LOADING

Type to search

بین الاقوامی سیاست تجزیہ سیاست

قصہ "سب ایک پیج پر” کا

تحریر :(راجہ مہتاب علی) تمام قومی و ریاستی ادارے ہی نہیں پاکستان کے تناظر میں عالمی طاقتیں بشمول امریکہ اور چین، کارپوریٹ ورلڈ اور عالمی ادارے آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، اقوام متحدہ اور اسکے ذیلی ادارے بھی ایک پیج پر ہیں اور وہ پیج ہے اس ملک کی 22 کروڑ عوام سے‏انکے سیاسی اور شہری حقوق چھیننے کا۔

ریاستی اداروں پر بات ہوتی رہتی ہے مگر عالمی طاقتوں اور اداروں کو اس تناظر میں بہت کم زیر بحث لایا جاتا ہے۔ امریکہ اور چین کی بات کی جائے تو بظاہر وہ خطے میں اپنی ترجیحات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے حریف ہیں مگر گزشتہ دو سال سے جس طرح امریکا نے ‏پاکستان کی مدد سے چین کو سی پیک کے حوالے سے بیک فٹ پر کیا ہے، چین پاکستان کے اندرونی معاملات خاص طور طاقتور حلقوں کی کوئی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتا۔ سی پیک سے پاکستانی عوام کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکتے تھے مگر امریکی جادوگری اور تحریک انصاف کی کرسی کی حرص نے اس خواب ‏کے آگے "خاموش ڈپلو میسی” کا بند باندھ دیا ہے۔

چین جس دبنگ انداز میں پاکستان میں باجوں تاشوں کے ساتھ سی پیک کی بارات لانے کا خواہشمند تھا، اب رات کے اندھیرے میں چھپ چھپا کر ہی منہ کالا کرواے گا نیز یہ کہ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں جیسے نعرے چین کی لغت کا حصہ ہی نہیں جو تھوڑا ‏بہت پاس چین کرتا تھا یا کرتا ہے وہ بھی مغربی میڈیا یا مغربی ممالک کے زہریلے پروپیگنڈے کو غلط ثابت کرنے کے لیے۔

 سنکیانگ میں یغور مسلمانوں کے عقوبت خانوں کی کہانیاں اس پر مغربی ممالک کا ردعمل، مغربی میڈیا کی انسانی حقوق کا چولا پہن کر تنقیدی رپورٹیں اور بالاخر چین کی طرف سے ‏ان عقوبت خانوں کو بند کرنے کا دو روز قبل ہونے والا ڈراپ سین دراصل چین کی طرف سے "انسانی حقوق” کے چورن کی افادیت کا اعتراف نہیں بلکہ مجبوری ہے۔

قصہ مختصر کہ اگر چین کو اپنے شہریوں کے "حقوق” سے کوئی لینا دینا نہیں تو پاکستانی شہریوں کے لیے وہ درد سر کیوں لے۔ ایجنڈا تو سی پیک ہے ‏دھوم دھڑکے سے نہ سہی چھپ چھپا کر بچ بچا کر سہی اگرچہ پاکستانیوں کو کچھ اس سے کچھ فائدہ ضرور ہوتا مگر اب چین تیل اور تیل کی دھار دیکھ رہا ہے بات تیل کی طرف چل نکلی ہے تو عرب ممالک اور امریکا پاکستان کے تناظر میں ایک ٹیم ہیں جس طرح ریاستی اداروں کو پتہ ہے کہ قوم کن ” بڑھکوں” پر ‏خوش ہوتی ہے۔

اسی طرح عرب ممالک اور امریکا بھی جانتے ہیں کہ پاکستانی کس کس جذبے سے مغلوب ہو کر رضاکارانہ طور پر ان کے اتحادی بننے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اسکی دو بڑی مثالیں امریکی صدر کا مسئلہ کشمیر پر پھر سے ثالثی کا بیان ہے۔ پاکستانیوں کو کشمیر کا نعرہ لگا کر ‏کو مرضی کام لیا جا سکتا ہے۔

ثابت ہو گیا کہ وزیراعظم کی خارجہ پالیسی کامیاب ہے کیونکہ عمران خان کی ولولہ انگیز قیادت نے ٹرمپ کو مٹھی میں لے رکھا ہے اور ٹرمپ مٹھی سے اور کشمیر بھارت سے انشاءاللہ اکٹھے ہی آزاد ہونگے۔

ٹرمپ کے کے بیان کے بعد یوں لگا کہ پیٹرول کی گزشتہ دنوں ، بڑھنے والی قیمت رات گئی بات گئی والا معاملہ ہو گیا ہے۔وزیراعظم کے "کامیاب”دورہ امریکا کے بعد جب اس دورے کے معروضی پہلوؤں پر بات ہونا شروع ہوئی اور سوال اٹھنے لگے کہ دورہ کامیاب کیسے ہے؟ کتنے ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں تو امریکی دفتر خارجہ کا بیان ‏یوں پہنچا جیسے جائے دھماکہ پر ایدھی سروس پہنچتی ہے۔

امریکی دفتر خارجہ نے کھٹ سے 126 ملین ڈالر امداد کا اعلان کر دیا۔ حب الوطنی کے جذبات سے عاری کچھ ” غدار پاکستانیوں” نے توجہ دلاؤ نوٹس بھی جاری کیا کہ بھائی یہ امداد اس صورت ملے گی جب پاکستان کے مہاویر ایف سولہ طیارے کسی ناگہانی صورتحال میں خدانخواستہ زخمی ہو جائیں گے تو! اور چونکہ امریکا سے ڈیل کے تحت یہ طیارے بھارت کے خلاف جنگ میں استعمال ہی نہیں ہو سکتے اور یہ جدید جنگی طیارے ہیں غریب کی قسمت نہیں جو بات بے بات کسی متشدد صورتحال سے دوچار رہے۔

امریکا ہمارے جذبہ حب الوطنی سے کھیل کر دراصل ‏افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا کے لیے حکومت وقت اور مقتدر حلقوں سے اپنی مرضی کی سہولیات چاہتا ہے تاکہ ٹرمپ 2020 کے انتخابات میں قوم کو بتا سکے کہ جو 60 ارب ڈالر 18 سال سے افغان جنگ میں جھونکا جا رہا ہے، دیکھو ٹرمپ شہزادے نے بچا لیا۔

افغانستان سے نکلنے کے لیے اسے پاکستان کا کندھا  ‏درکار ہے اور حکومت وقت کو امریکی حمایت، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانیوں گھبرانا نہیں، یہ سب مل کر آپکو پاگل بنا رہے ہیں۔ پاکستانیوں کا پارہ جب کبھی چڑھ جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر "انسانی حقوقِ ” کی آزادیوں یا زیر عتاب سیاسی جماعتوں کی ولولہ انگیزی ٹاپ ٹرینڈ بن جاتی ہے تو ‏بیچ بیچ میں برادر عرب ممالک یا اسلامی انقلابی ملک ملائیشیا جیسے ممالک کوئی دلفریب وعدہ پورا کرنے کا بیان یا کسی انتہائی مقدس مقام کی تازہ ویڈیو اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ تجیلیوں کا سیلاب انقلاب کے بخار پر ڈسپرین کی گولی کی دو گولیوں کی طرح اثر کرتا ہے اور خلق خدا روحانی جذبے سے سرشار ‏ہو کر ” سیاسی جدوجہد” سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔

نظریات و جذبات کے طلاطم میں گھرا قوم نما چوں چوں کا یہ مربع بھارتی وزیراعظم کے کسی نفرت انگیز بیان کو بھی بہت شدت سے دل پر لیتا ہے ایسی صورتحال میں اپوزیشن بھی بیک فٹ پر چلی جاتی ہے اور مجبورا "ملکی مفاد میں قومی اتحاد ” کا مظاہرہ ‏کرنے لگتی ہے۔ چینی 52 سے کب 74 کی ہو گئی اور پیٹرول کے ساتھ خود کشی کی کوشش بھی کتنی مہنگی ہے بھلا دیا جاتا ہے ۔کچھ بات کر لیں کارپوریٹ ورلڈ اور عالمی اداروں کی تو بھائی ” مائی بھلی کہ کھائی” اقوام متحدہ صرف اتنے انسانی حقوق کی ترجمان ہے جتنے، اسکی‏ ضرورت ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کی فنڈنگ چونکہ کارپوریٹ ورلڈ کرتا ہے لہذا وہ اپنے ایجنڈے پر کام کرتے ہیں، انکے ایجنڈے میں سر فہرست ٹریڈ یونیز اور شہری تنظیموں کا خاتمہ ہے جو دنیا کی ان طاقتور کمپنیوں سے اپنے حقوق منواتی ہیں۔ پاکستان کی فضا ان کمپنیوں کے لیے بڑی سازگار ہے۔ ‏اس لیے کہ مزدور، کسان اور طلبا تنظیموں کو ہم 80 کی دہانی ہی میں ختم کر چکے ہیں جو کوئی "انسانی حقوق ” کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ہیں وہ خود ان ڈونرز کی امداد کی مرہون منت ہیں جو "صارفین اور انسانی حقوق” کے اصل شکاری ہیں ان میں سے زیادہ تر تنظیمیں کارپوریٹ ورلڈ کے ایجنڈے پر ‏کام کرتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں صارفین کے حقوق کا عالمی دن ان تنظیموں کے مالی تعاون سے منایا جاتا ہے جو خود صارفین کے ساتھ برس ہا برس سے دھوکہ کرتی آ رہی ہیں۔

کچھ دانشور جو دراصل انسانی خدمت اور ہمدردی کے جذبہ سے سر سے پاوں تک نچڑ رہے ہیں وہ الزام دیتے ہیں کہ پاکستانی ‏قوم ہے ہی غلط انکے ساتھ کچھ بھی ہو جائے یہ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نہیں آتے اپوزیشن کی مشکیں کسی جا چکی ہیں ،وہ چاہ کر بھی احتجاجی مظاہروں کی سربراہی نہیں کر پائے گی، کیونکہ جیل سے احتجاجی تحریک کی قیادت نہیں کی جا سکتی مایوسی کے عالم میں وہ عوام کو گالیاں دینے لگتے ہیں کہ وہ ‏احتجاج کیوں نہیں کرتے ان ہمدرد انسانیت اور عقل کل نما دوستوں سے دست بستہ عرض ہے کہ جسطرح کھمبے سے گھر تک بجلی لانے کے لیے تار کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح عوامی احتجاج کے لیے تنظیموں کا ایک پورا نیٹ ورک ہوتا ہے جس کی جڑوں میں مرد مومن مرد حق ضیاالحق ضیاالحق صاحب نے اسی کی ‏دہانی میں سہاگہ پھیر دیا تھا۔

احتجاج ایک منظم عمل کا نام ہے جس کے واضح اغراض و مقاصد اور متبادل بیانیہ ہوتا ہے اور وہ بیانیہ ایک پورے نیٹ ورک کا محتاج ہوتا ہے جب تنظیموں کا نیٹ ورک ہی نہیں تو بیانیہ کیا کر لے گا جسطرح آپکی گلی کے ٹرانسفارمر کو بھلے ہی 24/7 بجلی مل رہی ہو ‏تار ہی آپکے گھر تک نہ آتی ہو تو آپ اس نعمت سے مستفید کیسے ہونگے۔ سو قصہ مختصر یہ ہے کہ آپ نے گھبرانا نہیں۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *