Type to search

خبریں سیاست فيچرڈ

مریم نواز کو پریس کانفرنس سے پہلے کس کی کال آئی؟

مریم نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہ انہیں آج پریس کانفرنس سے قبل فون آیا اور ایک شخص نے تعارف کرایا کہ وہ کسی ادارے کے سربراہ کا  پی اے بول رہا ہے جبکہ ادارے کے سربراہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں،مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب اس شخص سے بات ہوئی تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ شخص جھوٹ بول رہا تھا اور اس ادارے کا نام استعمال کررہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کے سربراہ کو خط لکھوں گی۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں نے اسے کہا کہ آپ وہ نہیں ہیں آپ جھوٹ بول رہے ہیں تو دوسری جانب سے فون بند کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ مریم نواز نے آج ایک پریس کانفرنس کی جسے میڈیا نے سینسر کر دیا ان کا اپنی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ  جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ان کو کٹہرے میں لایا جائے اور کیس کا ری ٹرائل کرنے کے بجائے نواز شریف کو باعزت بری کیا جائے۔

مریم نواز نے کہا کہ حکمران خوفزدہ ہیں، اسی لیے گرفتاریاں کی جا رہی ہیں، سنسرشپ ہو رہی ہے۔ فیصل آباد اور منڈی بہاوالدین کے جلسوں نے ان کو پریشان کر دیا ہے۔ امریکا میں بھی نواز شریف عمران خان کے اعصاب پر سوار ہیں۔

انہوں نے مزید کہ  مجھے معلوم تھا کہ ویڈیو ریلیز کرنے کے بعد ایکشن ہو گا اور وہی ہوا پھر سے عدالت طلب کر لیا گیا ہے، وہاں ضرور پیش ہوں گی یہ دیکھنے کے لیے اب ان کی یادداشت کیوں واپس آئی ہے۔ پچھلی جمعرات میاں صاحب سے ملاقات کے دوران جیل کے سرکاری ڈاکٹرز یہ رپورٹ لیکر آئے وہ کافی نروس لگ رہے تھے آکر کہا کہ سر آپکی بلڈ شوگر کافی دن سے زیادہ آرہی ہے تو میاں صاحب نے کہا آپ نے تو کئی دن سے میں بلڈشوگر چیک ہی نہیں کی۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں میاں صاحب کی بیٹی ہوں لیکن مجھے کسی نے اطلاع نہیں کی کہ میاں صاحب کو انجائنا ہورہا ہے بلڈ پریشر ہائی ہے بلڈ شوگر ہائی ہے یہ میرا حق تھا کہ مجھے بتایا جاتا۔

مریم نواز کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کی طرح غیر ذمہ دار نہیں کہ اداروں کو گھسیٹوں لیکن یہ بھی نہیں چاہتی کہ معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچیں اگر معاملات وہاں تک پہنچ گئے تو سب کچھ بتا دوں گی ، پردوں کے پیچھے جو کھیل کھیلا جا رہا ہے عوام کا اس کے بارے میں جاننا حق ہے ۔ گر کسی کو یہ زعم ہے کہ وہ آواز بند کر سکتا ہے تو مشرف کا حال سب کے سامنے ہے،

مریم نواز نے کہا میرا مسئلہ کہرام مچانا نہیں ہے۔ ری۔ٹرائل کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ مجھے ری۔ٹرائل نہیں چاہیے۔ کیا گارنٹی ہے کہ کل کو ری ٹرائل میں کیس جائے اور اُس جج کو بھی بلیک میل نہیں کیا جائے گا؟

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *