسٹی اعلیٰ تعلیم کا ادارہ رہی تھی، جہاں لوگ عقل کو پروان چڑھاتے تھے، عقلی مباحث میں مشغول رہتے تھے، سچائی کی تلاش کرتے تھے، اس پر عملدرآمد کرتے تھے یا اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق اس کی تعلیم دیتے تھے۔ کبھی کبھار ان اقدار میں سے کسی ایک کا کوئی منکر بھی ادھر نکل آتا، لیکن اسے جلد ہی بے دخل کر دیا جاتا۔ یہاں وہاں ایک پروفیسر نے، جو ایک وقتی ملازمت میں تھا، کچھ نیا سیکھنے سے انکار کر دیا تو وہ علمی کاروان میں پیچھے رہ گیا۔ لیکن وہ بھی ایک دو دہائیوں سے زیادہ پیچھے نہیں رہتا تھا اور وہ اب بھی عقلی مباحث میں مشغول ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقی علم کو جہلِ مرکب سے الگ کرنے کے قابل ہوا کرتا تھا اور عقل پر جبلت کی برتری کا اعلان نہیں کرتا تھا، بشرطیکہ وہ ایک معقولیت پسندی کا مخالف فلسفی نہ ہو۔

اب ایسا نہیں رہا۔ پچھلی کچھ تین دہائیوں کے دوران بہت ساری یونیورسٹیوں میں گھس بیٹھئے آ گئے ہیں جو علم، محنت اور تجرباتی ثبوت کے دشمن ہیں، اگرچہ انہوں نے اپنا قبضہ مکمل نہیں کیا ہے۔ یہ لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ معروضی سچائی سرے سے ہے ہی نہیں، ان کے ہاں ”سب چلتا ہے“، یہ سیاسی آراء کو علم بنا کر پیش کرتے ہیں اور جعلی دانشوری میں مصروف ہیں۔ یہ روایت سے ہٹنے والے سنجیدہ مفکرین نہیں ہیں۔ یہ تحقیق کی زحمت اور تجرباتی شواہد سے جان چھڑانا چاہتے ہیں یا مزید آگے بڑھ کر ان چیزوں کو برا کہتے ہیں۔ یہ گیلیلیو جیسے نہیں جو نئی سچائیوں اور طریقوں کو ایجاد کرنے کی وجہ سے طاقت کے مراکز کے زیر عتاب ہوں۔ اس کے برعکس آج کل بہت سے جعلی دانشوروں اور دھوکے بازوں کو ملازمت مل گئی ہے۔ ان کو فکری آزادی کے نام پر کچرا پڑھانے کی اجازت ہے۔ اس پہ طرہ یہ کہ ان کی گھٹیا تحریریں علمی جرائد اور یونیورسٹی پریس سے شائع ہو جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے حقیقی دانشوری کو دبانے کے لئے کافی طاقت بھی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے دانشوری کے قلعے کے اندر ایک ٹروجن گھوڑے کو داخل کیا ہے تاکہ تعلیم کی بلند ثقافت کو اندر سے تباہ کر دیں۔

یونیورسٹیوں کے اندر موجود اعلیٰ تعلیم کے دشمنوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: سائنس دشمن، جو اکثر خود کو "پوسٹ ماڈرنسٹ" کہتے ہیں، اور جعلی سائنسدان۔ پہلا گروہ یہ سکھاتا ہے کہ کوئی معروضی اور آفاقی سچائیاں نہیں ہیں، جب کہ جعلی سائنسدان مبہم تصورات، بے بنیاد قیاس آرائیوں یا آئیڈیالوجی کو سمگل کر کے سائنسی نتائج کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دونوں گروہ تعلیمی آزادی کے تحفظ کی چھتری کے نیچے کارروائیاں کرتے ہیں، اور اکثر ٹیکس دہندگان کا پیسہ ضائع کرتے ہیں۔ کیا انہیں ان مراعات کا استعمال کرتے رہنا چاہیے؟ کیا انہیں عوام کے پیسے کو بے شمار طلبہ کو گمراہ کرنے اور سچائی کی تلاش کو بدنام کرنے میں استعمال کرنا چاہیے؟ یا انہیں اعلیٰ تعلیم کے مراکز سے نکال دیا جانا چاہیے؟ یہ وہ اہم مسئلہ ہے جس کو موجودہ مقالے میں حل کرنا ہے۔ لیکن پہلے ہم خود کو انسان شناسی کے علوم اور سماجیات تک محدود رکھتے ہوئے سائنس دشمنوں اور جعلی دانشوروں کی تحریروں کا تجزیہ کرتے ہیں۔

علم دشمن دانشوری

علم دشمن دانشوری ثقافت مخالف تحریک (counterculture) کا حصہ ہے۔ یہ لوگ آج کل، خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں، یونیورسٹیوں میں آرٹس کے تقریباً تمام شعبوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ آئیے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے دروازوں کے پیچھے سائنس دشمن ارتجاع کے ایک چھوٹے سے نمونے پر ایک نظر ڈالتے ہیں: موجودیت کا فلسفہ (existentialism)، فنامنالوجی، فینومینولوجیکل سوشیالوجی، ایتھنو میتھوڈولوجی، اور ریڈیکل فیمنسٹ تھیوری۔

پہلی مثال: موجودیت کا فلسفہ

موجودیت کا فلسفہ بکواس، جھوٹ اور کھوکھلے پن کا ایک ہجوم ہے۔ قارئین ہائیڈیگر کی مشہور کتاب ”وجود اور وقت“ کے مندرجہ ذیل نمونے پڑھ کر خود فیصلہ کریں۔ اسے اس نے اپنے استاد اور فنامنالوجی کے بانی ایڈمنڈ ہسرل کے نام منتسب کیا ہے۔ انسان کی موجودیت یا وجود (Dasein) کے بارے میں کہتا ہے:

”وجود کا ہونا یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں ہونا دنیا میں پہلے سے موجود وجود کی طرف پلٹنا ہے۔“[2]

وقت کے بارے میں کہتا ہے:

”وقت اصل میں زمانے میں موقت موجودیت کا ظہور ہے۔ یہ ہونے کے دکھ میں نظم و ضبط فراہم کرنے کا نام ہے۔“[3]

کیا کوئی شخص ان باتوں سے کوئی معنی نکال سکتا ہے؟ حتیٰ کہ ان (جرمن زبان کے جملوں) کو معیاری جرمن میں بھی منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ ہائیڈیگر کے دیگر مشہور اقوال، جیسے ”دنیا دنیائی جا رہی ہے“، ”نیستی معدوم ہو رہی ہے“، ”بولی بول رہی ہے“، اور ”اقدار قابلِ قدر ہیں“، پہلے پیش کئے گئے جملوں کی نسبت مختصر لیکن انہی کی طرح بے معنی ہیں۔ 

وہ بکواس لکھنے اور جرمن زبان کو اذیت دینے سے مطمئن نہیں ہوا، ہائیڈیگر نے ”خالص سائنس“ پر یہ کہہ کر طعنہ زنی کی کہ وہ مبینہ طور پر ”روح کو بیدار کرنے“ سے قاصر ہے۔ اس نے منطق پر بھی حملہ کیا اور اسے ”فلسفیوں کے بجائے سکولوں کے اساتذہ کی ایجاد“ قرار دیا۔ آخرکار ہائیڈیگر ایک نازی آئیڈیالوجسٹ اور انتہا پسند تھا، اور زندگی کے اختتام تک نادم نہیں ہوا۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ مجرمانہ اہداف کے حصول کے لیے اطاعت گزار جیالوں کی تربیت کرنے کا آغاز ہی عقل کی شفافیت ختم کرنے اور تنقیدی سوچ کو دبانے سے ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ موجودیت کا فلسفہ کوئی معمولی کچرا نہیں ہے، یہ ایسا کچرا ہے جسے قابلِ استعمال بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ تعلیمی نصاب میں اس کا مطالعہ صرف حماقت کی ایک مثال کے طور پر ہی درست ہے، جہاں طلبہ کو اس کی نامعقولیت، دانشوانہ فریب کاری، بے ربط لفاظی، اور رجعتی آئیڈیالوجی کے الجھاؤ سے خبردار کیا جائے۔

حوالہ جات:

[1] Mario Bunge, “In Praise of Intolerance to Charlatanism in Academia”, Annals of the New York Academy of Sciences 775 (1), 96-115, 1995. https://astrofrelat.fcaglp.unlp.edu.ar/filosofia_cientifica/media/papers/Bunge-In_praise_of_intolerance_to_charlatanism_in_academia.pdf
[2] Das Sein des Daseins besagt: Sich-vorweg-schon-sein-in-(der Welt-) als Sein-bei (innerweltlich

begegnendem Seienden). M. Heidegger, “Sein und Zeit”, p. 192.
[3] Zeit ist ursprünglich als Zeitigung der Zeitlichkeit, als welche sie die Konstitution der Sorgestruktur ermöglicht. M. Heidegger, “Sein und Zeit”, p. 331.

مزیدخبریں