زندگی ایک راز ہے

زندگی کا راز "مقامِ بندگی" میں پوشیدہ ہے، وہی لوگ اس راز کو سمجھ پاتے ہیں جو اپنی خواہشات کی غلامی سے نکل کر اپنے معبود کی رضا میں اپنی رضا کو فنا کر دیتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے علامہ اقبال نے اپنے کلام میں بارہا بیان کیا۔ اگر ہم اس راز کو پالیں، تو ہماری زندگی حقیقی معنوں میں با مقصد اور بامعنی ہو جائے

04:25 PM, 18 Mar, 2025

تحریر:(اکرم الوری)

یہ راز کیا ہے؟ انسان یہ راز صرف اپنے من کی دنیا میں ڈوب کر ہی پا سکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اپنے من میں کیسے ڈوبا جائے؟ یہ سوال ہر دور کے مفکرین، صوفیا اور حکما کے لیے ایک معمہ رہا ہے۔ مشرق و مغرب کے فلسفیوں نے اپنی اپنی بصیرت کے مطابق اس کا جواب دینے کی کوشش کی، لیکن اس حقیقت کا دروازہ ہر کسی پر نہیں کھلتا۔

علامہ اقبال، جو انسانی خودی کے سب سے بڑے ترجمان ہیں، ہمیں مشاہدۂ حیات میں شریک کرتے ہیں۔ وہ کائنات کو مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کبھی انہیں دنیا حیرت کدۂ امروز و فردا محسوس ہوتی ہے، تو کبھی وہ اسے یوں بیان کرتے ہیں:

"یہ جہاں عجب جہاں ہے، نہ قفس نہ آشیانہ!"

کبھی وہ زندگی اور موت کی قیود میں الجھے نظر آتے ہیں، تو کبھی انہیں اس کائنات کی حقیقت بے ثباتی میں دکھائی دیتی ہے۔ مگر آخرکار وہ اس پریشان نظری کا علاج تلاش کر لیتے ہیں، اور وہ علاج ہے "مقامِ بندگی" کا حصول۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسان اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے، اور وہ راز افشا ہوتا ہے جس کی جستجو میں انسان زندگی بھر بھٹکتا رہتا ہے۔جب علامہ اقبال نے زندگی کا راز پا لیا، تو وہ بے ساختہ پکار اٹھے:

"متاعِ بے بہا ہے سوز و سازِ آرزومندی

مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی"

یہاں اقبال ہمیں خودی کے فلسفے کی معراج پر لے جاتے ہیں، جہاں عبد اور معبود کے درمیان وہ نسبت استوار ہوتی ہے جو خودی کو استحکام بخشتی ہے۔ خودی کی اصل بلندی "مقامِ بندگی" میں پنہاں ہے، کیونکہ بندگی کے بغیر خودی ناتمام رہتی ہے۔ یہ بندگی غلامی نہیں، بلکہ حقیقی آزادی کی وہ صورت ہے جہاں انسان اپنے نفس کے چنگل سے نکل کر خدائی رازوں کی جستجو میں سرگرداں ہوتا ہے۔اسی حقیقت کو وہ ایک اور مقام پر یوں بیان کرتے ہیں:

"تب و تابِ ہستی ما ز نیازمندی ما

تو خدایِ بے نیازی، نرسی بسوز و سازم"

یہی وہ راز ہے جو پیغمبرانِ کرام کی تعلیمات کا مرکز و محور رہا ہے۔ تمام آسمانی ادیان اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ اپنشدوں میں لکھا ہے:

"انسان خود کو خود ہی پابند کر لیتا ہے، جیسے پرندہ اپنے آشیانے کی بدولت قید ہو جاتا ہے۔ مگر انسانی روح جہاں بھی پہنچے، اسے مزید آگے جانے کی خواہش رہتی ہے۔ اگر وہ آسمان پر پہنچ جائے، تو چاہتی ہے کہ اس کے آگے بھی کوئی جہان ہو۔"یہی جستجو دراصل زندگی کا جوہر ہے۔ زندگی ایک مسلسل سفر ہے، ایک ارتقائی عمل، جس میں رک جانا موت کے مترادف ہے۔ اقبال اسی حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں:

"حیات، ذوقِ سفر کے سوا کچھ بھی نہیں

شاہیں کے لیے ذلت ہے کارِ آشیانہ بندی"

یہاں "شاہین" دراصل اس مردِ مومن کی علامت ہے جو مقامِ بندگی اختیار کر کے تسخیرِ کائنات کا اہل بن جاتا ہے۔ وہ دنیاوی قید و بند سے نکل کر اپنی اصل منزل کی طرف گامزن ہوتا ہے، اور یہی حقیقی خودی کی معراج ہے۔

مقامِ بندگی وہ معراج ہے جہاں انسان خدا کے قریب ہوتا ہے، اس کے رازوں میں شریک ہوتا ہے، اور اس کے نور سے اپنا وجود منور کر لیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسانی عظمت اپنی بلند ترین صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ مگر یہ مقام کسی عام انسان کو نہیں ملتا، بلکہ وہی لوگ اس کے اہل قرار پاتے ہیں جو اپنی انا کو مٹا کر خدا کی رضا میں اپنی رضا کو فنا کر دیتے ہیں۔اقبال فرماتے ہیں:

"غوّاصِ محبّت کا اللہ نگہباں ہو

ہر قطرۂ دریا میں دریا کی ہے گہرائی"

یہاں "غوّاصِ محبّت" اس بندۂ مومن کا استعارہ ہے جو مقامِ بندگی کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے اور حقیقی معرفت کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ مگر یہ راستہ آسان نہیں۔ اس میں محبت، ایثار، قربانی، اور استقامت درکار ہوتی ہے۔ اسی راستے پر چل کر انسان کمال کی طرف بڑھتا ہے، اور یہی وہ "رازِ زندگی" ہے جو علامہ اقبال ہمیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

حصولِ کمال کا سب سے بڑا ذریعہ اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ہی وہ معیار ہے جو ایک انسان کو اعلیٰ مقام تک پہنچا سکتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"

(بے شک، تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔)

یہاں یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قرآن حکیم ہی وہ منشور ہے جو مقامِ بندگی کے حصول کا حقیقی لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔ اگر کوئی انسان مقامِ بندگی کا طالب ہے، تو اسے قرآن کی طرف رجوع کرنا ہوگا، کیونکہ یہی وہ سرچشمہ ہے جہاں سے نورِ ہدایت پھوٹتا ہے۔

زندگی کا راز "مقامِ بندگی" میں پوشیدہ ہے۔ وہی لوگ اس راز کو سمجھ پاتے ہیں جو اپنی خواہشات کی غلامی سے نکل کر اپنے معبود کی رضا میں اپنی رضا کو فنا کر دیتے ہیں۔یہی وہ حقیقت ہے جسے علامہ اقبال نے اپنے کلام میں بارہا بیان کیا۔ اگر ہم اس راز کو پالیں، تو ہماری زندگی حقیقی معنوں میں با مقصد اور بامعنی ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں وہ نگاہِ شوق عطا کرے جو مقامِ بندگی کے شایانِ شان ہو۔ آمین!

مزیدخبریں