LOADING

Type to search

بلاگ تجزیہ جمہوریت حکومت سیاست

کاغذی اور حقیقی پاکستان

تحریر: (عبدالقیوم خان کنڈی) میں اپنے کئی مضامین میں اس بات پر روشنی ڈال چکا ہوں کے پاکستان ایک تضادات سے بھرپور معاشرہ ہے اور یہ تضادات ہماری جڑوں میں گہرائی تک بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایسا ہی ایک تضاد کاغذوں اور حقیقی پاکستان میں نمایاں فرق بھی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کے سیاستدان بہت کرپٹ ہیں مگر اب تک کتنے سیاستدان ہیں جنہیں کرپشن پر سزا دی گئی ہے، ایک بھی نہیں۔۔۔ نواز شریف بھی کرپشن پر نہیں بلکہ اقامہ پر اندر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم کاغذ پر سیاستدان کرپٹ نہیں ہیں۔

مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے نہ صرف سیاستدان بلکہ معاشرے کے زیادہ تر لوگ کسی نہ کسی طور پر کرپشن کا حصہ ہیں۔ تقریباً سارے سیاستدان کہتے ہیں کہ پچھلے الیکشن میں سیاسی انجینرنگ ہوئی اور کچھ حکومتی اداروں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے ان کے پسندیدہ لوگوں کو الیکشن جتوایا گیا۔ میں اس بات پر قائل ہوں کے ایسا ہوا اسی لیے اس بات کا تقاضہ کیا کہ پارلیمانی کمیٹی بنا کر اس کی حقیقت معلوم کی جائے۔

سیاستدان کہتے ہیں کہ وہ کرپٹ نہیں ہے اور ان پر غلط الزامات ہیں اور میڈیا ٹرائل کے بجائے عدالتوں میں اس بات کو ثابت کیا جائے۔ اسی طرح میرے کچھ بہت ہی اچھے مہربان فوجی جرنل کہتے ہیں کہ فوج نے کوئی سیاسی انجینرنگ اور الیکشن میں دھاندلی نہیں کی اور یہ غلط الزام ہے، وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ میڈیا ٹرائل کے بجائے ثبوت فراہم کیے جائیں۔

اگر ان دونوں کی بات مان لی جائے تو کاغذوں میں نہ پاکستان میں کسی نے کرپشن کی اور نہ فوج نے سیاسی انجینرنگ کی۔ مگر کیا کوئی بھی شخص حقیقی پاکستان میں یہ ماننے کو تیار ہے کہ یہ بات درست ہے۔ سیاستدان اور فوج دونوں موجودہ جمہوری نظام کو بنانے والے ہیں اور دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ کام ایسے کیا جائے کہ ثبوت کوئی نہ ہو۔ اکثر احکام زبانی طور پر دیے جاتے ہیں جس کو پکڑنا مشکل ہے۔

الیکشن سے پہلے بہت لوگوں نے یہ الزام لگایا کہ انہیں ٹیلیفونوں پر کہا گیا کہ وہ تبدیلی برگیڈ کا حصہ بن جائیں۔ یہ بھی کچھ لوگوں نے کہا کہ ٹیلیفون پر احکام ملے کے الیکشن نتائج کو جمع کرنے کا جو جدید نظام بنایا گیا تھا اسے بند کر دو۔ آجکل بھی لوگ کہتے ہیں کہ ٹیلیفون پر احکام ملتے ہیں کے فلاں کا انٹرویو چلانا ہے اور فلاں چینل کو بند کرنا ہے۔

کاغذی پاکستان میں بہت کم لوگ امیر ہیں اور اسی لیے وہ ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مگر حقیقی پاکستان میں پیسے کی فراوانی ہے اور لوگوں کے پاس کئی کئی مہنگی گاڑیاں اور گھر ہیں۔ یعنی کاغذ پر سب اچھا ہے اور اس کی اہم وجہ قوانین اور قاعدے پر عمل نہ کرنا ہے اور یہ ہمارے قومی رجحانات کا حصہ ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ایک نہیں دو پاکستان ہیں ایک فرضی جو کاغذوں میں ہے اور ایک حقیقتی جس کا سامنا میں اور آپ روز کرتے ہیں۔

کاغذوں میں بے تحاشا اور بہت اچھے قوانین ہیں مگر حقیقت میں لاقانونیت ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔ بچپن سے ہمیں یہ تربیت دی جاتی ہے کہ قانون پر عمل بیوقوف لوگ کرتے ہیں اور عقلمند وہ ہے جو اپنا کام نکال جائے۔ یعنی ہمیں تربیت ہی یہ دی جاتی ہے کہ قوانین بیوقوفوں کیلئے ہیں جبکہ عقلمند اور طاقتور اس سے بلاتر ہیں۔ اب کون شخص ہے جو اپنے آپ کو بیوقوف کہلوانا چاہے گا۔

ہمارے والدین، اساتذہ اور بزرگ سب اپنے عمل سے لاقانونیت کی مثالیں قائم کرتے ہیں، یہی نہیں ہم میں صبر کی بھی کمی ہے اور ہم ہر کام جلدی کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ٹریفک کی بتی سرخ ہو بھی تو لوگ آگے نکل جاتے ہیں۔ اگر بتی سرخ ہے اور روڈ خالی ہے تو کیا آدمی کو قانون شکنی کر کے آگے بڑھ جانا چاہیے۔ جب ہم پاسپورٹ یا شناختی کارڈ بنانے جاتے ہیں اس وقت بھی ہم یہی چاہتے ہیں کہ ہمارا کام سب سے پہلے ہو چاہے اس کیلئے ضوابط کو ہی کیوں نہ توڑنا پڑے۔

میں عمران خان کو تبدیلی کا لیڈر اس لیے نہیں سمجھتا کہ انہوں نے اپنے پیرو کاروں اور خاص طور پر نوجوانوں کو لاقانونیت کی ترغیب دی اور قانون توڑنے پر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ایک وزیر ایک دن میں کئی امتحانی پرچوں میں کامیاب ہوا، دوسرا وزیر بیلٹ باکس چراتے ہوئے موقع پر پکڑا گیا، تیسرا کئی بینکوں کا لون ڈیفالٹر ہے اور اب ایمانداری کا درس دیتا ہے۔ غرض تمام ٹیم ایسے ہی لوگوں پر مشتمل ہے۔ الیکٹیبل بھی وہ لوگ کہلاتے ہیں جو الیکشن میں دھاندلی پر مہارت رکھتے ہوں اور اپنی پسند کی ووٹ گنتی پر عبور رکھتے ہوں۔ کیا ایسا لیڈر اور ایسی ٹیم نئی نسل کو اور قوم کو صحیح راستے پر لے جا سکتے ہیں؟ انسانی تاریخ میں آج تک ایسا نہیں ہوا۔

اب ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم ایک انتہائی کرپٹ، لاقانون اور بے انصاف معاشرے میں رہ سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنی نظر میں اور دنیا کی نظر میں ایک اچھا معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہم سب کو اپنے آپ کو بدلنا ہوگا۔ کاغذی اور حقیقی پاکستان کے درمیان فرق کو مٹانا ہوگا۔ اس عمل کا پہلا قدم یہ ہوگا کہ ہم اپنے معاشرے کو ایک نئی طرح سے مرتب کریں۔ اس عمل میں پہلا قدم سیاستدانوں کو اٹھانا ہوگا اور ایک نئی جمہوریہ کی تعمیر کیلئے لوگوں کا اکھٹا کرنا ہوگا۔ اصلاحی تحریک ہمیشہ چند لوگوں سے شروع ہوتی ہے اور پھر اسے گھر گھر پہنچانا ہوتا ہے، انشاءاللہ اس پر اب ہمیں کام کرنا چاہیے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *