Type to search

انسانی حقوق خبریں صحت فيچرڈ

قومی نیوٹریشن سروے، سندھ میں 50 فیصد بچے نامکمل نشونما کا شکار

پاکستان میں بچوں اور خواتین میں غذائی قلت ہولناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ غربت ہے، غذائی کمی کی وجہ سے پاکستان کے نصف فیصد سے زائد گھروں میں غذائی قلت کا سامنا ہے جبکہ کم آمدن والے گھرانوں میں 2 وقت کا کھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک میں 40.2 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں،جبکہ صوبہ سندھ میں 50 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ملک میں پیدا ہونے والے لو برتھ ویٹ بچوں کی شرح 20 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔

کراچی میں منعقدہ تقریب میں حکومت نے قومی غذائی سروے رپورٹ 2018 جاری کردی ، صوبائی وزیر صحت عذرا فضل پیچوہو، سیکرٹری صحت سعید اعوان، ڈی جی ہیلتھ مسعود احمد سولنگی، ڈائریکٹر نیوٹریشن ڈاکٹر بصیر خان اچکزئی اور دیگر کی شرکت کی ۔

سندھ بھر میں کیے گئے سروے رپورٹ کے مطابق صوبے کے 18,768 گھروں کے پانچ سال اور اس سے کم عمر کے بچوں اور حاملہ خواتین کی غذائی صورتحال کا تعین کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ میں پانچ سال سے کم عمر کے 50 فیصد بچے نامکمل نشوونما کے مسئلے کا شکار ہیں جبکہ 5 سے دس سال کی عمر کے بچوں میں بھی ناکافی نشونما کے سنگین مسائل درپیش ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 5سال سے کم عمر کے بچوں میں سے 40 فیصد بچے وزن کی کمی جبکہ 5 فیصد وزن کی زیادتی کا شکار ہیں۔ صوبے میں 40 فیصد نوبالغ لڑکے اور لڑکیاں خون کی کمی کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 5-2 سال کے 10 فیصد بچے فنکشنل معذوری کا شکار ہیں۔

یہ سروے حکومت برطانیہ کے تعاون سے آغا خان یونی ورسٹی اسپتال کی جانب سے کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے اعداد و شمار جمع کیے گیے ہیں۔

قومی نیوٹریشن سروے میں ملک میں غذائی قلت کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، سندھ، فاٹا اور بلوچستان میں غذائی قلت کی شرح میں اضافہ ہوا، اس نیوٹریشن سروے میں پہلی بار ضلعی سطح پر اعداد و شمار جمع کیے گئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ 1 لاکھ 15 ہزار 600 گھرانے نیشنل نیوٹریشن سروے کا حصہ تھے، جس کے لیے برطانیہ نے 9 ملین ڈالر فنڈز فراہم کیا، اور اس سروے کی سربراہی ڈاکٹر بصیر اچکزئی نے کی۔

سروے میں غربت کی شرح، صاف پانی تک رسائی کو پرکھا گیا، اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا، سروے کی تکمیل کے بعد وزارت صحت، یونی سیف اور تھرڈ پارٹی نے بھی اس کا جائزہ لیا ہے۔

ذرایع کے مطابق سروے میں خواتین اور بچوں سے خون اور دیگر اعضا کے نمونے لیے گئے، ان کا وزن، قد، بازو کی پیمایش کی گئی، سروے میں کم عمر بچوں، بچیوں پر خصوصی توجہ دی گئی، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔

خیال رہے کہ ملک میں گزشتہ قومی نیوٹریشن سروے 2011 میں کیا گیا تھا، اس کے بعد اب سروے کیا گیا ہے۔

 

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *