Type to search

شاعری قومی کتاب ورثہ

نامور شاعر ساغر صدیقی کی 45ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

حالات کے مارے درویش شاعر ساغر صدیقی کی 45ویں برسی آج منائی جارہی ہے، 19 جولائی 1974 کی صبح ساغر صدیقی موہنی روڈ پر ایک سکول کی دیوار کے ساتھ فٹ پاتھ پر مردہ پائے گئے تھے۔ ساغر کی زندگی جتنی گمنام اور خاموش تھی اتنی ہی خاموش موت بھی انہیں نصیب ہوئی۔

ساغر کا شمار اردو زبان کے ان چند شاعروں میں ہوتا ہے جن کے شعر تو لوگوں کو یاد ہیں لیکن وہ ان شعروں کے خالق کو نہیں جانتے۔ ساغر کی اپنی زندگی کی کہانی بھی ایک بھلا دیئے گئے شخص کی کہانی ہے یہاں تک کہ اس نے خود اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایک خود فراموشی کے عالم میں بسر کیا۔ اردو زبان کو لطافت بخشنے والے اس عظیم شاعر کا کلام آج بھی زندہ ہے۔

بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے
تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے
منزل نہیں ہوں ، خضر نہیں ، راہزن نہیں
منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجیے

ساغر صدیقی کا اصل نام محمد اختر تھا، وہ انبالہ کے ایک متوسط درجے کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی ابتدائی زندگی کے حوالے سے معلومات بہت کم ہیں لیکن یہ سب جانتے ہیں کے ساغر نے کم عمری میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ شاعری کے ابتدائی دور میں انہوں نے ناصر حجازی کے تخلص سے لکھا لیکن بعد میں ساغر صدیقی کے نام سے خود کو منوایا۔

ساغر نے  16 سال کی عمر میں باقاعدہ طور پر مشاعروں میں حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ وہ جالندھر، لدھیانہ اور گورداسپور میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں حصہ لیتے تھے۔ ساغر کی آواز میں بلا کا سوز تھا اور وہ اپنے اشعار ترنم کیساتھ پڑھتے تھے۔ ساغر کی اصل شہرت 1944 میں ہوئی جب امرتسر میں ہونے والے ایک بڑے مشاعرے میں انہوں نے حصہ لیا۔ اس شب انہوں نے صحیح معنوں میں مشاعرہ لوٹ لیا۔

1947 میں قیام پاکستان کے بعد ساغر بھی ہجرت کر کے لاہور آگئے، اس وقت تک وہ مشاعروں کے بڑے کامیاب شاعر بن چکے تھے۔ یہاں فنون لطیفہ سے منسلک لوگوں نے ساغر کے کام کو ہاتھوں ہاتھ‍ لیا، ان کا کلام مختلف پرچوں میں چھپنے لگا، فلم بنانے والوں نے ان سے گیتوں کی فرمائش کی تو ساغر کے لکھے گیت سپر ہٹ ہوئے۔

اسی عروج میں ساغر کی ذاتی زندگی کا زوال شروع ہوا، وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہوئے اور پھر سخت مالی بدحالی کا شکار ہو گئے، اسی دوران انہیں منشیات کی لت پڑ گئی جو ان کی موت کی وجہ بھی بنی۔

کچھ حال کے اندھے ساتھی تھے، کچھ ماضی کے عیار سجن
احباب کی چاہت کیا کہیے، کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے

غربت اور نشے کی لت نے ساغر کو کہیں کا نہیں چھوڑا، لیکن اس دور میں بھی ان کی شاعری کمال کی تھی۔ ساغر کوا ن کے اپنے دوستوں نے لوٹا اور منشیات کے عوض ان سے فلمی گیت اور غزلیں لکھوائیں اور اپنے نام سے شائع کرائیں۔

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

ساغر صدیقی کی وفات کے بعد ان کے کل چھ شاعری مجموعے منظر عام پر آئے۔ درویش شاعر ساغر صدیقی کی آخری آرام گاہ لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں ہے۔

محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *