Type to search

تجزیہ فيچرڈ کلچر معاشرہ

راجہ داہر سے رنجیت سنگھ تک: ‘تاریخ دان ہمیشہ کنفیوژن کا شکار رہے’

تحریر: (عبدالروف یوسفزئی ) وفاقی وزیر فواد چودھری نے سکھ حکمران رنجیت سنگھ کو پنجاب کا ہیرو قرار دے کر قصہ ہی ختم کر ڈالا، مجھ سمیت بہت سے لوگوں کے لئے یہ اقدام قابل ستائش ہے کیوںکہ تاریخ کو سیدھا کرنے کا کریڈٹ چند لوگوں کو جاتا ہے تاکہ قوم اپنے ہیروز کا دن منائیں مگراس کے ساتھ وزیر محترم نے ایک ڈیبیٹ بھی شروع کر دی ہے۔

اس سے پہلے جمرود قلعہ میں پشتون سکھ کمیونٹی کے مطالبے پر رنجیت سنگھ کے بہادر سپہ سالار ہری سنگھ نلوا کی پوٹریٹ بھی آویزاں ہو گئی ہے اس میں بھی دو آراء نہیں کہ رنجیت سنگھ ہی کی فوج نے کابل کے بادشاہ دوست محمد جن کی حکمرانی دریا آمو اور ہرات سے اٹک پل تک تھی جس کو سکھ فورسز نے ہی خیبر تک پسپا کیا تھا اگر چہ بعد میں جمرود قلعہ میں سکھ فوج کو شکست بھی ہوئی تھی۔

 تاریخی حقیقت یہی ہے کہ انگریزوں سے پہلے پشتون بلٹ پر سکھ حکمران قابض تھے، اس رنجیت سنگھ ہی نے پہلی اینگلو افغان جنگ میں طاقتور انگریز فوج کو پشتونخوا سے گزرنے کی اجازت نہیں دی تھی اگرچہ انگریز نے ان کو یقین دلایا تھا کہ دوست محمد کو سبق ہم سکھائیں گے مگر مستقل امن سے آپ رہیں گے۔

دوست محمد کا گناہ صرف یہی تھا کہ وہ انگریزوں کے ہاتھ آنے والا نہیں تھا اور کسی حد تک روس کی طرف مائل بھی تھے۔ یہ تو ہو گیا پنجاب، اب دوسرے بڑے صوبہ سندھ کے قوم پرست ذہنیت کے دوست راجہ داہر کو بھی ہیرو کا سٹیٹس دینے کا سوچ رہے ہیں اور راجہ کا دن منانے کی بھی کسی حد تک کوشش ہوتی رہتی ہے، مجھے نیشنل عوامی پارٹی کے مرحوم رہنما حاجی عدیل کی پشاور یونیورسٹی میں تقریر ابھی تک یاد جس میں انھوں نے دس سال پہلے کہا تھا کہ راجہ داہر تو وطن کا دفاع کر رہے تھے، وہ تواس مٹی کے ہیرو تھے، اگلے روز جماعت اسلامی نے حاجی عدیل کے خلاف مظاہرہ بھی کیا تھا

تاریخ کو درباری دانشور ایک حد تک مسخ اور توڑ مروڑ کر پیش تو کرسکتے ہیں مگر ہمیشہ کے لئے کوئی بھی حقائق کے سامنے بند نہیں باندھ سکتا۔ پاکستانی نصاب میں ہمیشہ اوپر بیان کردہ حکمرانوں کو ولن بنا ک پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس کی اصل وجہ ہماری اپنی تاریخ ہے، ہماری تاریخ لکھنے والے ہمیشہ کنفیوژن کا شکار رہے ہیں،مثلاَ ایک جگہ پر وہ پاکستانی نیشنلزم کا آغاز 712ء سے کرتے ہیں کہ جب محمد بن قاسم نے کراچی پر حملہ کیا تھا، بعد میں یہی لکھاری 1526ء کے ظہیرالدین بابر سے شروع کرتے ہیں اور کبھی 1857 کا ذکر بھی آتا ہے مگر حقیقت ان تمام حوالوں کے برعکس ہے۔

پاکستانیت تو 1947سے شروع ہوئی اور ابھی بلوغت کے دور سے گزر رہی ہے۔ میرتقی میر اور مرزا غالب کو بھی بعض نابغہ روزگار پاکستانی ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں اور دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے تو محمد بن قاسم کو پاکستان کی بنیاد رکھنے والی شخصیت گردانتے ہیں، اگرچہ یہ کبھی نہیں بتاتے کہ راجہ داہر کی لونڈی بیٹیوں کی شکایت کے بعد اس کے ساتھ مسلمان حکمران نے محمد بن قاسم کے ساتھ کیا حسن سلوک کیا تھا۔

داستان ہیروز کی تھی پنجاب اور سندھ کے ہیروز کی عزت سر آنکھوں پر۔ تو پھر پشتون اپنے ہیروز کو کس کیٹگری میں ڈالیں گے۔ شیرشاہ سوری، خلجی خاندان، احمد شاہ ابدالی سمیت اور کئی لوگ، جنگیں ان پشتون حکمرانوں نے ہمیشہ پنجاب اور آگے جاکر ہندوستان میں مرہٹوں ، اور پنجاب والوں کے خلاف لڑی ہیں۔

تو پھر اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہمارا اتحاد اس ملک میں دلیل کی بنیاد پر بالکل بھی نہیں ہوا ہے، 1893 میں ہنری ڈیورنڈ اور اس وقت کے بے بس افغان امیر نے پشتونوں کو تقسیم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دئیے تھے۔  سوچ اور پلاننگ کی بات ہوتی ہے ورنہ 1857 کی جنگ آزادی کے دوران ایسٹ انڈیا کمپنی آج کی پاکستانی پشتون بلٹ کو افغانستان واپس دینے پر بالکل ہی تیار تھی کیوںکہ اندرون خانہ کمپنی شدید ترین پریشر تھا اور 1947 کے دوران لارڈ ماؤئنٹ بیٹن نے چند ہفتے ورک کے بعد ہی نقشے پر لکیریں کھینچ کر دراڑ ڈال دیا کیوںکہ برطانیہ کی حکومت دوسری عالمی جنگ کے بعد دیوالیہ ہوچکی تھی اور وہ ہر حال میں ہندوستان سے واپس جانا چاہتے تھے۔

رنجیت سنگھ، راجہ داہر سمیت اگر پشتون ہیروز جن کے نام پر میزائل اور پاکستانی ٹینکس ہیں، تو پھر تو فرق بہت ہی واضح ہے جس طرح ہم تقسیم سے پہلے سیاسی بنیادوں پر الگ الگ قومیں تھیں اسی طرح آج بھی جدا فلسفے، تاریخ اور ثقافت کی مختلف قومیں ہیں۔ اگر ہم نے سچی تاریخ نہ کہ تاریک جو کہ 1947 سے شروع ہوتی ہے مان لی اور طلباء کو بھی پڑھانا شروع کیا تو شاید ہم تمام ایک ہی صفحے پرآ جائیں۔ اگر پشتون حملہ آور تھے تو پھر پنجاب کے ہیرو بھی یہی کرتے تھے۔ آؤ کہ عدم تشدد کے فلسفے کے لوگوں کو اپنا ہیرو مان لیں جنہوں نے جیلیں تو کاٹی مگر بندوق نہ خود اٹھائی اور نہ دوسروں کو جنگ کا درس دیا ہے۔

 پورا پاکستان انقلابی عمران خان اور فواد چودھری کی طرح تاریخ سے نابلد جذباتی قوم ہے  جن کی کتاب میں اصلاحات کا نام نہیں ہے، تاریخی حافظہ ختم ہو چکا ہے۔ پاکستانی نیشنلزم سے پہلے خودمختاری دینی ہو گی مضبوط فیڈریشن کے لئے یہ اصلاحات بہت ضروری ہیں۔

آپ ہمارے اور ہم آپ کے ہیروز کی قدر کرتے رہیں گے، ورنہ اصل میں تو ہم پشتون اور پنجابی تاریخی جھروکوں میں آپس میں سخت ترین دشمن تھے۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *