بلوچستان کے آنسو !

اس ساری صورتحال سے کیا لگتا ہے کہ بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت صوبائی ایوان سے  مسائل حل کرنے کی طاقت رکھتی ہے؟ بالکل نہیں بلوچستان کو بچانے کا ایک آخری موقع ہے کہ زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جائے  وہ اپنا خودمختار الیکشن کمیشن بنائیں  شفاف الیکشن کے بعد عوامی اُمنگوں کے مطابق حکومت بنے اور تخت اسلام آباد کے ساتھ ایک نیا عمرانی معاہدہ کر کے ساتھ چلیں

04:15 PM, 17 Mar, 2025

حسنین جمیل

 کچھ احباب کا خیال ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ مل بیٹھ کر حل ہو سکتا ہے اے پی سی کروا کے مسائل حل ہو سکتے ہیں بلوچ طلبا کو لیپ ٹاپ دے کر رام کیا جا سکتا ہے ۔ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لایا جا سکتا ہے میں اس خام خیالی سے متفق نہیں ہوں اب پانی سر سے گزر چکا حالات بہت بدل چکے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بلوچوں کے دکھوں کا مدوا کرنا بھی چاہیں تو  وہ انکار کر دیں گے۔ لگتا ہے جسے انہوں نے اپنے دکھوں کو اپنی طاقت بنا لیا ہے وہ ییت متدرہ کے کسی دھوکے میں آنے کو تیار نہیں، اسلام آباد کی کسی بات پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں بلوچستان میں مزاحمت کی تاریخ بہت پرانی ہے 1839 میں  خان محراب نے انگریز نوآبادکار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا، قیام پاکستان کے بعد 1950 میں مولوی خیر محمد ندوی نے حکومت پاکستان کی  لسانی سامراجیت کے خلاف بلوچی ادبی تحریک شروع کی تھی ، بلوچ دانشور ذوالفقار زلفی کے مطابق سال 2004 میں سر اٹھانے والی بلوچ مسلح جدوجہد اپنے آغاز کے وقت معمولی نوعیت کی تھی ۔

اس کا دائرہ بھی ڈیرہ بگٹی، کوہستان مری اور جہلاوان کے چند علاقوں تک محدود تھا ـ تحریک کے اہم ترین محرک نواب خیر بخش مری تھے مگر نواب اکبر خان بگٹی کی متاثر کن شخصیت، میڈیا ڈیلنگ اور گیس پائپ لائنوں پر حملوں کی وجہ سے نواب بگٹی کو ہی مرکز سمجھا جاتا رہا ۔ نواب بگٹی غالباً مستقبل کو بھانپ گئے تھے اس لئے انہوں نے مکران پر سرمایہ کاری کی اور بار بار مکران کے بلوچوں سے تحریک کا حصہ بننے کی اپیل کی ـ مکران میں غلام محمد بلوچ نے سیاسی اور واحدقمبر بلوچ نے مسلح محاذ سنبھال لیا ۔ جہلاوان اور ساراوان میں نواب خیر بخش مری کے فکری ساتھیوں نے مسلح مزاحمت کو آگے بڑھانے کی کوششیں کیں ۔

اوائل میں نوآبادکار کی ساری توجہ نواب بگٹی پر مرکوز رہی ـ سیاسی سوجھ بوجھ سے محروم جرنیلوں نے ”بندہ ختم مسئلہ ختم“ کی تباہ کن پالیسی اختیار کرکے بگٹی کو قتل کردیا ـ نواب بگٹی کے قتل نے معمولی نوعیت کی مسلح مزاحمت کو دو آتشہ کردیا ۔ ایک ضعیف العمر معذور شخصیت کے بہیمانہ قتل اور ان سے وابستہ تالا بند تابوت کی توہین آمیز تدفین نے بلوچ سماج کو ہلا دیا ـ جب تک نوآبادکار کو سمجھ آتا تب تک عوامی غصہ، جذبات اور مجروح احساسات کا درد اپنی انتہا کو چھو چکا تھا ۔

نوآبادکار نے اپنے سدھائے ہوئے بلوچ بورژوازی سے مدد مانگی ـ قلات میں قومی جرگہ کے نام پر سستے مفادات کا مینا بازار سجایا گیا جس کو نواب خیر بخش مری نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ یہ دھوکے بازوں کا اجتماع ہے ۔ جرگے نے بہرحال قانونی و آئینی موشگافیوں کے ذریعے عوامی جذبات پر کنٹرول کرنے کی کامیاب کوشش کی جس کے صلے میں نواب رئیسانی، نواب زہری، نواب مگسی، جام یوسف سمیت ڈیرہ غازی خان کے سرداروں تک نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔ 

نوآبادکار مگر بڑھتی ہوئی عوامی حمایت اور مسلح جدوجہد کے بلند ہوتے گراف سے نالاں ہی رہا ـ مسلح جدوجہد کے بڑھتے گراف اور عوامی شمولیت نے سیاسی کارکن کا حوصلہ بڑھا دیا اور وہ اپنی جانب بڑھتے خطرے کا نہ صرف یہ کہ درست ادراک نہ کرپایا بلکہ اس نے نوآبادکار کی طاقت اور بے رحمی کا درست اندازہ بھی نہ لگایا ۔

بالآخر 2009 کو ”مارو پھینک دو“ پالیسی کا اجرا ہوا ـ اس پالیسی نے متوسط طبقے کے سب سے بڑے عوامی رہنما غلام محمد بلوچ کو نگل لیا ۔ مری اور بگٹی قبائل کے اتحاد کو توڑا گیا جس نے قبائلی ایکتا اور قوت کو ختم کردیا ۔سیاسی کارکنوں کا قتلِ عام ہوا ،اہم ترین مزاحمتی دانش وروں میں سے ایک صبا دشتیاری ہدف بنا کر قتل کئے گئے ـ دوسرے مزاحمتی دانش ور جان دشتی قاتلانہ حملے میں بمشکل زندہ بچ پائے ـقتل و غارت گری کے ساتھ ساتھ مافیا اور سدھائے ہوئے سرداروں کو بے انتہا طاقت فراہم کی گئی ـ جگہ جگہ ڈیتھ اسکواڈز کی شاخیں کھل گئیں ـ مزاحمتی تنظیموں میں بھی انتشار پھیلا ،ففتھ کالمسٹوں نے مسلح مزاحمت کا شیرازہ بکھیر دیا ۔

سال 2016 کو بتدریج قومی تحریک کی قیادت طلبا تنظیموں کے سابق سربراہوں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ ، ڈاکٹر نسیم بلوچ، خلیل بلوچ، بانک کریمہ بلوچ، بشیر زیب بلوچ اور دیگر کی جانب سرایت کرنے لگی ـمزاحمتی قبائلی سردار جنہوں نے اس تحریک کی بنیاد رکھی (نواب یوسف عزیز مگسی)  نے اسے آگے بڑھایا (پرنس عبدالکریم، بابو نوروز خان) نے  ایک نئی شکل دی ۔ شکر بی بی ایڈوکیٹ اور نائلہ قادری جیسی مزاحمتی خواتین جنہوں نے محدود سطح پر مردوں کے سائے میں عورتوں کو تحریک کا حصہ بنایا بانک کریمہ بلوچ کی صورت قائد بن کر سامنے آئیں ـ بانک کریمہ بلوچ عورتوں کی پہلی پرقوت نمائندہ بن کر اُبھریں۔

2009ء سے شروع ہونے والی ”مارو پھینک دو“ پالیسی سے متاثر ہونے والی جنگ زدہ بچیوں نے بانک کریمہ بلوچ کو اپنا رول ماڈل بنا لیا ـ جوان ہوتے ہوتے ان بچیوں نے بانک کریمہ کی جگہ لینے کی کوششیں شروع کرکے بلوچ سیاسی جدوجہد کے نسائی پہلو کو پُر کرنا شروع کردیا ۔ بانک کی شہادت سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے اور سیاسی جمود کو توڑنے کی ذمہ داری نئی نسل کی خواتین نے اپنے سر اٹھا لی ـ اس نئی تبدیلی نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی بلوچ اور ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کو جنم دیا جنہوں نے عوامی سیاسی مزاحمت کو غلام محمد بلوچ کے زمانے کی نسبت کئی گنا آگے بڑھا دیا ، اس ساری صورتحال سے کیا لگتا ہے کہ بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت صوبائی ایوان سے  مسائل حل کرنے کی طاقت رکھتی ہے؟ بالکل نہیں بلوچستان کو بچانے کا ایک آخری موقع ہے کہ زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جائے  وہ اپنا خودمختار الیکشن کمیشن بنائیں  شفاف الیکشن کے بعد عوامی اُمنگوں کے مطابق حکومت بنے اور تخت اسلام آباد کے ساتھ ایک نیا عمرانی معاہدہ کر کے ساتھ چلیں۔

مزیدخبریں