بلوچستان، قدرتی وسائل سے مالا مال اور جغرافیائی لحاظ سے ایک انتہائی اہم خطہ ہے ، جو ہمیشہ سے پاکستان کے دشمنوں کی سازشوں کا شکار رہا ہے۔ یہ خطہ نہ صرف پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اس کی ثقافتی اور قومی وحدت کا ایک لازمی جزو بھی ہے۔ مگر بدقسمتی سے، کچھ مخصوص علیحدگی پسند گروہ جن کی پشت پناہی بیرونی طاقتیں کر رہی ہیں اورچند دشمن بیرونی طاقتیں یہاں کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش میں مصروف رہے ہیں۔
قیام پاکستان کے وقت بلوچستان کے مستقبل کا سوال سامنے آیا تو اس کا واضح جواب یہی تھا کہ یہ خطہ تاریخی، جغرافیائی اور سماجی طور پر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ 27 مارچ 1948 کو بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو اکثریت نے قبول کیا، مگر کچھ سرداروں نے اس کی مخالفت کی کیونکہ انہیں اپنی روایتی اجارہ داری ختم ہونے کا خدشہ تھا۔ ان کی مخالفت کسی عوامی بغاوت کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ محض ذاتی مفادات کا کھیل تھا۔ پاکستانی ریاست نے ہمیشہ بلوچ عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی، لیکن بعض بیرونی قوتوں نے بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دینے کے لیے بے بنیاد بیانیہ پروان چڑھایا۔
بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) انہی سازشی عناصر کی پیداوار ہے۔ ابتدا میں اس تنظیم نے بلوچ عوام کے حقوق کے نام پر اپنی سرگرمیاں شروع کیں، مگر جلد ہی واضح ہو گیا کہ اس کا مقصد محض دہشت گردی پھیلانا اور پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔ 2000 ء کی دہائی میں جب پاکستان نے بلوچستان میں بڑے ترقیاتی منصوبے، خاص طور پر گوادر بندرگاہ اور سی پیک، کا آغاز کیا تو بی ایل اے نے ان منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے دہشت گردانہ حملے شروع کر دیے۔
بی ایل اے نے 2004 میں اپنی دہشت گردی کی مہم کا آغاز کیا اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں بم دھماکے کیے۔ ان حملوں کا مقصد بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانا اور عوام کو ترقی کے عمل سے دور رکھنا تھا۔ 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی موت کے بعد بی ایل اے نے اپنی کارروائیوں میں مزید شدت پیدا کر دی، مگر یہ سب بلوچ عوام کے لیے کسی بھلائی کا سبب نہ بن سکا۔ بلکہ اس کے برعکس، عام بلوچ شہری ان دہشت گردانہ کارروائیوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنے۔
بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ہمیشہ بیرونی سرپرستی رہی ہے۔ بھارت، افغانستان اور کچھ دیگر طاقتوں پر بارہا یہ الزامات لگتے رہے کہ وہ بلوچ علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ 2016 میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ دوسری جانب، چین کے ساتھ پاکستان کے ترقیاتی معاہدے، خاص طور پر سی پیک اور گوادر بندرگاہ، بھی دشمن طاقتوں کے نشانے پر رہے ہیں۔ بی ایل اے نے بارہا چینی شہریوں اور منصوبوں کو نشانہ بنایا تاکہ بلوچستان کو ترقی سے محروم رکھا جا سکے۔
2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ، 2019 میں گوادر کے پی سی ہوٹل پر حملہ اور 2022 میں کراچی یونیورسٹی میں چینی اساتذہ پر خودکش حملہ، ان تمام واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو محض تباہی پھیلانے کے لیے کام کر رہی ہے۔انہیں بلوچ عوام سے کوئی لینا دینا نہیں ، ان حملوں کا سب سے بڑا نقصان بلوچ عوام کو ہوا، کیونکہ ترقی کے دروازے بند کرنے کی کوشش میں، بی ایل اے نے درحقیقت بلوچ عوام کو تعلیم، روزگار اور امن سے دور رکھنے کا کام کیا۔
ریاست پاکستان نے ان دہشت گرد عناصر کو ختم کرنے کے لیے کئی مؤثر اقدامات کیے۔ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد کے تحت بلوچستان میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں، جن میں بی ایل اے کے کئی سرکردہ دہشت گردوں کو گرفتار یا ہلاک کیا گیا۔ 2019 میں امریکہ نے بی ایل اے کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا، اور 2022 میں برطانیہ نے بھی یہی فیصلہ کیا۔ اس کے باوجود، کچھ عناصر آج بھی اس تنظیم کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ریاستِ پاکستان ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔
بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ریاستی اقدامات میں تیزی لائی گئی ہے۔ گوادر میں انفراسٹرکچر کی بہتری، تعلیمی اداروں کا قیام، نوجوانوں کے لیے خصوصی اسکالرشپ پروگرام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو بی ایل اے جیسے گروہ قبول نہیں کر سکتے، کیونکہ ان کا وجود ہی بلوچستان کی پسماندگی پر منحصر ہے۔ جب بلوچستان ترقی کرے گا، جب نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار ملے گا، تو دہشت گرد تنظیموں کا بیانیہ خود ہی دم توڑ جائے گا۔بلوچ عوام نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری نبھائی ہے، اور وہ دشمن قوتوں کے پروپیگنڈے کو مسترد کر چکے ہیں۔ بلوچستان آج بھی پاکستان کا فخر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ کشمکش زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گی، کیونکہ سچ ہمیشہ جیتتا ہے، اور حقیقت یہی ہے کہ بلوچستان پاکستان کی جان ہے۔
حالیہ دنوں میں بلوچستان میں دہشت گردوں نے ایک اور بزدلانہ حملہ کیا، جس کا نشانہ جعفر ایکسپریس بنی۔ اس ٹرین پر حملہ ایک بار پھر اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ دشمن طاقتیں بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے درپے ہیں۔ دہشت گردوں نے بولان کے قریب ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، اور متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ حملہ دراصل بلوچستان کے عوام کے خلاف ایک سازش تھی، کیونکہ یہ ریلوے لائن صوبے کے عوام کی معیشت اور روزمرہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
حکومتِ پاکستان نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور واقعے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا۔ سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا۔ یہ واضح ہے کہ ایسے حملے پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے بلکہ یہ ہماری قوم کو مزید متحد کر دیتے ہیں۔
بلوچستان میں ترقی اور امن کے دشمن یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کی بزدلانہ کارروائیاں عوام کو پاکستان سے دور نہیں کر سکتیں۔ بلوچ عوام جانتے ہیں کہ ان کے مسائل کا حل ترقی، تعلیم اور قومی یکجہتی میں ہے، نہ کہ دہشت گردی اور علیحدگی پسندی میں۔ جعفر ایکسپریس پر حملہ ہو یا دیگر دہشت گرد کارروائیاں، یہ سب پاکستان کی ترقی اور استحکام کے خلاف ہیں، اور پوری قوم ان کے خلاف یکجا ہے۔ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، اور کوئی بھی سازش اسے اس کے اصل مقام سے محروم نہیں کر سکتی۔ ریاست پاکستان، اس کے عوام اور سکیورٹی ادارے دشمن کے ہر وار کو ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہیں، اور وہ دن دور نہیں جب بلوچستان میں مکمل امن و استحکام قائم ہوگا اور ترقی کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکے گا۔