شاہ رخ خان کی بلاک بسٹر فلم ”رئیس“ میں پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے کام کیا تھا۔ لیکن مجھے یہ فلم اس لئے پسند آئی کیونکہ اس کے ڈائیلاگ ”دھرم کا دھندا نہیں کرنا“ (مذہب کو اپنا کاروبار نہ بنائیں) تھا ۔15 مارچ کو ہمیں اپنے آپ سے یہی وعدہ کرنا چاہیے۔ یہ کاروبار وہ سازش ہے جو ہم اپنے خلاف خود کر رہے ہیں اور ہم اسے روک سکتے ہیں،”ہمارے خلاف کوئی سازش نہیں کر رہا ہے“۔
اسلام آباد کے ایف 11/1 سیکٹر کے انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے مزید کہا کہ”ہم خود سازشی ہیں“۔قومی رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی نے اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ کے عالمی دن کے موقع پر جمعہ کے روز اسلامو فوبیا کے خلاف قومی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ یہ بات احسن اقبال نے اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کی۔
پاکستان نے عوامیت پسند حکومت سے خود کو دور کرنے میں معنی خیز پیش رفت کی ہے۔ہمارے پاس حکومت میں احسن اقبال جیسی آوازیں موجود ہیں۔ لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے کیونکہ اسلاموفوبیا ایک عالمی رجحان ہے۔ جب احسن اقبال اسلام آباد میں ”کردار کی تعلیم کے ذریعے اسلامو فوبیا کا مقابلہ“ کے موضوع پر بات کر رہے تھے، اقوام متحدہ کے اتحاد برائے تہذیبوں (یو این اے او سی) کے اعلی ٰ نمائندے انڈر سیکرٹری جنرل میگل اینگل مورتنوس نیویارک کے جنرل اسمبلی ہال میں دنیا بھر کے ممالک سے خطاب کر رہے تھے۔
ان کی تقریر کا پہلا جملہ یہ تھا کہ ”میں اسلاموفوبیا سے نمٹنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلسل کوششوں اور عزم پر اسلامی تعاون تنظیم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔“یہ ریمارکس پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہیں جو اس پروپیگنڈے میں مصروف ہیں کہ دراصل عوامیت پسند سیاسی جماعت کے ایک رہنما نے اسلاموفوبیا کو حقیقت کے طور پر قبول کرنے کے لیے اقوام متحدہ کو مجبور کر دیا تھا۔بہت سے عالمی رہنما، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، اقوام متحدہ کے ہال میں اسلاموفوبیا پر تقاریر کرتے رہے ہیں۔ ان پاکستانی نوجوانوں کے رہنما ان بہت سے لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے 2019 میں ایسی تقاریر کی تھیں ۔ اس وقت یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر بڑھ رہی تھی۔وسیع تر کینوس پر ، محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے نفرت کی اس لہر کو روکنے کے لئے بڑے سفارتی اقدامات کا آغاز کیا۔ سعودی عرب اس بحث کو دہشت گردی کی وجوہات میں اسلامو فوبیا کی شمولیت کی سطح پر لے گیا تھا۔
ان مغربی رہنماؤں نے کبھی بھی اس بات کا پتہ لگانے کے لئے کوئی فعال نقطہ نظر نہیں اپنایا کہ ان کی سرزمین پر کس کو اترنا چاہئے۔ انہوں نے کبھی خود سے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کوئی تردید نہیں کی کہ ان کے ملک میں دہشت گرد نہ آئیں۔ انہوں نے صرف ویزا کے عمل کو پیچیدہ بنانے اور مال کمانے پہ توجہ رکھی۔ ان کے ویزا کا عمل اتنا پیچیدہ ہے کہ ایک عام آدمی اس سے گزر نہیں سکتا۔ غیر معمولی خواہشات والے لوگ اس عمل کو مکمل کر پاتے ہیں لہذا یہی غیر معمولی لوگ مغربی دارالحکومتوں اور یونیورسٹیوں میں پہنچتے ہیں۔
وہ آزادی اور جمہوریت کے اصولوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تشدد اور جنونیت میں ملوث ہوتے ہیں ۔ جو لوگ وہاں کوئی معقول کام کرنے میں ناکام رہتے ہیں انہیں منظم طریقے سے پاکستانی یونیورسٹیوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے، جہاں وہ نوجوان طالب علموں کو یہ باور کراتے ہیں کہ مغربی معاشرے مسلمانوں کے لیے بہت برے ہیں۔ یوں یہاں مغربی فوبیا کی ایک اور نسل تیار کی جاتی ہے۔ اسلاموفوبیا میں اضافے اور مغربی فوبیا میں اضافے کے درمیان براہ راست تناسب ہے۔
چونکہ دونوں خوف اور نفرت کی پیداوار ہیں ، لہذا یہ نتیجہ اخذ کرنا منطقی ہے کہ دونوں ایک ہی فیکٹری میں تیار کیے جاتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں پاپولسٹ پارٹیوں کو دوبارہ ابھرنے میں کافی وقت لگ سکتا تھا اگر ہمارے درمیان مغرب سے نفرت کرنے والی مسلم آبادیاں پروان نہ چڑھتیں۔ یہی حال مسلم ممالک کے پاپولسٹ رہنماؤں کا بھی ہے۔ اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا پر پاکستان کے پاپولسٹ رہنما کی تقریر سے پہلے، مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے واقعات پر بڑی تعداد میں خبریں اسلام آباد میں جمع کی گئیں۔ یہ سب نفرت پھیلانے کا مواد مغربی اخباروں سے لیا گیا تھا جو پاکستان میں کہیں موجود نہیں تھے۔ اس کے بعد اس نفرت انگیز مواد کو مختلف میڈیا مصنوعات میں ڈھالا گیا اور پورے ملک میں پھیلایا گیا۔ اس وقت امریکی سفارت خانے میں کوئی سفیر نہیں تھا۔ لیکن نفرت پھیلانے والی فیکٹری ڈبل شفٹوں میں کام کر رہی تھی، مغرب کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی تھی۔ اس وقت کے وزیر اعظم پنجاب کے ضلع وہاڑی جیسے دور دراز علاقوں میں عوامی تقاریر کر رہے تھے اور یورپی سفیروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔
اس وقت کے وزیر اعظم اچھی طرح جانتے تھے کہ وہاڑی کے عوامی اجتماع کے سامعین کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اسلام آباد میں کینیڈا، فرانس یا یورپی یونین کے سفیر کون ہیں۔ حکومتی وزراء، خاص طور پر انسانی حقوق کے وزیر، جن کا پس منظر امریکن سٹڈیز (American Studies) کا تھا اور دیگر، جن کے خاندان امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں آباد تھے، کسی نہ کسی وجہ سے ان جمہوریتوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے سوشل میڈیا پر متحرک تھے ۔ لیکن ساتھ ساتھ حکمراں جماعت کو زیادہ تر فنڈز بھی انہی مغربی جمہوریتوں سے مل رہے تھے۔ اسلاموفوبیا بنیادی طور پر مغربی معاشروں کے لئے ایک لعنت ہے۔ یہ ایک عالمی رجحان ہے، جس پر عالمی رد عمل کی ضرورت ہے۔
ہر دہشت اور نفرت کے بیوپاری اپنی مصنوعات پہ کسی اچھی چیز کا لیبل لگا کہ بیچتے ہے۔ یہ جعلسازی ہے، آئیں ہم اسلاموفوبیا کے جعلسازوں کے خلاف کھڑے ہوں اور اپنی حکومت پہ بھروسہ کریں۔ انشاللہ جیت ہماری ہو گی۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر بھی اسلام کے نام پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور وہ گولی اب بھی میرے جسم میں موجود ہے۔