Type to search

خبریں فيچرڈ معیشت

‘فیس ایپ‘ ایپلی کیشن پر پابندی لگانے کی تجویز ‘

سوشل میڈیا پر انسانی تصاویر کی عمر بڑھانے اور گھٹانے کی وائرل ایپلیکیشن ’فیس ایپ‘ کے متعلق سکیورٹی خدشات پر بحث گرم ہوگئی۔

امریکی جریدے کے مطابق ایپ کو گوگل پلے سے 100 ملین سے زیادہ لوگ ڈاؤنلوڈ کرچکے ہیں جبکہ دنیا کے 121ممالک میں یہ ٹاپ رینکنگ ایپ بن چکی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کمپنی اپنی یادداشت میں محفوظ ان تصاویر کو جب چاہے جس مقصد کے لئے چاہے استعمال کرسکتی ہے۔

امریکہ کے سینیٹر چک شُومر نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) اور فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی ڈی) کو اسمارٹ فون کی وائرل ہونے والی ’فیس ایپ‘ نامی ایپلی کیشن پر پابندی لگانے کی تجویز دی ہے۔

بدھ کے روز لکھے گئے اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ ’فیس ایپ‘ روس کی بنائی ہوئی ایک فوٹو ایڈیٹنگ ایپلی کیشن ہے۔ وائرل ہونے والی اسمارٹ فون کی یہ ایپلی کیشن صارف کی تصویر پر فلٹر لگا کر صارف کی عمر میں اضافہ کر کے دکھاتی ہے جس سے صارف بوڑھا نظر آتا ہے۔

چک شُومر کا کہنا تھا کہ فیس ایپ اپنے صارف سے اس کے مکمل ذاتی ڈیٹا اور تصاویر تک رسائی مانگتی ہے جو لاکھوں امریکی شہریوں کی سکیورٹی اور راز داری خطرے میں ڈالنے کا سبب بن سکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق فیس ایپ نے کسی صارف کا ڈیٹا بیچنے یا کسی دوسرے فرد کو ڈیٹا تک رسائی دینے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 99 فی صد صارفین ’لاگ اِن‘ نہیں کرتے اور ہمارے پاس کسی ایسے ڈیٹا تک رسائی نہیں ہوتی جو کسی شخص کی شناخت کر سکے۔

فیس ایپ کے مطابق زیادہ تر تصاویر اپ لوڈ ہونے کے 48 گھنٹے بعد ڈیلیٹ ہو جاتی ہیں۔ کمپنی روس میں قائم ہے لیکن اس سے حاصل کردہ ڈیٹا حکومت کو منتقل نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ یہ ایپلی کیشن 2017 میں لانچ کی گئی تھی۔ اس میں کچھ لسانی فلٹرز شامل تھے جس کی وجہ سے صارفین نے اسے نسل پرستانہ ایپلی کیشن قرار دے کر مذمت کی تھی۔ جس کے بعد اس میں سے یہ فلٹرز نکال دیے گئے تھے۔

حالیہ دنوں میں یہ ایپلی کیشن دوبارہ مشہور ہوئی ہے۔ شوبز ستاروں، کھلاڑیوں سمیت لاکھوں پاکستانی صارفین بھی فیس ایپ استعمال کرتے ہوئے اپنی بنائی گئی تصاویر کو سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں اس ایپلی کیشن پر یہ اعتراضات بھی اٹھائے گئے ہیں کہ فیس ایپ نامی ایپلی کیشن تصویر کو صارف کے موبائل سے آن لائن ’کلاؤڈ ڈیٹا اسٹوریج‘ میں کیوں محفوظ کرتی ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *