Type to search

تجزیہ فيچرڈ میڈیا

آزادیء اظہار رائے

تحریر: (نضیرا اعظم) آپ کو انٹرنٹ پر ایسی بے شمار احتجاجی تصاویر ملیں گی جن میں مرد اور عورتیں منہ پر پٹیاں باندھے ان میں تالے ٹانگے ہیں، یا وہ افراد جو ایک قطار میں کھڑے ہیں اور سب کے منہ پر سیاہ ٹیپ کراس کی شکل میں لگے ہیں یا وہ لوگ جو زمین پر پلتھی مارے بیٹھے ہیں اور اپنی حکومتوں کے خلاف نعروں کے طغرے اٹھائے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ اور یہ تماشہ کیوں کر رہے ہیں؟ ان کا مقصد کیا ہے؟اس  زبان بندی  کے مظاہروں کا کیا مطلب ہے؟ اپنی حکومتوں سے کیوں ناراض ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ دنیا کے کچھ حصوں میں یہ احتجاج کیوں اور کس لئے ہو رہا ہے؟

افریقہ سے لے کر ایشیاء تک بے شمار ایسے ممالک ہیں جہاں آزادیء اظہار رائے پر  حکومتی پابندیاں لگی ہوئی ہیں ، جہاں صحافت زوال پذیر ہے اور صحافتی ماحول ایک خوف میں لپٹا ہوا ہے،جبکہ آزادیء اظہار رائے کی  بین الاقوامی تشریح یہ ہے کہ ”آزادیء اظہار رائے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی رائے کے اظہار کی اشاعت بغیر کسی حکومتی دباؤ کے کی جائے۔“ جبکہ اکیسویں صدی کے اس مقام پر پہنچتے پہنچتے کئی تشریحات بدل چکی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے۔

گھانا کے  میڈیا ہاؤس” ماڈرن گھانا“ میں کام کرنے والے دو صحافیوں کو ملک کی سیکیورٹی فورس نے اچانک پکڑ لیا انکا لیپ ٹاپ فون چھین لیا گیا اور پھر مار پیٹ کر رہا کر دیا،  اسی طرح تنزانیہ کے ایک صحافی کو دو سال قبل اغوا کرلیا گیا تھا  جس کے بارے میں انکے  وزیر خارجہ پالا مگمبا کبودی نے بی بی سی کےایک انٹرویو کے دوران لاپتہ صحافی کے بارے میں کئے گئے سوال پر کہا کہ” وہ غائب ہو گیا اور مرگیا۔“

جنوب ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی پریس پر سرکاری، اعلانیہ اور غیر اعلانیہ قدغن لگائی گئی ہیں۔ انڈیا میں صرف چھ ماہ میں چار صحافیوں کا قتل ہوا دو کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا اور دو  کو گاڑیوں اور ٹرک سے کچل کر ہلاک کر دیا گیا اس کے علاوہ دو صحافی رعنا ایوب اور روش کمار کو مسلسل موت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

اور یہ پرانی بات نہیں ہے بلکہ صرف چند مہینے پہلے کے واقعات ہیں۔ ان کے علاوہ انٹرنٹ ٹرولنگ بھی مودی  حکومت کے کارپردازوں  کا ایک ”اہم “ کام ہے۔ پاکستان میں غیر اعلانیہ سنسر شب، جبری برطرفیاں جاری ہیں صحافیوں کی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں لیکن انکی کوئی شنوائی نہیں ہے کہ مالکان کے مفادات سرکار سے جڑے ہیں اور ان میں اتنی  اخلاقی جراءت نہیں کہ وہ اپنے عامل صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہوسکیں۔

اسی طرح فلپائن، مینمار، ملیشیا، ویتنام ، کمبوڈیا اور سنگا پور میں صحافتی اداروں پر حکومتی پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔حتیٰ کہ فلپائن میں تو آن لائن آزادی  کو بھی سرکار نے پابند کردیا ہے، نیز  سرکاری تقریبات میں رپورٹرز کی شرکت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔” ٹائم“ کی ایک رپورٹ کے مطابق  مینمار میں درجنوں صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا اور دو رپورٹرز کو روہنگیا بحران پر تحقیق کرنے کے ”جرم“ میں 14 سال کی قید ہوگئی۔ویتنام کا صحافتی ماحول  پہلے پورے ایشیا میں سخت ترین تھا لیکن 2017  سے نا قابل برداشت ہو گیا ہے۔ یہاں کم سے کم 24  کارکنان پر فرد جرم عائد کر دی گئی اور 41 صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکومت نے ایسے قوانین بھی پاس کئے ہیں جن کے نفاذ سے آن لائن ازادیء اظہار رائے کو پابند کر دیا گیا ہے۔ آزادیء اظہار رائے دو چیزوں سے جڑی ہے شخصی  آزادی اور انسانی حقوق اور دونوں ہی کی پامالی ہو رہی ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *