ابھی چند ہی روز پہلے تک بشار الاسد کا نام مشرقِ وسطیٰ کے ان آمروں میں سے ایک تھا جو دہائیوں سے اپنے ملکوں پر بلا شرکتِ غیرے حکمران تھے۔ اس نے Arab Spring کے بعد مشکل ترین حالات کا مقابلہ بھی کیا۔
- لیکن پھر کیا ہوا کہ نومبر 2024 کے اواخر اور دسمبر کی شروعات میں محض 14 دن کے اندر اندر اس کی حکومت خس و خاشاک کی طرح بہ گئی؟
- ترکیہ شام کے حوالے سے کیوں عزائم رکھتا ہے؟
- بشارالاسد اور اس کے باپ نے کل کتنے برس حکومت کی؟
- کیا بشار الاسد اہل تشیع کے نصیریہ فرقہ سے تعلق رکھتا تھا؟
- امریکہ اور اسرائیل نے اس سارے عمل میں کیا گُل کھلائے؟
- برطانیہ اور فرانس کا کردار کیا تھا؟
یہ سب اور بہت کچھ ہم آپ کو بتائیں گے اس ویڈیو میں لیکن اس سے پہلے کہ ہم آپ کو شام کی سیاست کا تاریخی پسِ منظر بتائیں، ہماری ویڈیو کو لائیک کر لیجیے اور چینل کو سبسکرائب کر لیں۔ ویڈیو پسند آئے تو شیئر بھی ضرور کیجیے گا۔
تو دوستو! اس واقعے کا تاریخی پشِ منظر یہ ہے کہ جیسا آپ سب کے علم میں ہوگا ہی، شام ہے ایک عرب ریاست ہے۔ عربوں نے پیغمبرِ اسلام حضرت محمدؐ کے وصال کے کچھ ہی عرصہ کے اندر اندر موجودہ دور کے سعودی عرب کو تو متحد کر لیا تھا اور 633 عیسوی میں انہوں نے سعودی عرب سے آگے یعنی شام اور ایران کی سرحدوں کے پار بھی علاقوں کو اپنے قبضے میں لینا شروع کر دیا تھا۔ یہ سلطنت کتنی طاقتور تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ اگلے 80 برس کے اندر اندر اسلامی ریاست موجودہ پاکستان سے سپین تک ایک وسیع و عریض علاقے پر پھیل چکی تھی۔ تاریخِ انسانی نے اس سے قبل اتنی بڑی سلطنت کبھی دیکھی ہی نہیں تھی۔ بعد میں ضرور اس سے بڑی سلطنتیں وجود میں آئیں، لیکن اس وقت تک یہ تاریخ کی سب سے عظیم الشان سلطنت تھی۔ یہ بھی یاد رہے کہ عربوں نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں کبھی نسل کشی نہیں کی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے شہریوں کے لئے مثالی رواداری کا مظاہرہ کیا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ 750 عیسوی میں یعنی مسلم سلطنت قائم ہوئے قریب 120 برس بعد جب عباسیوں نے اموی سلطنت کا تختہ الٹا تب تک بھی پوری سلطنت میں مسیحی واضح اکثریت میں تھے۔ اسلام اس وقت تک سلطنت کا دوسرا بھی نہیں بلکہ تیسرا بڑا مذہب تھا۔
شام ان اولین خطوں میں سے تھا جن پر عربوں نے قبضہ کیا۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی فتح ہو چکا تھا۔ البتہ عربوں کے بعد اس پر دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان حکمراں بھی رہے۔ صلاح الدین ایوبی ایک کرد تھے۔ اور انہوں نے ایک ترک یعنی نور الدین زنگی کے بعد شام پر حکمرانی کی اور بعد ازاں یہ پورا خطہ جس میں مصر، عراق، شام، فلسطین، اردن اور ترکی کے ساتھ ساتھ دیگر کئی ممالک بھی شامل ہیں سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ بن گئے۔
شام میں ترکیہ کے عزائم کیوں ہیں؟
قریب دو صدیوں تک سلطنتِ عثمانیہ یورپ اور ایشیا کی طاقتور ترین سلطنت تھی۔ مگر ہر عروج کو زوال ہے۔ یہ کوئی حسنِ اتفاق نہیں کہ عثمانیوں کا زوال فرانس اور برطانیہ کے عروج کے ساتھ ساتھ ہی وارد ہوا۔ انیسویں صدی تک حالات اس نہج پر آ چکے تھے کہ سلطنتِ عثمانیہ برطانیہ اور فرانس کی protection کی وجہ سے ہی قائم تھی ورنہ یہ روسی زار سلطنت کے سامنے کبھوں کی ڈھیر ہو چکی ہوتی۔ جنگِ عظیم اوّل میں البتہ عثمانیوں نے جرمنی اور آسٹریا کا ساتھ دیا اور انہیں شکست ہو گئی جس کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کے حصے بخرے ہو گئے۔
برطانیہ اور فرانس کے درمیان سائیکس پیکو معاہدہ
سائیکس پیکو معاہدے کے تحت جنگِ عظیم اوّل کے بعد سلطنتِ عثمانیہ میں سے قریب دو درجن نئی ریاستیں وجود میں آئیں۔ معاہدے کے تحت برطانیہ اور روس نے ایران پر بھی قبضہ کرنا تھا لیکن جب 1917 میں انقلابِ روس کے بعد بالشویکیوں نے توسیع پسندانہ عزائم ترک کر دیے تو برطانیہ نے فیصلہ کیا کہ یہ اکیلا پورے ایران کو قابو میں نہیں رکھ سکے گا لہٰذا اس نے جنوبی ایران پر قبضے کا ارادہ ترک کر کے عراق پر قبضہ کر لیا۔
اب برطانیہ نے ایک نئی گیم کھیلی۔ معاہدے کے تحت عراق نے فرانس کے قبضے میں جانا تھا لیکن برطانیہ کو جب ایران نہیں ملا تو اس نے بدلے میں عراق لینے کا فیصلہ کر لیا۔ فرانس والوں کا بیچاروں کا دل تو دکھا ہوگا مگر جنگ کے اختتام تک یہ خود اس قدر کمزور ہو چکے تھے کہ برطانیہ کے ساتھ کسی معاملے پر لڑائی کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔ برطانیہ نے تو اپنی فوجیں فرانس میں بھیج کر جرمنی کا مقابلہ کیا تھا۔ فرانسیسی تو اسی میں خوش تھے کہ برطانیہ بقیہ معاہدے کی پابندی کرنے کو تیار تھا۔
برطانیہ تو فلسطین اور اردن پر بھی قبضہ کرنا چاہتا تھا کیونکہ برطانویوں کے نزدیک یہ صلیبی جنگوں کا منطقی انجام تھا۔ جی ہاں، قریب 730 برس قبل انگریز بادشاہ رچرڈ صلاح الدین ایوبی کے مقابلے پر فلسطین پر قبضہ کرنے میں ناکام ہو کر واپس لوٹا تھا۔ صدیوں بعد بالآخر صلیب حلال پر غالب آ چکی تھی۔ یہ بات برطانویوں کے دماغوں سے نکلی نہیں تھی۔ خواہ وہ کتنا بھی لبرل اور معتدل ہونے کا ڈھونگ رچائیں، دراصل پورا نوآبادیاتی پروجیکٹ مسیحیت کے پرچار کے دم پر ہی تو قائم تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ابتدائی صلیبی حملوں کی طرح اس بار بھی صلیبیوں کے کام مسلمانوں کے اندر سے "باغی" ہی آئے۔ جی ہاں، برطانیہ کے لئے عثمانیوں کو شکست دینا عربوں کی حمایت کے بغیر ناممکن تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ نے پہلی جنگِ عظیم میں نامساعد ترین حالات کے باوجود آخری لمحے تک برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا کی مشترکہ فوجوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی تھی اور دوسری طرف روسی فوجوں کا مقابلہ بھی جواں مردی سے کیا تھا۔ اس موقع پر یہ عرب ہی تھے جنہوں نے برطانیہ کی مدد سے جگہ جگہ ترکوں کے خلاف بغاوتیں کروائیں اور عثمانیوں کے لئے سلطنت کا دفاع ناممکن بنا دیا۔
عربوں کی ترکیہ سے کیا دشمنی تھی؟
ایسا نہیں کہ عربوں کے ساتھ ترکوں کا سلوک کوئی بہت اچھا تھا۔ ایک اسلام کو چھوڑ دیں تو ان کے درمیان مشترک تھا ہی کیا؟ عربوں کو بھی عثمانیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی جلدی تھی۔ یہ عرب ہی تو تھے جنہوں نے اچانک موجودہ سعودی عرب، عراق، فلسطین اور شام پر مشتمل ایک وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ غزہ پر بھی برطانیہ نے بار بار حملے کیے لیکن عثمانیوں نے انہیں مار بھگایا۔ تب موجودہ اردن میں واقع یہ انتہائی اہم عقبہ بندرگاہ تھی جسے برطانیہ نہیں عربوں نے فتح کر کے برطانیہ کے حوالے کیا جس سے اسے غزہ تک فوجیں پہنچانے کا رستہ ملا۔ یہی تو وہ وقت تھا جب برطانوی سیکرٹری خارجہ Arthur James Balfour نے Balfour Declaration جاری کیا۔
بیت المقدس اور دمشق پر بھی عربوں ہی نے قبضہ کیا تھا۔ البتہ یہ انگریز فوجوں کی خاطر نہیں کیا گیا تھا۔ یہ ان کی اپنی ہی کارروائی تھی۔ برطانیہ اور فرانس کے لئے لیکن یہ ناقابلِ قبول تھا کیونکہ یہ تو سائیکس پیکو معاہدے کے تحت یہ تمام علاقہ آپس میں بانٹنا چاہتے تھے۔ لارنس آف عریبیہ اسی وقت دمشق کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے تھا کہ جب عرب فوجوں نے یروشلم اور پھر دمشق پر قبضہ کر لیا اور اب ان کا حق تھا کہ وہ یہاں اپنی سلطنت قائم کرتے۔
اتحادیوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنا بھی مشکل تھا۔ لہٰذا اب برطانیہ اور فرانس نے سازشیں شروع کیں۔ انہوں نے دمشق میں جگہ جگہ آگ لگوانا شروع کر دی۔ دمشق کو پانی اور بجلی کی سپلائی کاٹ دی۔ غرض عرب سلطنت کو ناکام کرنے کے لئے جو کچھ ان سے بن پڑا انہوں نے کیا اور پھر 1920 میں فرانس نے پہلے لبنان اور پھر شام پر بھی حملہ کر دیا۔ عربوں نے مزاحمت کی لیکن ان کی توپیں اور گھوڑے فرانس کے ٹینکوں اور ایئر فورس کے مقابلے میں کھڑے نہ رہ سکے۔
عراق میں بغاوت
شام لہٰذا بالآخر فرانسیسی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ اب لیکن عراق میں بغاوت شروع ہو گئی۔ کیونکہ یہ برطانوی سلطنت کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔ برطانیہ نے جواب میں اپنی روایتی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغداد پر فضائی بمباری کر ڈالی جو کہ تاریخ میں کسی بھی بڑے شہر پر فضائی بمباری کی پہلی مثال تھی۔ مرتا کیا نہ کرتا؟ عراق نے بالآخر برطانیہ کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ شاہ فیصل اول جو اس سے قبل شام کا بادشاہ تھا، اسے برطانیہ نے عراق پر بادشاہ بنا بٹھایا اور اس نے آنے والے برسوں میں ایک بہترین پٹھو کا کرداد ادا کیا۔ شام اور عراق کے درمیان ایک برطانیہ اور فرانس کا من پسند بارڈر بنایا گیا اور اس میں بھی روایتی کارروائی ڈالی گئی۔ انہوں نے شعوری طور پر یقینی بنایا کہ کُرد کسی ایک ریاست میں بھی اتنے طاقتور نہ ہوں کہ اپنا ملک بنانے کے قابل ہو سکیں۔ مقصد ہی خطے میں مسلسل خانہ جنگی کا بیج بونا تھا۔
مصر میں بغاوت اور United Arab Republic کا خواب
1919 میں قاہرہ میں بھی بغاوت ہو گئی۔ اس وقت مصر کی آبادی کا 25 فیصد قبطی مسیحیوں پر مشتمل تھا۔ یہ بڑی اعلیٰ تعلیم یافتہ کمیونٹی تھی۔ انہی میں سے کچھ دانشوروں نے pan-Arabism کا نظریہ سامنے رکھا۔ ان کا ماننا تھا کہ تیونس، مراکش، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر متعدد عرب ریاستوں کو ختم کر کے مراکش سے عراق تک ایک متحدہ عرب ریاست قائم کی جائے جس کا نام وہ United Arab Republic رکھنا چاہتے تھے۔ وہ اس ریاست کو سیکولر اور سوشلسٹ نظریات پر استوار کرنا چاہتے تھے۔ اس بغاوت کے نتیجے میں مصر کو بڑی حد تک خودمختاری مل گئی۔ یہ نظریہ عربوں میں جلد ہی قبولیت اختیار کر گیا اور اس نے آنے والے سالوں میں خطے کی سیاست پر دوررس نتائج مرتب کیے۔
دوسری جنگِ عظیم میں اچانک شام جرمنی کا اتحادی کیسے بنا؟
جب دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی نے آن کی آن میں قریب دو ہفتوں کے اندر فرانس پر قبضہ کر لیا تو یہ شام کے لئے عجیب و غریب صورتحال پیدا ہو گئی۔ فرانس میں جرمنی نے ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی جو کہ جرمنی کی اتحادی تھی۔ تکنیکی طور پر شام اب جرمنی کا اتحادی تھا اور عراق اور دیگر عرب ممالک پر اب تک قابض برطانیہ کے لئے یہ ایک پریشان کن بات تھی۔ اس نے شام پر حملہ کر دیا اور کشت و خون کا ایسا بازار گرم ہوا کہ جس کی کم ہی مثالیں ملتی ہیں۔
شام کے بعد عراق میں بھی بغاوتم برطانیہ مشکل میں
تاہم، شام پر قبضے کے بعد برطانیہ کے لئے ایک نئی مشکل کھڑی ہو گئی۔ یہ شامیوں کو ناخوش بھی نہیں کرنا چاہتے تھے اور دوسری طرف اسی دوران عراق میں بغاوت ہو گئی۔ برطانیہ نے شامیوں سے وعدہ کیا کہ آپ جنگ کے اختتام تک خاموش ہو جاؤ، جنگ کے بعد ہم آپ کو فرانس سے آزادی دلوا دیں گے۔ اس وعدے پر البتہ برطانیہ قائم رہا۔ 1946 میں جنگ کے خاتمے کے کچھ ہی ماہ بعد شام کو فرانس سے آزادی مل گئی۔ انتخابات ہوئے۔ شام ہمیشہ سے عرب دنیا کا ایک امیر ترین علاقہ تھا۔ انتخابات کے بعد ایک جمہوری حکومت بھی قائم ہو گئی۔
مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم رکھنے کے لئے امریکی CIA کی روایتی قتل و غارت
جی ہاں، اس موقع پر امریکی CIA کو کوئی تکلیف ہوئی اور 1949 میں منتخب شامی صدر کو قتل کر دیا گیا جس کے بعد اگلے 21 سال تک مسلسل شام میں افراتفری جاری رہی۔ ایک کے بعد ایک بغاوت، ایک کے بعد ایک قتل، ایک کے بعد ایک حکومت کی تبدیلی ہوتی رہی اور جمہوریت شام میں کبھی لوٹ کر نہ آئی۔ 1958 میں شام اس حد تک کمزور ہو چکا تھا کہ اس نے مصری حکومت سے التجا کی کہ یہ شام کو مصر کا حصہ بنا لے۔ جمال عبدالناصر اس وقت مصر کا صدر تھا جو کہ Pan-Arabism میں یقین رکھتا تھا۔ شام کو خطرہ تھا کہ کمیونسٹ اس پر قبضہ کر لیں گے۔ ناصر سوشلسٹ تھا، یہ کمیونسٹس سے نفرت کرتا تھا۔ اس نے شام کو مصر کا حصہ بنا لیا۔ یہ معاہدہ لیکن صرف تین سال جاری رہا۔ ایک وقت میں اس میں سوڈان اور یمن بھی شامل ہو گئے تھے لیکن سوڈان فوراً ہی الگ ہو گیا اور تین سال بعد شام بھی اس ریاست سے الگ ہو گیا۔ ناصر پر الزام تھا کہ اس نے شامیوں کو برابری کی عزت نہیں دی۔
برطانیہ اور فرانس کی پیٹھ میں امریکی چھرا
امریکہ کے Truman Doctrine کے مطابق امریکہ پابند تھا کہ دنیا بھر میں کہیں بھی اگر Communism کا غلبہ ہو جائے تو یہ اسے روکے گا اور اس کے لئے قتل، جنگ، سازش کچھ بھی کرنا پڑے، کر کے رہے گا۔ مگر Eisenhower Doctrine نے اس میں ایک بنیادی تبدیلی کی۔ وہ یہ کہ Communism سے قبل برطانوی اور فرانسیسی سلطنتوں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ جی ہاں۔ یاد رہے کہ یہ دونوں امریکہ کے NATO اتحادی بھی تھے۔ اس نئے نظریے کے مطابق امریکہ کی دوسری ترجیح Pan-Arabism کو روکنا تھا۔ اور تیسری ترجیح Communism کے پھیلاؤ کو روکنا تھا۔ لہٰذا عراق میں برطانیہ کے خلاف امریکہ نے کمیونسٹس کی حمایت کی اور انہوں نے سوشلسٹوں کے ساتھ ایک مشترکہ حکومت قائم کر لی۔ اب عراق United Arab Republic میں شامل ہونا چاہتا تھا اور یہ کویت کو بھی واپس عراق میں شامل کرنا چاہتا تھا جو کہ عراق کے صوبے بصرہ سے کاٹ کر علیحدہ ملک بنایا گیا تھا۔
اب Pan-Arabism کو روکنا تھا۔ لہٰذا امریکہ نے لبنان پر حملہ کر دیا جس سے عراق اور مصر کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ اگر انہوں نے اکٹھے ہونے کی کوشش کی تو اس کے خوفناک نتائج ہوں گے۔ عراق کو بھی بتا دیا گیا کہ فوراً کویت پر سے اپنا دعویٰ ختم کرے جو کہ عراق نے کیا بھی۔ اس کے بعد عراق میں عبدالکریم قاسم کی کمیونسٹ حکومت قائم کر دی گئی تاکہ سوشلسٹوں کا عراق کو United Arab Republic کا حصہ بنانے کا کا خواب پورا نہ ہو سکے۔
اس Pan-Arabism کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر آپ عراق، سوڈان، شام، یمن، مصر کے جھنڈے دیکھیں تو ان میں معمولی سی تبدیلیاں ہیں لیکن یہ سب ایک ہی جیسے دکھتے ہیں۔ ان سب کے پرچم پر سرخ، سفید اور سیاہ پٹیاں ہیں۔ شام پر HTS کے قبضے کے بعد پہلی تبدیلی اسی جھنڈے پر سرخ پٹی کو ہٹا کر سبز پٹی لگا کر کی گئی تھی۔
اور اب باری تھی کمیونسٹس کی۔ 1963 میں کمیونسٹ قاسم کو بھی مبینہ طور پر CIA نے قتل کروا دیا لہٰذا عراق میں بھی کمیونسٹ حکومت ختم ہو گئی۔ اور چند سالوں کی ابتری کے بعد امریکہ کے پٹھو صدام حسین نے عراق پر حکومت قائم کر لی۔ یوں Pan-Arabism کا عراق سے ہمیشہ کے لئے نام مٹ گیا۔
امریکہ کی ناجائز ترین اولاد: اسرائیل
1948 میں امریکہ نے اسرائیل پیدا کیا۔ فلسطین کے کچھ حصوں پر اسرائیل قائم کیا گیا جب کہ کچھ حصوں پر عربوں کا حق تسلیم کیا گیا۔ اس وقت اسرائیلیوں کے پاس فلسطین کے صرف 5 فیصد حصے کے مالکانہ حقوق تھے لیکن فلسطین کے کل رقبے کا 55 فیصد اسرائیلی ریاست کا حصہ بنا دیا گیا یعنی 50 فیصد علاقہ ان کو مفت میں تھما دیا گیا کیونکہ امریکہ کو خطے میں اپنا ایک قابلِ اعتماد دلال چاہیے تھا۔ ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کی گئی کہ یہ 55 فیصد علاقہ تو صرف اسرائیلیوں کا ہوگا لیکن جو بقیہ 45 فیصد حصے پر فلسطین بنے گا یہ ایک سیکولر عرب ریاست ہوگی جس میں یہودی، مسیحی، مسلمان سب مل کر رہیں گے۔ عربوں کے لئے ظاہر ہے یہ ناقابلِ قبول تھا کہ یہودیوں کے لئے تو ایک پورا ملک ہو لیکن باقی ان کے حصے میں سب اکٹھے رہیں۔ 1948 میں عربوں نے بغاوت کی بھی مگر شکست کھائی جس کے نتیجے میں 72 فیصد علاقہ اسرائیل کے حصے میں آ گیا۔ یہ عربوں کے لئے یوں تو سبق ہونا چاہیے تھا کہ گورے کوئی اس کے سگے نہیں، صرف اپنے مفاد کی خاطر عثمانیوں سے ان کو لڑوا رہے تھے۔ لیکن یہ آج بھی نسلی تعصب میں غرق انہی عطار کے لڑکوں سے دوا لینے پر مُصر ہیں۔
اسرائیل کو روزِ اوّل سے ہی سمجھ آ گئی تھی کہ ایک متحدہ عرب ریاست اس کے لئے موت کا پروانہ ہوگی۔ دوسری جانب عربوں کے لئے یہ متحدہ ریاست جمال عبدالناصر کی قیادت میں ہی ممکن تھی۔ 1952 میں مصر کے انقلاب کے بعد ناصر اقتدار سنبھال چکا تھا اور یہ تیزی سے دنیا بھر میں اتحاد قائم کر رہا تھا۔ برطانیہ اور امریکہ اسے اسلحہ بیچنے کے لئے تیار نہیں تھے سو اس نے روسی اتحادی چیکو سلوواکیہ سے ٹینک خریدنے کا فیصلہ کیا۔ اس پر ناراض ہو کر امریکہ اور برطانیہ نے مصر میں ایک ڈیم کی فنڈنگ روک دی۔ جواباً ناصر نے 1956 میں سویز کنال کو قومیا لیا جس سے حاصل ہونے والی رقم سے اس نے اسوان ہائی ڈیم کی تعمیر جاری رکھی۔
اس انتہائی اقدام پر سیخ پا ہو کر برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مل کر مصر پر حملہ کر دیا۔ امریکہ نے لیکن برطانیہ اور فرانس کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔ کیونکہ یاد ہے نا؟ آئزن ہاور ڈاکٹرائن؟ اسی نظریے کے تحت صدر آئزن ہاور نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں جا کر مطالبہ کیا کہ برطانیہ اور فرانس فوراً مصر سے نکلیں۔ 1956 میں امریکہ کو دنیا میں کوئی انکار کرنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ ایک ایسا پاگل ملک جس نے جاپان پر چند برس پہلے ایٹم بم گرا دیا ہو، کوئی اس سے پنگا لینے کا تصور بھی کیسے کر سکتا تھا؟ مصر کا ساتھ دے کر امریکہ نے ایک ہی ہلے میں برطانیہ اور فرانس کے عالمی غلبے کا خاتمہ کر دیا۔
ناجائز اولاد کا نخرہ
برطانیہ اور فرانس کو تو سبکی ہوئی۔ اسرائیل لیکن ناصر کو اقتدار سے نکالنے پر تلا رہا۔ اس زمانے میں West Bank اور یروشلم اردن کا حصہ تھے۔ اسرائیل نے اردن کے اندر موجود West Bank میں قائم فلسطینیوں کے مہاجر کیمپوں پر حملے شروع کر دیے۔ یہ حملے جب کئی سال جاری رہے تو اردن کے شاہ حسین نے مصر سے مدد مانگی لیکن مصر پہلے ہی یمنی خانہ جنگی میں پھنسا ہوا تھا اور شاہ حسین کے مطالبے پر عمل کرنا ناصر کے لئے ممکن نہیں رہا تھا۔ مصر یمن میں جمہوریت کے حامیوں کی مدد کر رہا تھا جب کہ سعودی عرب، اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ بادشاہت کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ جمہوریت کا مطلب لامحالہ سوشلسٹ حکومت کا قیام ہوتا اور یہ ان ممالک کے لئے ناقابلِ قبول تھا۔
تاہم، ناصر نے Straits of Tiran کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ مضیقِ تیران سے اسرائیل کی صرف 1 فیصد درآمدات ہوتی تھیں لیکن مصر نے اسے ایک سیاسی بیانیہ بنانے کے لئے استعمال کیا۔ اسرائیل البتہ زیادہ بہتر بیانیہ بنا گیا۔ اس نے مغربی میڈیا کو بتایا کہ اس کی معاشی شہ رگ کاٹ دی گئی ہے لہٰذا اسے جارح نہیں دفاعی حملہ کرنا ہی ہوگا۔ اس نے بیک وقت مصر، شام اور اردن پر حملہ کر دیا۔ مصریوں کے لئے یہ ایک بڑا surprise تھا۔ یہ اس وقت تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان پر حملہ ہو جائے گا۔ ان کے تمام 222 جنگی جہاز رن وے پر ہی تباہ کر دیے گئے۔ چھ دن کی اس جنگ میں اسرائیل نے ان تینوں ممالک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور گولان ہائیٹس، West Bank، غزہ اور سنائی پر قبضہ کر لیا۔
اسد خاندان کی انٹری
1967 کی چھ دن کی جنگ میں شام کو بری طرح شکست ہوئی تھی۔ البتہ 1970 میں حافظ الاسد نے شام میں عنانِ اقتدار سنبھالی تو یہ بتدریج ملک میں امن و استحکام لایا جس کے بعد بار بار حکومتوں کی تبدیلی ختم ہو گئی اور اگلے 30 سال یعنی اپنی موت کے وقت تک حافظ الاسد شام کا حکمران رہا۔
اس دوران 1979 میں انقلاب کے نتیجے میں ایران میں امام خمینی کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس وقت تک ایران کو امریکہ کا دنیا میں شاید سب سے بڑا اتحادی کہا جا سکتا تھا۔ انقلاب نے امریکیوں کو بھی مشکل میں ڈال دیا۔ خمینی کسی سمجھوتے کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس سے نمٹنے کے لئے امریکہ نے عراق کے حکمران صدام حسین کو ایران پر حملے کی ترغیب دی اور اسے بے حساب اسلحہ فراہم کیا۔ یہ جنگ 8 سال جاری رہی۔ 10 لاکھ لوگ مرے۔ دونوں ملکوں کی سرحدیں وہیں کی وہیں رہیں جہاں جنگ سے پہلے تھیں۔ لیکن ایران اور عراق دونوں کی معیشتیں برباد ہو کر رہ گئیں۔
کویت پر حملے کی شہ اور پھر U-turn
جنگ کے بعد ایران اور عراق کے تیل پیدا کرنے والے دوستوں نے ان دونوں کی معیشتوں کو سنبھالا دینے کی خاطر OPEC کی سطح پر فیصلہ کیا کہ ان دونوں کو تیل زیادہ نکالنے دیا جائے۔ لیکن اس دوران کویت جو کہ خود بھی OPEC کا رکن تھا، عراق کا تیل چوری کر کے مارکیٹ میں بیچنے لگا تاکہ تیل کی عالمی منڈی میں قیمتیں گر جائیں اور عراقی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی نہ ہو سکے۔ عراق کے مطالبے پر اقوام متحدہ نے تفتیش کی اور عراق کو حق پر قرار دیا۔ صدام نے عراق میں امریکی سفیر کو بتایا کہ کویت کا ہمیں کچھ کرنا ہوگا جس پر اسے جواب دیا گیا کہ عرب آپس میں جو مرضی کریں اس کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ واضح اشارہ تھا کہ عراق کویت پر حملہ کرنے میں آزاد ہے لیکن جب صدام نے یہ اقدام اٹھایا اور 24 گھنٹے کے اندر کویت پر قبضہ کر لیا تو امریکہ نے عراق پر حملہ کر دیا جس میں 1 لاکھ 85 ہزار عراقی شہری قتل کر دیے گئے۔ امریکہ نے عراق کو ادویات اور خوراک کی فراہمی پر پابندیاں عائد کیں جس سے لاکھوں شہری ہر سال مرتے رہے۔ 1991 سے 2011 کے درمیان امریکی حملوں اور اس کی پالیسیوں کے باعث عراق میں قریب 30 لاکھ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
Al-Qaeda in Iraq
2004 میں 'عراق میں القاعدہ' قائم ہو گئی۔ یاد رہے کہ القاعدہ عراق میں پہلے سے موجود تھی لیکن یہ بنیادی طور پر کردوں کے علاقوں میں تھی اور اس کو خود امریکی CIA فنڈ کرتی تھی۔ لیکن یہ نئی القاعدہ جسے AQI یا Alqaeda in Iraq کہا جاتا تھا اس پرانی القاعدہ کی دشمن تھی۔ اس نئی القاعدہ میں صدام حسین کی فوج اور اس کے قریبی انتظامیہ کے لوگ شامل تھے۔ یہ امریکہ سے حقیقی نفرت رکھتے تھے۔ اگلے دو سال AQI نے امریکیوں کی عراق میں زندگی حرام کر ڈالی۔ جواباً جنرل پیٹریاس نے عراق میں قبائلی جنگجوؤں کو پیسہ دینا شروع کیا کہ وہ القاعدہ سے لڑیں۔ اگلے دو سال میں ان قبائلی جنگجوؤں نے AQI کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ اس کے کارکن عراق سے فرار ہونے لگے اور انہیں پناہ دینے والا تھا ۔۔۔۔ شام کا صدر بشار الاسد۔
بشار الاسد نے سوچا کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے لہٰذا AQI کو پناہ دے کر وہ عراق میں امریکیوں کے لئے مشکل پیدا کر سکے گا۔ لیکن اسی دوران 2011 میں Arab Spring شروع ہو گیا۔ پوری عرب دنیا میں جمہوریت آنے کے نام پر ایسا خوفناک کشت و خون کا بازار گرم ہوا کہ آج تک تھمنے میں نہیں آیا۔
شام میں۔۔۔ بشار الاسد نے بدترین تشدد کے ذریعے Arab Spring کو دبانے کی کوشش کی۔ مخالفین نے بھی جواباً ہتھیار اٹھا لیے۔ عراق میں جاری 8 سالہ جنگ اور اسلحے کی ریل پیل نے اسلحے کی غیر قانونی ایک نئی مارکیٹ قائم کر دی تھی اور شام میں خانہ جنگی کی ابتدا میں یہی اسلحہ استعمال ہوا تھا۔ لیکن پھر بشار الاسد کے عالمی مخالفین نے بھی شامی اپوزیشن کو پیسہ اور ہتھیار فراہم کرنا شروع کر دیے۔
اب شام میں 5 گروپ ابھر کر سامنے آئے:
1) حکومت
2) جبهة النصرة (یعنی القاعدہ شام)
3) Free Syrian Army (امریکہ، سعودی عرب اور ترکیہ کے حمایت یافتہ)
4) AQI یعنی القاعدہ، عراق
5) کرد
القاعدہ، عراق کے لئے یہ بہترین موقع تھا کہ وہ اس افراتفری کے ماحول میں اپنی جگہ بنا سکے۔ اس نے اپنا نام تبدیل کر کے ISIL یعنی Islamic State in Iraq and Levant یا داعش یعنی دولت الاسلامیۃ العراق والشام رکھ لیا۔ یاد رہے کہ AQI سے اصلی القاعدہ پہلے ہی دوری اختیار کر چکی تھی کیونکہ AQI کا سربراہ ابو مصعب الزرقاوی عراق میں اہل تشیع پر مظالم کے لئے مشہور تھا اور نظریاتی ہم آہنگی اپنی جگہ مگر القاعدہ کا ہدف امریکہ اور وہ ریاستیں تھیں جو امریکہ کا ساتھ دے رہی تھیں، اس کے اہداف میں اسلام کے دیگر مسالک شامل نہیں تھے۔
اس جنگ میں داعش کو بہت تیزی سے کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ دوسری جانبFree Syrian Army کو زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی۔ داعش کی قتل و غارت کی ویڈیوز یوٹیوب پر سرِعام موجود تھیں۔ اس کا رسالہ دبیق، اس کی ویب سائٹ اس کی خوفناک ترین کارروائیوں کی بڑھ چرھ کر ترویج کرتا۔ یہ مناظر اس قدر خوفناک تھے کہ ایک موقع پر شامی القاعدہ یعنی جبهة النصرة نے داعش کو پیشکش کی کہ لوگوں کو قتل نہ کریں، انہیں ہمیں دے دیا کریں۔ جبهة النصرة نے داعش کو رقم کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے چند امریکی شہریوں کو خرید کر امریکہ کو واپس بھی کیا۔
داعش کی عراق میں واپسی
2014 میں 700 داعش جنگجو واپس عراق میں داخل ہوئے اور انہوں نے صرف دو ہفتے میں 30 ہزار عراقی فوج کو ٹینک، ہیلی کاپٹر، جنگی جہاز اور جدید ترین امریکی اسلحہ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ ایک موقع پر داعش بغداد میں گھسنے کو بالکل تیار بیٹھی تھی لیکن ناکام رہی۔ موصل پر داعش کا قبضہ ہو چکا تھا جس میں واقع دریائے دجلہ پر بنا ڈیم عراق کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے اور اس کی زراعت میں بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
دوسری جانب اربیل جہاں کرد بڑی تعداد میں آباد ہیں اور یہ علاقہ عراقی فوج کی عملداری سے کئی سالوں سے باہر ہے، داعش اس پر بھی قبضہ کرنے کے قریب تھی۔ کُرد فوجیں عراق میں کسی بھی دوسرے گروپ کے مقابلے میں زیادہ تربیت یافتہ اور سخت جان ہیں۔ لیکن جب ان کی بھی داعش کے ہاتھوں شامت آئی تو امریکہ کی بس ہو گئی۔ اس نے داعش پر بمباری شروع کر دی۔ اسی موقع پر سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر نے بھی امریکہ کی اس بمباری میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دیا۔
خطے میں کھچڑی
یہیں ایران بھی سرگرم ہو گیا۔ یہ پہلے سے ہی عراق میں جنگجو بھیج رہا تھا۔ اس نے عراق میں ہر قیمت پر ISIL کا مقابلہ کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ امریکہ کے لئے یہ صورتحال انتہائی پیچیدہ تھی۔ شام میں بشارالاسد اور حزب اللہ داعش سے نبرد آزما تھیں جب کہ عراق میں ایک ایران نواز حکومت قائم ہو چکی تھی۔ اب ایک طرف امریکہ داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہا تھا اور شام میں حزب اللہ بھی داعش سے لڑنے پہنچ چکی تھی مگر اسی موقع پر اسرائیل نے شام میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری بھی شروع کر دی۔ ترکیہ بھی جنگ میں کود پڑا۔ اب یہ تین اتحادی یعنی اسرائیل، امریکہ اور ترکیہ شام میں بیک وقت ایک دوسرے کے اتحادیوں پر بمباری کر رہے تھے۔ داعش کردوں پر، امریکہ داعش پر، اسرائیل حزب اللہ پر، حزب اللہ داعش پر، اور ترکیہ کردوں پر حملہ آور تھے۔
اسی موقع پر یمن میں بھی خانہ جنگی شروع ہو گئی جہاں ایران نے حوثی باغیوں کی مدد کی تھی اور یہ گروہ صدر ہادی کو اقتدار سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ غزہ پر حالیہ اسرائیلی بمباری میں یہی حوثی تھے جنہوں نے امریکہ اور اسرائیل کا بحیرہ احمر میں ناطقہ بند کیے رکھا۔
بشار الاسد اور ایران کی فتح
تاہم، اگلے چند برسوں میں بشار الاسد نے ایران اور حزب اللہ کی مدد سے کچھ یوں مخالفین کو ختم کیا جیسے دودھ میں سے مکھی نکالی جاتی ہے۔ طریقہ واردات یہ تھا کہ ایرانی انٹیلیجنس شام میں داعش کو خبر لیک کرتی کہ آج بشار الاسد کی ایئر فورس فلاں علاقے میں اپوزیشن ٹھکانوں پر بمباری کرے گی اور یہ بہترین موقع ہے کہ اپوزیشن کے چھوڑے ہوئے علاقے پر قبضہ کر لیا جائے۔ ایسا ہی ہوتا۔ بشار الاسد کی مخالفت زیادہ تر سنی اکثریتی علاقوں میں تھی اور انہی میں داعش کی بھی قبولیت موجود تھی۔ رفتہ رفتہ بشار الاسد کی حقیقی اپوزیشن راستے سے صاف ہو گئی اور دنیا کے سامنے دو ہی آپشن باقی بچ گئیں، بشار الاسد کی حمایت یا پھر داعش کی۔ یقیناً فیصلہ بشار الاسد کے حق میں ہی ہونا تھا۔ داعش پر کون اعتماد کر سکتا تھا؟ روس، ایران، حزب اللہ کی گراؤنڈ فورس اور بشار الاسد کی ریاستی مشینری نے داعش سمیت تمام باغیوں کو کچل کر رکھ دیا۔ یوں بشار الاسد شام کا ایک بار پھر بلا شرکتِ غیرے حکمران بن گیا جب کہ ایران خطے کا سب سے طاقتور ملک۔ یہ نظام اگلے چند برس جاری رہا۔
7 اکتوبر، ایک نئے مشرقِ وسطیٰ کا جنم
7 اکتوبر 2023۔۔۔ یہ صرف حماس کا اسرائیل پر حملہ نہیں تھا۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کی شکل و صورت تبدیل کرنے کا اعلان تھا۔ تب سے اب تک اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری میں ہزاروں افراد کی جانیں جا چکی ہیں جن میں حماس کی تمام صفِ اول کی قیادت بھی شامل ہے۔ حزب اللہ کی تمام صفِ اول کی قیادت کو صفحۂ ہستی سے مٹایا جا چکا ہے۔ ایران کے متعدد فوجی اور انٹیلیجنس افسران کو قتل کیا جا چکا ہے اور لبنان پر خوفناک بمباری کے بعد جب اسرائیل نے حزب اللہ کا ڈنک نکال دیا تبھی شام کی باری آئی۔ ترکیہ نے 2013 سے جن دہشتگردوں کو کردوں کے خلاف استعمال کر رکھا تھا، انہیں ایک بار پھر سرگرم کیا۔ بشار الاسد جو کہ پہلے بھی ایک انتہائی کمزور حکمران تھا، اس بار بالکل ہی ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ اس کا سرپرست ایران خود اس وقت سکیورٹی کے اعتبار سے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ اس کی تمام پراکسیز ایک ایک کر کے شکست و ریخت کا شکار ہو رہی ہیں۔ پچھلی مرتبہ گراؤنڈ پر لڑنے والے حزب اللہ کے کمانڈو بھی اب اسد کی مدد کے لئے نہیں آ سکتے تھے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر سے فاطمیون اور زینبیون کمانڈرز جو اکٹھے کیے گئے تھے اس بار وہ بھی اکٹھے کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ اسد کی فوج جو گذشتہ ایک دہائی سے مسلسل جنگ لڑ لڑ کر اب اوب چکی تھی، اس میں بشار الاسد کے لئے مزید لڑنے کی کوئی خواہش موجود نہیں تھی۔ اس نے بھاگ کھڑے ہونے میں ہی عافیت جانی۔
یاد رہے کہ اس بار بشار الاسد کے اپنے قبیل یعنی علویوں نے بھی اس کا کھل کر ساتھ نہیں دیا۔ ہیئۃ تحریر الشام کے لئے دمشق پہنچنا انتہائی مشکل ہوتا اگر اسماعیلی شیعہ اسد کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے لیکن انہوں نے بھی باغیوں کو اپنے علاقوں سے گزرنے کی اجازت دے دی۔
یہاں HTS کی سیاسی حکمت عملی کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی۔ یہ گذشتہ تین، چار سال سے مسلسل سیاسی طور پر اپنے علاقوں میں کام کرتے رہے تھے۔ انہوں نے تمام ایسے گروپس سے اتحاد کیے جو کسی بھی وجہ سے اسد کے ساتھ کھڑے ہو سکتے تھے۔ یہ علوی اور اسماعیلی شیعہ بھی ایسے ہی گروہوں میں شامل تھے۔ HTS نے اس کے ساتھ ساتھ خود کو القاعدہ اور داعش نظریات سے بھی دور کرنے کی کوشش کی۔ خود کو اعتدال پسند اسلامی تنظیم بنا کر پیش کیا اور غیر سنی گروہوں سے اتحاد کر کے خود کو بشار الاسد کے خلاف ایک طاقتور اور قابلِ عمل متبادل بنا کر پیش کیا۔
اسد بھی جانتا تھا کہ اس کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔ یہ اپنی فوج کی قابلیت اور ان کے اندر لڑنے مرنے کے جذبۂ ناپید سے بھی آشنا تھا۔ لہٰذا محض دو ہفتے کے اندر اندر دمشق پر باغیوں کا قبضہ ہوا تو اس وقت تک بشار الاسد بھاگ کر ماسکو پہنچ چکا تھا جب کہ ترکیہ کا انٹیلیجنس سربراہ دمشق میں فتح کا جشن مناتا دکھائی دے رہا تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے چند برس قبل جنرل فیض حمید کابل میں کھڑا خوش فہمی کا شکار تھا کہ "سب ٹھیک ہوگا"۔
تاہم، اسرائیل گولان ہائیٹس کے اس "غیر مسلح" علاقے میں ایک بار پھر اپنی فوجیں لے جا چکا ہے جسے ایک buffer zone کے طور پر دونوں ملکوں کے درمیان چھوڑ دیا گیا تھا۔ اسد جیسے مسلم حکمرانوں کی نااہلی اور مسلم ریاستوں کی آپسی لڑائیوں میں ایک بار پھر نقصان خود ان مسلم حکمرانوں اور ریاستوں ہی کا ہوا۔ ایسے میں اغیار بیٹھ کر ہمارا ٹھٹھا نہ اڑائیں تو کیوں؟