پاکستان چین اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے: بلاول بھٹو

ھارت کو چین کے مقابلے میں لانے سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے،دنیا اس وقت ایک بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور دونوں عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں،ماضی میں بھی پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان تعلقات میں ثالثی کا کردار ادا کیا اور آج بھی ہم تقسیم کے بجائے فاصلے کم کرنا چاہتے ہیں ،بلاول بھٹو زرداری

02:13 PM, 18 Feb, 2025

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان چین اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ دنیا اس وقت ایک بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور دونوں عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان تعلقات میں ثالثی کا کردار ادا کیا اور آج بھی ہم تقسیم کے بجائے فاصلے کم کرنا چاہتے ہیں۔ ادھر امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان چین اور امریکا کے درمیان اقتصادی پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ورلڈ افیئر کونسل آف نیو ہیمپشائر کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے مسعود خان نے کہا کہ پاکستان، امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کا مشترکہ مقصد خطے میں امن اور سلامتی ہے، اور بھارت کی ترجیح بھی ایک پُرامن ہمسایہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے یہ بات میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے دوران جرمن خبر رساں ادارے ”ڈی ڈبلیو“ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

بلاول بھٹو زرداری سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان کسی ایک بلاک کا حصہ بننا چاہتا ہے یا نہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ تاریخی طور پر پاکستان نے ہمیشہ ایک پل کا کردار ادا کیا ہے، نہ کہ تقسیم کی قوت بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن پاکستان کا مؤقف ہمیشہ مختلف رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خود کو ایسا ملک تصور کرتا ہے جو ان دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان خلیج کو بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے میں مدد دے سکے۔

پاکستان نے چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا
مارچ 2021 میں، امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے 1971 میں چین اور امریکہ کے تعلقات میں اہم پیش رفت کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا تھا۔

ہنری کسنجر نے چین-امریکہ تعلقات کے 50 سال مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان نے بین الاقوامی تعلقات کے ایک اہم دور میں سفارتی تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے اس وقت کے صدر یحییٰ خان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چین کے وزیراعظم چو این لائی اور امریکی صدر رچرڈ نکسن کے درمیان خفیہ مذاکرات میں ثالثی کی۔

اس سفارتی کوشش کا نتیجہ 9 جولائی 1971 کو سامنے آیا، جب ہنری کسنجر اسلام آباد سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے بیجنگ روانہ ہوئے۔

کیا ٹرمپ انتظامیہ میں یہ ممکن تھا؟
جب بلاول بھٹو سے پوچھا گیا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ میں یہ کردار ممکن ہوگا، تو انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ”ڈیل میکر“ (سودے باز) ہیں اور چیلنجز کے باوجود پاکستان کئی معاملات پر امریکہ کے ساتھ رابطہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا ایک ممکنہ شعبہ بھارت کے ساتھ امن قائم کرنا یا کم از کم تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ جیسے ڈیل میکر عالمی امن کے لیے کوئی کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

کیا امریکہ کا بھارت کے قریب ہونا پاکستان کے لیے مسئلہ ہے؟
بلاول بھٹو نے کہا کہ یوکرین جنگ کے دوران امریکہ اور بھارت کے تعلقات سے متعلق کئی مفروضات آزمائے گئے۔انہوں نے کہا کہ ’امریکہ کی چین کے خلاف ایک توازن قائم کرنے کے لیے بھارت کو مضبوط کرنے کی کوشش نے خطے میں طاقت کا عدم توازن پیدا کر دیا ہے۔ اس کے اثرات میں بھارت اور پاکستان کے درمیان اسلحے کی دوڑ بھی شامل ہے۔‘

پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو غربت اور بے روزگاری جیسے شدید چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اگر امریکہ بھارت کو خطے میں سیکیورٹی فراہم کرنے والا ملک بنانے کی کوشش کرے گا، تو پاکستان بھی اپنی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے وہ سب کچھ کرے گا جو ضروری ہو۔

مغرب کا عالمی معاملات میں کردار
مغرب کے کردار پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہمیں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کی تقریر سن کر کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ ہمیشہ اپنے مفادات کو پہلے رکھتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں یہ تجربہ اس وقت کیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کسی یورپی ممالک، افغان حکومت یا پڑوسی ممالک سے مشاورت کے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ امریکہ افغانستان سے نکل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کے ساتھ معاملات طے کرنے کے پرانے اصول بدل چکے ہیں۔ یورپ کو بھی اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا، اور پاکستان کو بھی اس کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی۔‘

پاکستان کا چین کے قریب ہونا عالمی تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوتا
بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ چین کے ساتھ قریبی تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان خود کو باقی دنیا سے الگ کر لے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی امریکہ اور یورپ کے ساتھ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور یہ دونوں تعلقات ایک دوسرے کے متبادل نہیں ہو سکتے۔

امریکہ کے افغانستان سے انخلا نے پاکستان کے لیے سیکیورٹی چیلنجز پیدا کیے
بلاول بھٹو نے امریکہ کے افغانستان سے اچانک انخلا کو پاکستان کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پہلے ختم کر دیا گیا تھا، لیکن کابل کے سقوط کے بعد یہ تنظیم دوبارہ فعال ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ ’اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سب سے پہلے پاکستان کو ایک جامع اور مؤثر داخلی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، جس پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوں۔ اس کے بعد ہم ان گروپوں کے خلاف مؤثر کارروائی کر سکیں گے، جیسے ماضی میں کی تھی، اور مجھے یقین ہے کہ ہم مستقبل میں بھی ایسا کر سکتے ہیں۔‘

کیا عمران خان کی گرفتاری کی وجہ سے سیاسی اتفاق رائے ممکن نہیں؟
بلاول بھٹو سے پوچھا گیا کہ آیا عمران خان کی گرفتاری کی وجہ سے ملک میں سیاسی اتفاق رائے ممکن نہیں ہو رہا؟

انہوں نے جواب دیا کہ ’عمران خان کی گرفتاری ہو یا نہ ہو، میرے والد بھی گرفتار ہوئے تھے، نواز شریف بھی گرفتار ہوئے تھے، اور ان کی بیٹی کو بھی عمران خان کے دور میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود ہم نے قومی اتفاق رائے قائم کیا تھا۔‘انہوں نے کہا کہ کسی کیس سے جان چھڑانے کو سیاسی مفاہمت سے جوڑنا مناسب نہیں۔

ایران کے ساتھ کشیدگی خطے کے لیے نقصان دہ ہوگی
بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی کشیدگی یا تصادم خطے کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا۔

مزیدخبریں