"ملک ریاض کو لاہور میں 200 کنال اراضی فرح گوگی کے حکم پر دی گئی"

"ملک ریاض اس زمین کی بولی لگانے کے خلاف تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ زمین انہیں مفت فراہم کر دی جائے۔ وہ اس کی سرکاری قیمت ادا کرنے کو بھی تیار نہیں تھے کیونکہ اس علاقے میں 'ڈی سی ریٹ' بھی پہلے کے مقابلے میں بڑھ چکا تھا۔ اس زمانے میں ملک ریاض کا طوطی بولتا تھا۔ انہوں نے افسر کی چھٹی بھی کروائی اور زمین بھی حاصل کر لی"۔

10:56 PM, 18 Apr, 2025

نیوز ڈیسک
Read more!

بحریہ ٹاؤن لاہور کو 200 کنال اراضی سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی کی قریبی سہیلی کے طور پر جانی جانے والی فرح شہزادی عرف فرح گوگی کے کہنے پر دی گئی تھی۔

سینیئر صحافی مزمل سہروردی نے نیا دور کے پروگرام "اندر کی بات" میں گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ ملک ریاض کے لاہور بحریہ ٹاؤن کو 200 کنال اراضی فرح گوگی کے حکم پر دی گئی تھی اور اس کے لئے انہوں نے پنجاب کے ایک سینیئر بیوروکریٹ کو پنجاب بدر بھی کرنا پڑا تھا۔

"یہ کوآپریٹو کی زمین تھی۔ اس زمانے میں رجسٹرار کوآپریٹو تھے عثمان معظم جو لاہور LDA کے ڈی جی اور ڈی سی بھی رہے۔ ان کو فرح گوگی نے کہا تھا کہ یہ کوآپریٹو کی زمین بحریہ ٹاؤن کو دے دیں لیکن انہوں نے یہ کام کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اس زمین کی بولی لگے گی جس کے بغیر یہ زمین بحریہ ٹاؤن یا کسی بھی اور سوسائٹی یا فرد کو نہیں دی جا سکتی"۔

مزمل سہروردی نے بتایا کہ اس انکار پر عثمان معظم کو بہت سخت ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں پہلے OSD کر دیا گیا اور ان پر پنجاب کی زمین اتنی تنگ کر دی گئی کہ وہ اپنا تبادلہ سندھ کروانے پر مجبور ہو گئے جس کے بعد ایک من پسند افسر لگوا کر یہ زمین بحریہ ٹاؤن کو دے دی گئی۔

" ملک ریاض اس زمین کی بولی لگانے کے خلاف تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ زمین انہیں مفت فراہم کر دی جائے۔ وہ اس کی سرکاری قیمت ادا کرنے کو بھی تیار نہیں تھے کیونکہ اس علاقے میں 'ڈی سی ریٹ' بھی پہلے کے مقابلے میں بڑھ چکا تھا۔ اس زمانے میں ملک ریاض کا طوطی بولتا تھا۔ انہوں نے افسر کی چھٹی بھی کروائی اور زمین بھی حاصل کر لی"۔

سینیئر صحافی کا کہنا تھا کہ یہ زمین سرکار کی تھی، کوئی عمران خان کی ذاتی ملکیت نہیں تھی۔ یقیناً اس زمین کی منتقلی کے لئے کسی سرکاری افسر کے دستخط ہوئے ہوں گے اور وہ افسر رجسٹرار کوآپریٹو ہی تھا۔

مزیدخبریں