تحریک انصاف نے قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا، علی امین بطور وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا شرکت کرینگے

اجلاس میں عسکری قیادت پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی، آرمی چیف اور وزیر اعظم اجلاس میں پہنچ گئے ،بانی پی ٹی آئی کو پے رول پر رہا کیا جائے تاکہ وہ اجلاس میں شرکت کرسکیں،ہماری طرف سے کوئی نمائندہ اجلاس میں نہیں جائے گا ،سلمان اکرم راجہ

12:25 PM, 18 Mar, 2025

نیوز ڈیسک

اسلام آباد:قومی سلامتی کی صورت حال پر پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سمیت دیگر رہنما پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے، عسکری قیادت کی جانب سے بریفنگ دی جائے گی۔

اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچنے والوں میں وزیراعظم، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم او، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر شامل ہیں۔قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اِن کیمرہ منعقد ہوگا جس میں سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔ اجلاس میں عسکری قیادت، پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔

قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس قومی اسمبلی ہال میں منعقد ہوگا۔ترجمان کے مطابق اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور ان کے نامزد کردہ نمائندگان شرکت کریں گے۔ علاوہ ازیں متعلقہ اراکین کابینہ بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

پی ٹی آئی نے قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ،پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم کا کہنا ہے کہ ہماری طرف سے کوئی نمائندہ اجلاس میں نہیں جائے گا۔ علی امین گنڈا پور بطور وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا شرکت کرینگے۔ عمر ایوب نے کہا کہ علی امین گنڈا پور اجلاس میں پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کرینگے، صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کواعتماد میں لیے بغیرآگے نہیں بڑھ سکتے۔

سلمان اکرم راجہ

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ علی امین گنڈا پور بطوروزیراعلیٰ اجلاس میں شریک ہونگے، اس وقت ہم کسی بھی آپریشن کے حق میں نہیں ہیں، 77سالوں سے ان حالات کا شکار ہیں اور اس حالات کے حق میں نہیں۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم نے اس میٹنگ میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ہے، گزشتہ روز سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں ہم نے فیصلہ کیا ، ہماری طرف سے کوئی نمائندہ میٹنگ میں نہیں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو پے رول پر رہا کیا جائے تاکہ وہ اجلاس میں شرکت کرسکیں، ہم پاکستان کے ہر پسماندہ طبقات کے لوگوں کے حقوق دلوانے ہیں، ہم نے اس ملک کو ٹھیک کرنا ہے اور فسطائیت کا خاتمہ کرنا ہے۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تمام اراکین کو بولنے کی اجازت دی جائے، حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی، جعلی حکومت ملک پر مسلط کی گئی، ملک کو بحران سے نکلنے کے لیے پارلیمنٹ کو آگے بڑھنا چاہیے۔

عمرایوب

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ میں نے کل اسپیکر قومی اسمبلی کو مشروط خط لکھا ہے، ہمیں کورٹ آرڈر کے ساتھ بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا جاتا ہے، کل ایک اچانک قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا۔عمر ایوب نے کہا کہ اچانک اجلاس بلایا گیا، بانی سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ کی حیثیت کے طور پر جائیں گے، علی امین گنڈا پوراجلاس میں پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کریں گے۔

صاحبزادہ حامد رضا

صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ہم نے اس کمرے میں بیٹھ کران کیمرہ اجلاس کا مطالبہ کیا تھا، گزشتہ روز ہم نے اپنے نمائندوں کے نام دیئے جو مشروط تھے۔ ہم نے اس کمرے میں بیٹھ کر ان کیمرہ اجلاس کامطالبہ کیا تھا، بلوچستان کے دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کے نمائندوں کو بلائے بغیرحل نہیں نکل سکتا۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ روزہم نے اپنے نمائندوں کے نام دیے جو مشروط تھے، ہم نے سیاسی کمیٹی کا اجلاس بلایا، جس میں ہم نے فیصلہ کیا کہ کمیٹی میں نہیں جائیں گے، پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں ہم نے فیصلہ کیا ہے، ہم عمرایوب اوراسپیکر قومی اسمبلی کوخط لکھیں گے۔

صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے دوران ساری ساری رات اسمبلی کے اجلاس ہوتے رہے، ملک کی خود مختاری کا مسئلہ ہے، پارلمنٹ کا جوائنٹ سیشن بلایا جائے، بانی بڑے لیڈر ہیں ان کو اعتماد میں لیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، بانی کو اعتماد میں لیے بغیر عوامی سپورٹ نہیں ملے گی، آپریشن کی بجائے مذاکرات پرغور کرنا چاہیے۔

محمود خان اچکزئی

محمود خان اچکزئی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان انتہائی خطرناک دور سے گزر رہا ہے، دوران الیکشن رات 9 بجے کے بعد جتنی پارٹیوں کو ہرایا گیا، پارلیمنٹ کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ جوائنٹ سیشن میں ہرایم این اے کو بات کرنے کا موقع دیا جائے، سپرنٹنڈنٹ جیل بانی پی ٹی آئی ملاقات کی اجازت نہیں دیتا، یہ اعلان کر دیا جائے کہ بانی پی ٹی آئی خطرناک آدمی ہے، خطرناک آدمی سے ملنے کی اجازت نہیں۔ ہم اجلاس میں جائیں گے تو وہ بعد میں کہیں گے کہ فلاں نے اختلاف کیا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی ایڈوائس پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا تھا۔

مزیدخبریں