پینٹا گون اور ٹرمپ کی لڑائی میں مڈل ایسٹ کی لاٹری

یہ مسلم نیٹو کی طرز کا ایک معاہدہ ہے جو آنے والے وقت میں وسیع ہوتا جائے گا۔ مشرقِ وسطیٰ کی اس وقت یہ مجبوری بن چکی ہے کہ وہ امریکی سکیورٹی گارنٹی کی چھتری سے نکل کر کسی نئے عالمی پلیئرز کی جانب بڑھے۔ پاک بھارت حالیہ جنگ کا اثر اس وقت دنیا سمیت سب سے زیادہ مشرقِ وسطیٰ پر ہے، جہاں وہ چین اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔

10:57 PM, 18 Sep, 2025

عظیم بٹ

امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ دورِ حکومت میں جہاں دنیا خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہے کیونکہ ٹرمپ ایک غیر روایتی اور غیر متوقع شخصیت ہیں، وہیں سب سے زیادہ خوف اور مسائل کا شکار پینٹاگون کے پالیسی ساز ہیں۔ پینٹا گون میں اسرائیلی تسلط اور دہائیوں پر مبنی پرو اسرائیل پالیسی جہاں امریکی اسٹیبلشمنٹ میں رچ بس گئی ہے، وہیں ٹرمپ اس سے جان چھڑوانے کے حامی ہیں۔ دہائیوں سے امریکہ کا طرزِ عمل ممالک کے مابین جنگوں کا انعقاد اور بعدازاں اسلحے کی سپلائی سے خود کو مضبوط کرنا رہا ہے، وہیں ٹرمپ کی معاشی پالیسی اسلحہ سازی کی بجائے دیگر امورِ معیشت پر منحصر ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ قطر پر حملہ امریکی پشت پناہی میں ہوا ہے اور ٹرمپ اس کا علم رکھتے تھے، مگر اس کے حامی ہر گز نہیں تھے۔ پینٹا گون سے غلطی اس معاملے میں ہوئی کہ انہوں نے قطر کو لیبیا، شام، عراق سمجھا جو کمزور ممالک تھے اور اندرونی و بیرونی چپقلش اور جنگوں میں مصروف تھے، مگر قطر ایک مضبوط اور پُر امن ملک رہا ہے جس کے سفارتی تعلقات پورے مڈل ایسٹ سمیت دنیا بھر کے اہم ممالک سے پائیدار ہیں۔ دوسری غلطی امریکہ بہادر سے یہ ہوئی کہ قطر کو باقاعدہ سکیورٹی گارنٹی دینے کے باوجود حملے کو نہ رُکوا سکا، بلکہ اس کے کروانے میں مددگار بھی رہا۔

مڈل ایسٹ میں امریکی موجودگی کا سب سے بڑا انحصار قطر میں موجود امریکی اڈہ ہے جو سکیورٹی اور امن کے عوض اسے ملا ہوا ہے۔ جب دنیا کی سُپر پاور کہلائی جانے والی ریاست کی سکیورٹی کونسل کو ایک متنازعہ ملک پاش پاش کر دے گا، تو اربوں ڈالر کی معیشت رکھنے والا مڈل ایسٹ قطعی دوبارہ اس پر انحصار نہیں کر پائے گا۔ پاکستان اور سعودیہ کے مابین ہونے والا باہمی دفاعی معاہدہ صرف پاکستان اور سعودیہ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ آنے والے عرصے میں اس کو باقاعدہ بھٹو فارمولہ کے تحت مسلم بلاک کے اتحاد میں بھی تبدیل کیا جائے گا، جس کا مقصد کسی بھی مسلم ملک پر حملہ مسلم اتحاد پر حملہ سمجھا جائے گا۔

یہی وجہ تھی کہ سعودیہ اور پاکستان کے مابین ہونے والے اس معاہدے کے بعد بھارتی میڈیا نے یہ رپورٹ کیا کہ انہیں اس معاہدے کے بارے میں معلومات موصول ہو گئی تھیں اور یہ مسلم نیٹو کی طرز کا ایک معاہدہ ہے جو آنے والے وقت میں وسیع ہوتا جائے گا۔ مشرقِ وسطیٰ کی اس وقت یہ مجبوری بن چکی ہے کہ وہ امریکی سکیورٹی گارنٹی کی چھتری سے نکل کر کسی نئے عالمی پلیئرز کی جانب بڑھے۔ پاک بھارت حالیہ جنگ کا اثر اس وقت دنیا سمیت سب سے زیادہ مشرقِ وسطیٰ پر ہے، جہاں وہ چین اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔

سعودیہ عرب بھی دفاعی ہتھیاروں کا بڑا خریدار ہے اور امریکہ سے گزشتہ برس ہی تقریباً 142 ارب ڈالر کے اسلحے کو سعودیہ نے خریدا ہے۔ سعودیہ کے پاس جدید ہتھیار موجود ہیں جس کیلئے ماہرانہ مہارت اور صلاحیت پاکستان نے 9 اور 10 مئی 2025 کو ثابت کی ہے۔ یہاں ایک بات کا تذکرہ بہت اہم ہے کہ پاک سعودیہ معاہدہ اچانک نہیں ہوا، پاکستان اس معاہدے کو کئی عرصے سے کرنا چاہ رہا تھا اور گزشتہ ایک برس سے اس میں تیزی کی گئی تھی، لیکن سعودیہ اس معاہدے کو پاکستان سے کرنے میں ہچکچا رہا تھا۔ مگر پاک بھارت مختصر جنگ نے سعودیہ کی ہچکچاہٹ کو نہ صرف دور کیا، بلکہ امریکہ سے بنا باقاعدہ اجازت لئے اس معاہدے کو پاکستان سے کیا گیا۔

گزشتہ برس فنانشل ٹائمز نے یہ لکھا تھا کہ امریکہ سعودیہ سے دفاعی معاہدے کے عوض اسرائیل سے تعلقات کو نارمل کرنے کی شرط رکھ رہا ہے اور ابراہمک معاہدے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ لہذا اس بات کو بالکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ جس معاہدے کے عوض عرب ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کرانے کی شرط رکھ رہا تھا، وہ امریکہ کی بجائے سعودیہ نے پاکستان سے کر کے باقاعدہ ایک سفارتی پیغام رسانی کر دی ہے کہ سعودیہ کا انٹرسٹ اس بار عرب اور مسلم بلاک کی جانب امریکہ سے زیادہ ہے۔

پاکستان کا نیوکلیئر واحد اسلامی ملک ہونا اسے دنیا میں نمایاں کرتا ہے، لیکن گزشتہ 15 سالوں سے پاکستان پر دہشتگردی اور ان کی پشت پناہی کا جو داغ تھا وہ گہرا ہوتا جا رہا تھا اور دنیا پاکستان کو افغانستان اور ساوتھ ایشیاء کے حوالے تک محدود کر رہی تھی، مگر بنیان المرصوص کے بعد ساری دنیا اور بالخصوص عرب دنیا نے پاکستان کو ایک عالمی پاور سرکل میں شامل کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا سکیورٹی گارنٹی شفٹ جہاں امریکہ کیلئے سیاہ باب ثابت ہو رہا ہے، وہیں چین، روس کیلئے ایک اہم پیشکش بھی لا رہا ہے۔

یہ اتحاد جس راہ چل پڑا ہے اگر اپنے اہداف کو حاصل کرے تو اقوامِ متحدہ کا پلیٹ فارم بے معنی ہو جائے گا اور نیا پلیٹ فارم بھی وجود میں آ سکتا ہے۔ کسی بھی عالمی امور کے طالب علم کو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ جب کسی ملک کے سفارتی معاملات میں بہتری آتی ہے تو اس کے معاشی معاملات میں بھی بہتری آنا یقینی ہوتا ہے۔ لہذا چند نادان گروہوں کا یہ تاثر دینا کہ سعودیہ معاہدے اور عالمی دورے پاکستان کے اندرونی حالات کو ٹھیک نہیں کر سکتے، یہ ایک انتہائی نامعقول اور بیوقوفانہ بیانیہ ہے۔

پاکستان کی پالیسی اس وقت متوازن نہیں بلکہ باقاعدہ ایک واضح مؤقف کے ساتھ دنیا بھر میں لیڈ کرتی نظر آ رہی ہے، جہاں اسرائیل کے خلاف واضح مؤقف اور عرب مسلم ممالک کے ساتھ اتحاد، وہیں چین کے ساتھ ہمیشہ کی طرح بہترین تعلقات اور سب سے اہم روسی صدر سے ملاقات اور پاکستان سے شراکت داری بڑھانے کی پیشکش — وہ روس جس سے تیل کی خریداری پر امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگایا، مگر پاکستان کے خلاف ایک بیان بھی وائٹ ہاؤس جاری نہ کر سکا کہ روسی صدر سے ملاقات کیوں کی گئی۔ ایران اور سعودیہ کے مابین ثالثی کرا کے ایران کے ساتھ کھڑا ہونا، سعودیہ سے دفاعی معاہدہ کرنا اور امریکہ کے ساتھ بھی اپنے مفادات کے عوض بہترین تعلقات کو قائم رکھنا پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی بار ہے، جو کسی بھی عجوبے سے کم نہیں ہے۔

مزیدخبریں