کیا واقعی لائن کٹ گئی ہے۔۔۔؟

ایوب آمریت سے جو سفر شروع ہوا وہ ضیا دور سے ہوتا ہوا مشرف کے مارشل لاء تک جاری رہا ،لیکن حالیہ دور میں ایسی مفلوج صحافت کی مثال کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ، اس وقت سینسر شپ اپنی انتہاء کو چھو رہی ہے ، لولی لنگڑی صحافت سینسر سپ کے اس ماحول میں اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے ،عمران خان کو جیل ٹرائل کی صورت جو سزا سنائی گئی ہے پاکستان کی عدلیہ کا کوئی نیا کارنامہ نہیں

03:24 PM, 18 Jan, 2025

ارسلان سید

”بانی کو سزا ہوگئی “،پڑاپرٹی تائیکون   نے زمین القادر ٹرسٹ کو عطیہ کی "ایسی اصطلاحات  بدقسمتی سے صرف پاکستانی صحافت میں ہی دیکھنے کو ملتی ہے، جہاں جس ملزم کوعدلت کی جانب سے سزا سنائی جاتی ہے اس ملز م کا نام تک نہیں لیا جاتا ۔ 2017میں جب نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل کیا تو اس فیصلے سے ہفتہ پہلے باقاعدہ " سپیشل ٹرانسمیشن" کی پلاننگ  جاری تھی ، تجزیہ کاروں کی ایک فوج ظفر موج کو ٹیلی ویژن کی خصوصی نشریات میں بلانے کیلئے باقاعدہ بکنگ ہوتی تھی، کس 'تجزیہ کار 'نے  کس ٹی وی چینل پر کس وقت اپنے ”آفاقی ماہرانہ تجزیہ “سے قوم کو فیضیاب کرنا ہے سب فکس ہوتا تھا ، میڈیا مینجرزکو اپنی نوکریوں کو Justifyکرنے کیلئے ان ٹی وی ٹرانسمیشن کو کامیاب بنانے  کیلئے  Out of the Box  آئیڈیا ز کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرنی ہوتی تھیں ۔لیکن ابھی صرف 8سال کا عرصہ ہی گزرا ہے کہ میڈیا نے 180ڈگری کی قلابازی کھائی ہے اور اب جس ملزم کواحتساب عدالت سے سزا سنائی جاتی ہے اس کی تصویر چلانا تو بہت دور کی بات ،سزا کی خبر کیساتھ ملزم کا نام تک نہیں لیا جاتا ۔ ایسا پراپرٹی ڈیلرز پر مشتمل میڈیا  دنیا کے کسی اور کونے میں اپنا وجود نہیں  رکھتا ہو۔ایوب  آمریت سے جو سفر شروع ہوا وہ ضیا دور سے ہوتا ہوا مشرف کے مارشل لاء تک  جاری رہا ،لیکن حالیہ دور میں ایسی مفلوج صحافت  کی مثال کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ۔  اس وقت سینسر شپ اپنی  انتہاء کو چھو رہی ہے ، لولی لنگڑی صحافت  سینسر سپ کے اس ماحول میں اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے ۔ عمران خان کو جیل ٹرائل کی صورت جو سزا سنائی گئی ہے پاکستان کی عدلیہ کا کوئی نیا کارنامہ نہیں ۔ماضی میں  بھی کئی وزرائے  اعظموں کو احتساب عدالتوں کے ذریعے سزائیں سنائی جاچکی ہیں جن کا تعلق چاہے سندھ سے ہو یا پنجاب سے ، سیاسی انتقام پر مبنی احتساب کے نظام نے ہمیشہ سیاستدانوں کو مخصوص حالات میں سزائیں سنائی ہیں ۔ عمران خان کو 14سال قید کی سزا میں کیا خاص ہے جوماضی کے دیگر رہنماوں کے مقابلے میں منفرد بناتی ہے ۔ ماضی کے فیصلوں کی گرد ہٹائیں تو کئی اور نام بھی ملتے ہیں  جنہیں احتساب کے نام پر انتقام کا سامنا رہا۔

پاکستانی سابق وزرائے اعظم جنہیں سزائیں سنائی گئیں

حسین شہید سہروردی  12ستمبر 1956-11اکتوبر 1957

حسین شہید سہروردی  پاکستان کے پہلے بنگالی  وزیراعظم تھے جنہیں ناکام  فوجی بغاوت کےالزام میں گرفتار کیا گیا ۔ حسین شہید سہروردی نے 1946میں  بطور وزیراعلی بنگال تحریک پاکستان کی ذمہ داری  نہایت خوبی کیساتھ نبھائی ۔  حسین شہید سہروردی نے بطور وزیر قانون 1956 کے آئین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا ، لیکن  وزیراعظم حسین سہروردی کو صدر اسکندر مرزا نے 7اکتوبر 1958کو ملک میں مارشل لاء کا نفاذ کرکے 1956کا آئین ہی معطل کردیا ۔اس کے ایوب خان نے سہروردی کو اپنی مارشل لاء حکومت کیلئے آئین  تشکیل دینے کی درخواست کی لیکن حسین شہید سہروردی نے انکار کردیا جس کے نتیجے میں بدنام زمانہ 1959EBDOکانفاذ کرکے حسین شہید سہروردی کی سیاست میں شرکت پر پابندی لگادی گئی (سیاست سے علحیدگی کی روایت کوئی نئی نہیں بلکہ یہ ایوب آمریت سے چلی آرہی ہے بس فرق یہ ہے کہ پرانی فائلوں سے گرد صاف کرکے نام نئے تحریر کردئیے جاتے ہیں باقی طریقہ کار وہی برقرار رہتا ہے)۔ اسکے بعد جنوری 1962میں ”ریاست مخالف “الزامات پر حسین شہید سہروردی کو سیکیورٹی آف پاکستان ایکٹ 1952 کے تحت گرفتار کرلیا گیا ۔جب ایوب خان کی  بنیادی جمہوریتوں کا پلان مکمل ہوگیا تو پھر حسین شہید سہروردی کواگست 1962میں  رہا کردیا گیا ۔اسکے بعد وہ ایوب آمریت اور 1956 کے آئین کی بحالی کیلئے آخری دم تک لڑتے رہے  لیکن صحت نے اجازت نہ دی اور بیروت میں علاج کی غرض سے قیام کیا لیکن  پھر وہیں5 دسمبر 1963کو وفات پائی ۔

ذوالفقار علی بھٹو  1973-1977

ذوالفقار علی بھٹو نے اگرچہ ایوب آمریت میں بطور وزیر خارجہ کام کیا اور ایک وقت میں ایوب خان کابینہ کے سب سے چہیتے وزیر سمجھے جاتے تھے لیکن تاریخ نے کروٹ لی اور بھٹو نے ایوب کابینہ سے شملہ معاہدہ کے بعد  پیدا ہونے والے اختلافات پر استعفیٰ دے دیا اور اپنی الگ جماعت پاکستان پیپلز پارٹی تشکیل دی ۔1971 میں مشرقی پاکستان کی  علحیدگی کے بعد 1971 میں پاکستان کے چوتھے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھا یا ۔ لیکن جولائی 1977میں  ضیاء الحق کی آمریت کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو سخت آزمائش سے گزرنا پڑا۔ بالاخر غلام رضا قصوری کے قتل کے الزام میں 1974میں گرفتار کیا گیا لیکن لاہور ہائی کورٹ سے رہا ئی کے بعد مارشل لاء ریگولیشن کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا گیا (جسے اس وقت کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا تھا )قتل کا مقدمہ چلا اور آخر کار ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کی الاصبح پھانسی چڑھادیا گیا ۔

بینظیر بھٹو1988-1990،1993-1996

بینظیر بھٹو کا اقتدار تک کا راستہ کانٹوں کی سیج ثابت ہوا ۔اپنے والد  ذوالفقار علی بھٹو   کی پھانسی کے بعد بینظیر بھٹو کو کئی مرتبہ نظر بند کیا گیا ۔1999میں احتساب عدالت نے بینظیر بھٹو کو 5 سال قیداور اس کیساتھ عوامی عہدے کیلئے نااہل اور 5ملین پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی ۔

نواز شریف 1990-1993،1997-1999، 2013-2017

نواز شریف کی سیاست کا عروج و زوال نہایت دلچسپ رہا ہے ۔ جنرل جیلانی نے نواز شریف کی سیاست کی آبیاری کی ، پنجاب میں پہلے ضیاالحق آمریت میں پنجاب کی وزارت اعلی سے نوازا گیا پھر نواز شریف کو 1990کی دہائی میں اسٹیبلشمنٹ نے  بینظیر بھٹو کا مقابلہ کرنے کیلئے آئی جے آئی تشکیل دی اور نواز شریف کو پنجاب میں کھڑا کیا اور یوں نواز شریف پنجاب سے اکثریت  لے کر 1993میں پہلی بار وزارت اعظمیٰ کی کرسی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔نواز شریف کی سیاست کو 8فروری 2024کے عام انتخابات میں  شدید دھچکہ پہنچا ہے جس کی بنیادی وجہ پنجاب میں نئی سیاسی حقیقتوں  کا سامنے آنا ہے یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کے ووٹ بینک کامسلسل صفایا ہورہا ہے۔نواز شریف جب 1997میں دوتہائی اکثریت لیکر وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو امیر المومنین بننے کی خواہش نے نواز شریف کو اٹک قلعے کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا ۔جنرل پرویز مشرف جو نواز شریف کی” فیورٹ چوائس “تھے12اکتوبر 1999کی شام ملک میں مارشل لاء کا نفاذ کرکے نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کردیا ۔ پہلے طیارہ سازش کیس میں نواز شریف کو عمر قید کی سزا سنائی گئی لیکن پھر نواز شریف اپنے سعودیہ  اور دیگر عرب اتحادیوں کی مداخلت کے باعث پرویز مشرف کیساتھ دس سالہ ڈیل کرکے جلاوطن ہوگئے ۔ نواز شریف کو اپنی تیسری وزارت عظمیٰ میں اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب مشہور زمانہ پاناما اسکینڈل2016 سامنے آیا جس میں نواز شریف کے بیٹوں کے نام پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے پر  پہلے تحقیقات اور پھر سپریم کورٹ فیصلوں کی روشنی میں احتساب مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ۔ (یہ دستاویزات سے ثابت ہوچکا ہے کہ نواز شریف نے 5اپریل کو قوم سے خطاب اور 16 مئی 2016 کوقومی اسمبلی میں خطاب کے دوران غلط بیانی سے کام لیا  )2017میں  احتساب عدالتوں سے سزاوں کے بعد ناصرف نواز شریف کوسیاست سے تاحیات  نااہل قرار دیا گیا  ۔سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو ہدایت دی گئی کہ وہ نواز شریف، ان کے دونوں بیٹوں حسن نواز ،حسین نواز اور صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ ساتھ اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ نے نیب کو نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف لندن کے 4 فلیٹس سے متعلق ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا جبکہ نواز شریف، حسن اور حسین نواز کے خلاف عزیزیہ اسٹیل ملز، ہل میٹل سمیت بیرونِ ملک قائم دیگر 16 کمپنیوں سے متعلق بھی ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی۔

 ایک سوال جو آج بھی اپنی جگہ برقرار ہے وہ یہ کہ تین مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر رہنے والے نواز شریف نے آج تک کسی بھی قانونی فورم پر تسلی بخش جواب نہیں دیا کہ ان کے بیٹوں نے آف شور کمپنیاں کن ذرائع سے بنائیں وہ بھی اس وقت جب نواز شریف ملک کے وزیراعظم تھے؟

عمران خان 2018-2022

2018 میں اگر آر ٹی ایس خراب نہ ہوتا تو شاید انتخابات کا نتیجہ مختلف ہوتا ،اتحادیوں کیساتھ حکومت بنی تو عمران خان کیلئے یہ پہلا موقع تھا کہ وہ اپنے منشور پر عملدرآمد کو آگے بڑھاتے لیکن ظاہر ہے اقتدار کے کچھ اپنے تقاضے ہوتے ہیں ، عمران خان کو  بھی جلد  اقتدار کی غلام گردشوں نے آن لیا  اور پھر عمران خان بھی سابق وزرائے اعظموں کی طرح وہی غلطیاں دہرانے لگے جو ان کے پیش رو دہراتے رہے تھے ۔آہستہ آہستہ اقتدار کی رسی ان کے ہاتھ سے نکلنے لگی اور وہی ہوا جو ماضی میں ہوتا رہا ہے ”same page “پھٹ گیا اور پھر  آبپارہ میں تعیناتی کو التوء میں ڈالنے کی سزا اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار سے بے دخلی کی صورت  دی ۔ 2022میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عمران خان کا امتحان شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے ۔  احتساب عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران   خان کو 14سال قید کی سزا ، 10لاکھ روپے جرمانہ اور اہلیہ کو 7سال قید  اور 5لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی  ہے۔ سابق وزرائے اعظموں کو یہ سزائیں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ، قوم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جب ریاست اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتی ہے تو پھر راتوں رات عدالتیں اپنے فیصلوں کو تبدیل کرنے میں دیر نہیں لگاتیں ۔ 

تحریک انصاف نے16جنوری کو  عمران خان کیخلاف القادر ٹرسٹ کیس  کا فیصلہ آنے سے صرف ایک دن قبل مطالبات حکومتی ٹیم کو  پیش کیے لیکن ابتدائی حکومتی رد عمل سے اندازہ لگا نا مشکل نہیں کہ ان مطالبات کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے ۔حکومتی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ جس روز مطالبات پیش کیے گئے اسی روز حکومتی وزراء ان مطالبات میں بیان کیے گئے مطالبوں کو "پروپیگنڈ ا "قرار دیتے رہے ۔دوسری طرف المیہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کمپرومائزڈ ہے  اس نے عمران خان کے ہر پلان کو صرف ناکام ہی بنایا ہے ۔ اگر کسی کو خوش فہمی ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم (جس میں محسن نقوی شامل نہیں)ریاست کے اشارے کے بغیر تمام مطالبات پر سر تسلیم خم کردے گی تو اس طرح کی سوچ احمقوں کی جنت میں رہنے والوں کی تو ہوسکتی ہے کسی سیاسی جماعت کی ہرگز نہیں ۔ ریاست مذاکرات کیلئے سنجیدہ اسی وقت ہوتی ہے جب دوسری طرف سے فریق کے پاس دینے کیلئے مذاکرات کی میز پر کچھ ہو ، لیکن موجودہ حالات میں تحریک انصاف اپنے سارے پتے کھیل چکی ہے۔ ان مذاکرات پر پہلے دن سے ہی دونوں طرف کے فریق سنجیدہ نہیں تھے قوم اور میڈیا  کو”مذاکرات“کی صورت ایک مشغلہ میسر آگیا تھا ویسے بھی یہ قوم Illusional Paranoidکا شکار ہوچکی ہے اس میں حالات و واقعات کو عقل کی عینک سے دیکھنے کی استطاعت باقی نہیں رہی!

مزیدخبریں