Type to search

خبریں فيچرڈ فیچر میڈیا

‘گھروں میں کام کرنے والے محنت کش سے اینکر پرسن کا سفر’

منگل کے روز رات گئے کراچی میں نوجوان اینکر پرسن مرید عباس کو لین دین کے تنازعہ پر گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی پولیس نے مرید عباس کے قتل کا مقدمہ ان کی اہلیہ اور ٹی وی اینکر زارا عباس کی مدعیت میں درج کیا ہے جبکہ ملزم عاطف زمان پر اقدام خودکشی کے الزام میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ 

اینکر مرید عباس کی زندگی نشیب و فراز سے بھرپور تھی۔ا نھوں نے کراچی کے ڈی ایچ اے کالج سے تعلیم حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:اینکر پرسن مرید عباس قتل کیس میں حیرت انگیز انکشافات سامنے آنے لگے

مرید عباس نے سنہ 2007 میں بزنس پلس سے اپنے کریئر کا آغاز کیا جس کے بعد انھوں نے سما ٹی وی کی ٹیم میں شمولیت اختیار کی پھر وہاں سے اب تک نیوز چینل اور پھر 2017 میں بول ٹی وی کا حصہ بنے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مرید عباس کے بھائی وسیم کا کہنا تھا کہ ’مجھے بار بار صرف وہ وقت یاد آرہا ہے جب میں کراچی کے ایک مدرسے میں پڑھتا تھا تو مرید ہر ہفتے اپنی سائیکل پر میرے پاس آیا کرتا تھا۔ اس وقت اس کی تنخواہ دو یا ڈھائی ہزار روپیہ تھی اور اس میں سے بھی وہ مجھے ہر ہفتے سو، دو سو روپیہ دے جاتا تھا، ہم لوگ کسان تھے اور اب بھی کسان ہی ہیں۔ بچپن میں جب مرید عباس نے تھوڑا بہت پڑھا تو انھیں ہمارے چچا اپنے ساتھ کراچی لے گئے تھے۔ وہ وہاں پر ایک بنگلے میں کام کرتے تھے اور مرید بھی ان کے ساتھ کام کرنے لگا۔

وسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ’اس بنگلے کے مالکان نے کہا کہ یہ (مرید عباس) بچہ ہے ہم اس کو تعلیم دلاتے ہیں جس کے بعد مرید عباس نے وہاں سے میٹرک کیا اور پھر کالج میں داخلہ لے کر مزید تعلیم حاصل کی تھی۔‘

وسیم کے مطابق ’اس بنگلے کے مالکاں نے کہا کہ یہ (مرید عباس) بچہ ہے ہم اس کو تعلیم دلاتے ہیں جس کے بعد مرید عباس نے وہاں سے میٹرک کیا اور پھر کالج میں داخلہ لے کر مزید تعلیم حاصل کی تھی۔‘

سینئر صحافی اقرار الحسن نے ٹوئٹ کیا کہ13سال کا ایک بچہ برسوں پہلےگھروں میں کام کرنے کراچی آیا،گھروالوں نے بچے کی صلاحیتیں دیکھتے ہوئے اُسے پڑھایا، ایک دن وہ اینکر بن گیا، ہم سب غیر موجودگی میں بھی اس کی محنت کی تعریف کرتے۔ ابھی جناح اسپتال میں مرید عباس کی نہیں، میانوالی کے اس بچے کے خوابوں کی لاش دیکھ کر آیا ہوں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *